رضا سلامِ رضا کا ایک شعر در مدحِ سیّد الشّھَداء حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ مع تضامین

’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘

حمزہ : حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے چچا کا نامِ مبارک
جانبازیاں:جاں نثار کرنا
غُرّانِ : دھاڑنے والا شیر
سَطوَت : رعب و دبدبہ

حضرت امیر حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ جب مشرف بہ اسلام ہوئے تو شہادت تک ایک ایک لمحہ اللہ اور اسکے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں کارہائے نمایاں سر انجام دیتے ہوئے گزرا۔ آپ رضی اللہ عنہ دشمنانِ خدا و رسول پر دھاڑنے والے عظیم ببر شیر کی طرح حملہ آور ہوتے اور دشمن آپ رضی اللہ عنہ کے رعب و دبدبہ سے کانپنے لگتا اور مقابلہ کی ہمت نہ کرپاتا۔
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی ایسی لازوال جانثاری پر لاکھوں سلام ہوں۔


تضامین


فوجِ اعدا میں گُھس کر سناں بازیاں
دُور ہی سے کبھی تیر اندازیاں
پرچمِ افتخارِ صفِ غازیاں
’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘

تضمین از مولانا اختؔرالحامدی


دین کے شیر کی معرکہ سازیاں
تیر کی بارشیں پھر فرس تازیاں
صفِ اعدا پہ وہ تیغ اندازیاں
’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘

تضمین از محمد عثمان اوؔج اعظمی


ابنِ اسود پہ وہ تیر اندازیاں
گاہے عتبہ پہ انکی سناں بازیاں
مرحبا مرحبا وہ سرافرازیاں
’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘

تضمین از صاحبزادہ ابوالحسن واحؔد رضوی


یہ تمنا یہ جذبہ یہ قربانیاں
اور یہ ذوقِ شہادت کی بے چینیاں
کافروں کی یہ میداں میں حیرانیاں
’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘

تضمین از ڈاکٹر سید ہلاؔل جعفری


جاں نثارانِ مولا کی جانبازیاں
اہلِ بطحا و طیبہ کی جانبازایاں
حق پسند اہلِ تقوٰی کی جانبازیاں
’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘

تضمین از حافظ عبدالغفّار حافؔظ


شیرِ حق دین کا ضیغمِ سخت جاں
عظمتِ شاہِ کونین کا پاسباں
دشمنانِ نبی کا مٹایا نشاں
’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘

تضمین از محمد عبدالقیوم طاؔرق سلطان پوری


وہ رضاعی اخِ شاہِ کون ومکاں
وہ شجاعت کا لاریب کوہِ گراں
وہ شہامت کا ہر رَن میں اونچا نشاں
’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘

تضمین از محمد عبدالقیوم طاؔرق سلطان پوری


سرگروہِ شہیدانِ حق بے گماں
وہ فلک مرتبت وہ سپہر آستاں
شیرِ حق اور شیرِ شہِ انس و جاں
’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘

تضمین از محمد عبدالقیوم طاؔرق سلطان پوری​
 
بہت خوب بھائی۔۔۔۔ شریک محفل کرنے پہ شکریہ کہ یہ پھول آئے اور کیا مہک لائے ہیں۔۔۔۔۔!! زندہ باد۔ سدا سلامت رہیں۔ میرے آقا اپنے در قاسمیت سے خاص حصہ عطا فرمائیں۔۔۔۔۔۔!! سبحان اللہ۔ میرا مالک اپنے حبیب کے صدقے، حبیب کا صدقہ عطا کرے۔۔۔!! سلامت رہیں۔۔۔!!
 

فاخر رضا

محفلین
سن کسی کی نہ سن ایک ہی دھن کو بن اور چن چن کے مغرور سر کاٹ دے
سنسناتی ہوئی سب سروں سے گزر وار سینے پہ کر اور جگر کاٹ دے
اپنی تلوار سے خطاب
 

فاخر رضا

محفلین
دختر رنج و محن بن کے تن
ہر بدن میں اَجَل کے اگن گھول دے

لشکروں کا جگر چِیر مستی میں آ
زلزلوں کی طرح گھن گھنن گھول دے

دشمنوں کے لہو کی ہر اک موج میں
اپنے ماتھے کی ہر ایک شکن گھول دے

اپنے اعدا کے سر آسماں پے اڑا
آب دجلہ میں انکے کفن گھول دے .

سن کسی کی نا سن ایک ہی دھن کو بن
اور چن چن کے مغرور سر کاٹ دے

سنسناتی ہوئی سب سروں سے گزر
وار سینے پے کر اور جگر کاٹ دے

نوک سے روکھ لیں وقت کی گردشیں
دست شام و وجود سحر کاٹ دے

آج جبرائیل بھی پر بچھائے اگر
تو رعایت نا کر اس کے پر کاٹ دے.

دیکھ بزم شجاعت کا ہر تاجور
تیرے نذدیک ہے اور میرے پاس ہے

یوں لڑیں دشمنوں کو گما تک نہ ہو
یہ علی لڑ رہا ہے کے عباس ہے .
حضرت عباس کی پہلی جنگ
محسن نقوی... شاعر
 

فاخر رضا

محفلین
دختر رنج و محن بن کے تن
ہر بدن میں اَجَل کے اگن گھول دے

لشکروں کا جگر چِیر مستی میں آ
زلزلوں کی طرح گھن گھنن گھول دے

دشمنوں کے لہو کی ہر اک موج میں
اپنے ماتھے کی ہر ایک شکن گھول دے

اپنے اعدا کے سر آسماں پے اڑا
آب دجلہ میں انکے کفن گھول دے .

سن کسی کی نا سن ایک ہی دھن کو بن
اور چن چن کے مغرور سر کاٹ دے

سنسناتی ہوئی سب سروں سے گزر
وار سینے پے کر اور جگر کاٹ دے

نوک سے روکھ لیں وقت کی گردشیں
دست شام و وجود سحر کاٹ دے

آج جبرائیل بھی پر بچھائے اگر
تو رعایت نا کر اس کے پر کاٹ دے.

دیکھ بزم شجاعت کا ہر تاجور
تیرے نذدیک ہے اور میرے پاس ہے

یوں لڑیں دشمنوں کو گما تک نہ ہو
یہ علی لڑ رہا ہے کے عباس ہے .
حضرت عباس کی پہلی جنگ
محسن نقوی... شاعر
 

عباس رضا

محفلین
حضرت سیدنا جبرائیل [arabic]على نبينا وعليه الصلوة والسلام[/arabic] کا مرتبہ تمام صحابۂ کرام [arabic]عليهم الرضوان[/arabic] سے بڑا ہے۔ بلکہ انبیائے کرام [arabic]عليهم السلام[/arabic] کے بعد سب انسانوں سے اونچا مرتبہ حضرت سیدنا جبرائیل [arabic]عليه السلام[/arabic] کا ہے۔ شریعت کا مسئلہ ہے کہ فرشتے کی توہین کفر ہے۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
[arabic]وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ[/arabic]
اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم ہو۔
(پارہ 14، النحل: 50)
لہذا فرشتوں کے کاموں پر انگلی اٹھانا خدائی کاموں پر اعتراض کرنا ہے اور خدا کی شان یہ ہے:
[arabic]لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ[/arabic]
اُس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے۔
(پارہ 17، الانبیاء: 23)
واللہ اعلم ورسولہ اعلم۔
 

فاخر رضا

محفلین
حضرت سیدنا جبرائیل [arabic]على نبينا وعليه الصلوة والسلام[/arabic] کا مرتبہ تمام صحابۂ کرام [arabic]عليهم الرضوان[/arabic] سے بڑا ہے۔ بلکہ انبیائے کرام [arabic]عليهم السلام[/arabic] کے بعد سب انسانوں سے اونچا مرتبہ حضرت سیدنا جبرائیل [arabic]عليه السلام[/arabic] کا ہے۔ شریعت کا مسئلہ ہے کہ فرشتے کی توہین کفر ہے۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
[arabic]وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ[/arabic]
اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم ہو۔
(پارہ 14، النحل: 50)
لہذا فرشتوں کے کاموں پر انگلی اٹھانا خدائی کاموں پر اعتراض کرنا ہے اور خدا کی شان یہ ہے:
[arabic]لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ[/arabic]
اُس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے۔
(پارہ 17، الانبیاء: 23)
واللہ اعلم ورسولہ اعلم۔
ان فتووں ہی کی وجہ سے ہمارا قومی بیانیہ متشدد ہوچکا ہے. اشعار کے شاعر نے بھی اسی طرح کے فتوے پڑھ کر جنت کے حصول کی خاطر ہی محسن نقوی کو شہید کیا ہوگا.
 

عباس رضا

محفلین
فاخر رضا شریعت کا حکم وہی ہے جو میں نے بیان کیا۔
[arabic]مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ[/arabic]
میرے یہاں بات بدلتی نہیں اور نہ میں بندوں پر ظلم کروں۔

(پارہ 26، ق: 29) (ترجمہ کنز الایمان از امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ)
فاخر رضا یقین مانو! میں نے اور آپ نے مسلمان رہ کر اسلام پر کوئی احسان نہیں کیا۔
[arabic]يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا ۖ قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُم ۖ بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ[/arabic]
اے محبوب وہ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے تم فرماؤ اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اُس نے تمہیں اسلام کی ہدایت کی اگر تم سچے ہو۔
(پارہ 26، الحجرات: 17) (ترجمہ کنز الایمان از امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ)
 
آخری تدوین:

فاخر رضا

محفلین
فاخر رضا شریعت کا حکم وہی ہے جو میں نے بیان کیا۔
[arabic]مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ[/arabic]
میرے یہاں بات بدلتی نہیں اور نہ میں بندوں پر ظلم کروں۔

(پارہ 26، ق: 29) (ترجمہ کنز الایمان از امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ)
فاخر رضا یقین مانو! میں نے اور آپ نے مسلمان رہ کر اسلام پر کوئی احسان نہیں کیا۔
السلام علیکم
برادر عزیز
شعراء نے جب بہادری کے کارنامے اشعار میں لکھے تو وہ شاعری تھی. شاعری مبالغے اور تخیل کا امتزاج ہوتی ہے. اگر آپ اسے نہ پڑھنا چاہیں تو دوسری بات ہے مگر شاعری کا حقیقت سے تعلق نہیں ہوتا
حتیٰ مذہبی شاعری بھی فقط اپنی عقیدت اور دیومالائی شخصیات کے گرد گھومتی ہے. شاعری کہتے ہی اسے ہیں
اس فورم پر شاعری شیئر کی جاتی ہے اور شاعری کو حلال حرام سے زیادہ ادبی پیمانے پر پرکھا جاتا ہے شاعری لکھی بھی اسی لئے ہی جاتی ہے
آپ شاعری کے مقابلے میں آیات و احادیث لا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں. یہ علمی مباحثہ نہیں ہے بلکہ شاعری پیش کی گئی ہے. اس کے جواب میں اس سے بہتر شعر پیش کریں ورنہ تنقید کے لئے مناسب فورم ڈھونڈیے
ان باتوں کے بعد مندرجہ ذیل دو لنک دیکھیں. کچھ لوگ شاعری میں مبالغے سے کام لے کر معمولی سی چیز کو بھی آسمان پر چڑھا دیتے ہیں. ان اشعار میں بھی یہی کیا گیا ہے
حضرت علی رضی اللّہ تعالیٰ عنہ کی تلوارکا وزن - Life Tips

حضرت علی رضی اللّہ تعالیٰ عنہ کی تلوارکا وزن

آپ کے پاس ان حوالوں کے خلاف بھی دلیل ہو سکتی ہے اور میرے پاس بھی. مگر بات یہ ہے کہ اس فورم پر شاعری شیئر کی گئی ہے اس کے جواب میں شعر پیش کریں یا اس شاعری پر ادبی حوالے سے تنقید. نہ کہ اس جگہ مذہبی زمرہ کھول دیں
 

عباس رضا

محفلین
فاخر رضا
اسلام سر جھکانے کا نام ہے، اگر آپ خود کو مسلمان کہتے ہیں تو آپ کو اپنی پسند ناپسند، نثر ونظم اور ہر چیز شریعت کی رو سے دیکھنا ہوگی۔
حدیثِ پاک میں آتا ہے:
[arabic]لا يؤمن أحدكم حتى يكون هواه تبعا لما جئت به[/arabic]
تم میں سے کوئی اس وقت تک مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک اس کی خواہشات میرے لائے ہوئے دین کے آگے نہ جھک جائیں۔

کوئی شعری ادب اور کوئی نثر اپنی ذات میں ایسی دلیل نہیں ہے جس پر سوار ہو کر آپ شریعت کی حدود پھلانگ جاؤ۔ کوئی آپ کو، آپ کی ماں کو، آپ کی اولاد یا آپ کے باپ کو شعر میں گالی دے یا نثری ادب میں یا عامیانہ لہجے میں۔۔۔ کیا فرق ہے! توہین توہین ہی ہے۔ ابھی میں آپ کو فلاں بن فلانہ کہہ دوں تو آپ یہ محفل سفر پہ اٹھالیں گے۔ جب اپنے معاملے میں آدمی اتنی غیرت کرتا ہے تو اللہ ورسول کے اور دین کے معاملات میں غیرت کہاں چلی جاتی ہے؟
حدیثِ پاک میں ہے:
[arabic]لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من نفسه ووالده وولده والناس أجمعين[/arabic]
تم میں سے کوئی اس وقت تک مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کی اپنی جان سے، اس کے باپ سے، اس کی اولاد سے اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
کیا یہی ہے محبت رسول کا نمونہ؟ حضرت سیدنا جبرائیل [arabic]على نبينا وعليه الصلوة والسلام[/arabic] کے آنے پر ہمارے پیارے آقا [arabic]صلى الله عليه وسلم[/arabic] بہت خوش ہوتے تھے۔ رمضان المبارک میں حضرت جبرئیل [arabic]عليه السلام[/arabic] بہت زیادہ آتے تھے تو حضور پاک [arabic]صلى الله عليه وسلم[/arabic] ان کے آنے کی خوشی میں بھی ایسی سخاوت فرماتے تھے کہ روایتوں میں آتا ہے کہ حضور مسلسل چلتی ہوا سے زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔
شعر وادب کے بہانے اسلام وکفر کے معاملے میں کام نہیں آئیں گے۔ ایسے بہانوں پر ارشادِ ربّانی ہوچکا ہے:
[arabic]وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ ۚ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ ۚ[/arabic]
اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر۔
حضرت سیدنا جبرائیل [arabic]على نبينا وعليه الصلوة والسلام[/arabic] کی توہین تو نہایت سنگین جرم ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:

[arabic]مَن كَانَ عَدُوًّا لِّلَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِّلْكَافِرِينَ[/arabic]
جو کوئی دشمن ہو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کا تو اللہ دشمن ہے کافروں کا۔
 
آخری تدوین:

فاخر رضا

محفلین
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
خموشی سے ادا ہو رسمِ دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں
وفاداری کا دعویٰ کیوں کریں ہم
وفا، اخلاص، قربانی، مروّت
اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم
سنا دیں عصمتِ مریم کا قصّہ؟
پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم
زلیخائے عزیزاں بات یہ ہے
بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کریں ہم
ہماری ہی تمنّا کیوں کرو تم
تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم
کیا تھا عہد جب لمحموں میں ہم نے
تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم
اُٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری چیزیں
فقط کمروں میں ٹہلا کیوں کریں ہم
جو اک نسل فرومایہ کو پہنچے
وہ سرمایہ اکٹھا کیوں کریں ہم
نہیں دُنیا کو جب پرواہ ہماری
تو پھر دُنیا کی پرواہ کیوں کریں ہم
برہنہ ہیں سرِبازار تو کیا
بھلا اندھوں سے پردا کیوں کریں ہم
ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی
سو خود پر بھی بھروسہ کیوں کریں ہم
پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں
زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم
یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
یہاں کارِ مسیحا کیوں کریں ہم
جون ایلیا
 
Top