1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $420.00
    اعلان ختم کریں
  2. اردو محفل سالگرہ چہاردہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی چودہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

سچا عشق

نور وجدان نے 'آپ کی تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 12, 2019 5:02 صبح

  1. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,227
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    فیضِ چاہت ، محبت کی روایت میں اک جُنون زادی کھو گئی ، عشق کی اس چاہت میں پرواز فلک تک تھی ۔ اسکی محبت ، اسکی پہچان بن گئی ۔ عشق کی ناتمامی کی آگ نے اسے سوز و جلن کی اس اعلیٰ کیفیت سے دو چار کیا ، جس میں تو ،تو نہ رہا ،میں نہ رہا مگر یار رہا کی بات صدق آئی ۔ اس کو عشق میں تن ،من کی لگن لاگی ، جنون کی رت سے چین کی بانسری چھین لی اور وہ جوگن بن گئی ۔ لوگ اس پگلی پر حیران ہوتے کہ کیسا عشق ہے اسکا ؟ کیسا ؟ عشق نے اسکی سدھ بُدھ ، چن ختم کردیا ، اسکی بھوک ، پیاس عشق میں فنا ہونے لگی ۔۔۔۔۔۔

    ایک دن کسی سفید پوش کا گزر ہوا، پوچھا اس نے

    کیف حالک؟


    اس نے جواب دیا
    فھو مرضت یشفین

    اس نے بانسری پکڑی اور بجانا شروع کردی ، وہ بانسری بجا رہا تھا اور جسم قفس عنصری سے نکل کے جھوم رہی تھی ۔۔۔ عشق لگ گیا ، روگ ہوگیا ، درد مل گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ تن من کی لاگی سب چلی گئی ، خالی دامن ، خالی ہاتھ جنون زادی عشق میں لٹتی جارہی تھی

    چند دن گزرے تھے کہ وہ جنون زادی محفل حیدر میں موجود تھی .... وہی محفل تھی ، وہی ذاکرین تھے ۔۔وہی مسجد ، وہی منبر ۔۔۔۔۔ اسکا جنون اسکو لے گیا اسی جانب ، جس جانب اسکا قبلہ.تھا ۔۔۔۔ اس کاعشق تھا ، اسکا پیار تھا ، مگر وہ محفل کیا تھی ؟

    محفل حیدرم ۔۔مولائے کائنات کی تھی ، جنون زادی ادب سے سرجھکائے خاموش مگر دل کہ تلاطم خیز کشتیاں خون میں اتارتا رہا ۔۔۔ علی ، عرفان ولایت ، علی حق کا اثبات ، علی نوری چراغ ، علی مستوں کا خواب ، علی سبحانی نور ، علی وجدان کی صدا ، ، علی جلوہ ء طور ، علی حق کا نور ، علی ذات کا واحد ، علی مسجد ، منبر کا وارث ، علی حق کا امام ، علی قائمِ مقام حضور مآبﷺ ۔۔۔۔۔ علی کا پوچھیے کیا ۔۔۔۔۔۔

    من کنت مولاه فهذا علي مولا

    اس جنون زادی نے سر اٹھانے کی سعی نہ کی مگر درد سے لبریز صدا میں اک پیغام دیا

    عشق حق ولایت کی سیڑھی ہے ،میں نے مجاز کی ہر آیت میں حق کو پایا، گزرے جو اس پردے سے تو ہر ذات کو خود میں پایا ۔۔۔۔ اپنی ذات کا تماشا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔میں خود سے ناشناسا ہوں۔۔۔۔ دُکھ ، غم نہیں ! دکھ تو یہ ہے کہ ہجر نے وصل کی لذت دی ہے ، وصل نے ہجر کی اگنی دل میں ڈال دی ہے ۔۔۔ موری پریتم ، موری سنگیتم ۔۔۔۔۔۔ موری پریتم ، موری سنگیتم ۔۔۔

    وہ دیوانی خود میں کھوئی ،ایسی کہ رقص نے وجود کا وجود بھی جدا کردیا ، روح ،لباسِ جسم سے جدا ہوا ، لباس دل سے روح جدا ہوئی ، اک ٹکرا مولائے کائنات کے پاس تھا ، اک روح جو آوارہ تھی ۔۔ ڈھونڈتی پھر رہی تھی خود کو اس بھری محفل میں مگر جائے ادب کہ میں گستاخی کی مجال نہ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس نے چیخ ماری ، کہ وہیں بے ہوش ہوگئی ۔۔۔۔۔۔ دیکھنے والوں نے اسکی روح سے دھواں نکلتے دیھا ، اس دھواں نے عشق کی صورت اختیار کرلی تھی اور اسکی خوشبو میں گلاب کی مہک بسی تھی ۔۔۔۔۔۔

    یہ سچا عشق ہے ، یہ آلائش سے پاک ہے ۔ سچا عشق ،پاک ہے ! روح سے روح کی چادر تنی ہوئی ۔۔ روح سے روح کی چادر میں گلاب کی مہک ہے ، خراماں خراماں دل میں چلی ہے ! حق عشق ! ! حق عشق ! تو نے چن لیا پاک روح کو ، حق عشق ! تو نے کیا شکار کیا ! ترا شکار بھاری تھا !

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر