سعودی عرب میں ملازمین کے لیے 'مغربی' کیلنڈر کا اطلاق!

arifkarim

معطل
سعودی عرب میں ملازمین کے لیے 'مغربی' کیلنڈر کا اطلاق

57f29a6bb3c45.jpg

سعودی عرب نے اپنے ملک میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے ہجری قمری کی بجائے 'مغربی' گریگوری کیلنڈر کو اپنا لیا ہے۔
یہ ان متعدد مالیاتی اصلاحات میں سے ایک ہے جن کا اعلان گزشتہ دونوں وزراءکونسل نے کیا تھا۔
سعودی عرب میں چاند پر مبنی ہجری کیلنڈر کو 1932 سے استعمال کیا جارہا ہے مگر اب اسے سرکاری شعبے کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے سورج پر مبنی گریگوری کیلنڈر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
قمری تقویم پر مبنی اسلامی کیلنڈر عام طور پر 354 دن پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ مغربی کیلنڈر سے 11 دن کم ہوتا ہے۔
اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ سرکاری ملازمین تنخواہوں کی مد میں 11 دن کی کٹوتی کا سامنا کریں گے۔
یہ اقدام سعودی عرب میں مالیاتی خسارے میں کمی لانے کے لیے کیے گئے متعدد اقدامات میں سے ایک ہے۔
اس سے پہلے دوسری بار حج کرنے والوں کے ویزہ فیس کی مد میں 2 ہزار ریال لینے کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ یہی اضافہ دوسری بار عمرہ کرنے والوں پر بھی لاگو ہوگا۔
اسی طرح دو ماہ کی ویزہ فیس دو سو ریال بڑھائی گئی جبکہ تین ماہ کے لیے یہ اضافہ تین سو ریال تھا۔
اسی طرح سرکاری ملازمین کے بونسز کو بھی ختم کردیا گیا جبکہ وزراءکی تنخواہ میں 20 فیصد کٹوتی کی گئی۔
 

نوشاب

محفلین
سعودی عرب میں ملازمین کے لیے 'مغربی' کیلنڈر کا اطلاق

57f29a6bb3c45.jpg

سعودی عرب نے اپنے ملک میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے ہجری قمری کی بجائے 'مغربی' گریگوری کیلنڈر کو اپنا لیا ہے۔
یہ ان متعدد مالیاتی اصلاحات میں سے ایک ہے جن کا اعلان گزشتہ دونوں وزراءکونسل نے کیا تھا۔
سعودی عرب میں چاند پر مبنی ہجری کیلنڈر کو 1932 سے استعمال کیا جارہا ہے مگر اب اسے سرکاری شعبے کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے سورج پر مبنی گریگوری کیلنڈر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
قمری تقویم پر مبنی اسلامی کیلنڈر عام طور پر 354 دن پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ مغربی کیلنڈر سے 11 دن کم ہوتا ہے۔
اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ سرکاری ملازمین تنخواہوں کی مد میں 11 دن کی کٹوتی کا سامنا کریں گے۔
یہ اقدام سعودی عرب میں مالیاتی خسارے میں کمی لانے کے لیے کیے گئے متعدد اقدامات میں سے ایک ہے۔
اس سے پہلے دوسری بار حج کرنے والوں کے ویزہ فیس کی مد میں 2 ہزار ریال لینے کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ یہی اضافہ دوسری بار عمرہ کرنے والوں پر بھی لاگو ہوگا۔
اسی طرح دو ماہ کی ویزہ فیس دو سو ریال بڑھائی گئی جبکہ تین ماہ کے لیے یہ اضافہ تین سو ریال تھا۔
اسی طرح سرکاری ملازمین کے بونسز کو بھی ختم کردیا گیا جبکہ وزراءکی تنخواہ میں 20 فیصد کٹوتی کی گئی۔
11 دن کی کٹوتی یا 11 دن کی تنخواہ اب زیادہ ملے گی ۔
اب تو ان کو تنخواہ 365 دن کی ملے گی نا کہ 354 دن کی
 
عام پرائیویٹ نوکری میں ہم جیسے کام کرنے والوں کی تنخواہ تو پہلے سے شمسی مہینوں کے حساب سے دی جاتی تھی۔
جبکہ یہاں مکانات کا کرایہ پھر بھی قمری حساب سے ہی لیا جاتا ہے۔جو ہر تین سال میں تقریباََ ایک مہینے کا کرایہ بن جاتا ہے۔
 
چھٹی والا ویزہ بھی گریگورین پر کر دیں تو ناجانے ان کتنے لوگوں کا بھلا ہو جائے جو مہینے کا حساب کرتے واپسی کی ٹکٹ لیتے ہیں اور پھر عموماً سعودی سفارت خانوں کے چکر لگا رہے ہوتے ہیں
 

کعنان

محفلین
مقامی، غیرملکیوں کے لیے سعودی عرب کے 5 انقلابی فیصلے
پیر 3 اکتوبر 2016م
ریاض ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ


سعودی عرب میں ماہ محرام الحرام اور ھجری سال 1438ء کے شروع ہوتے ہی مقامی اور غیر ملکی شہریوں کے معمولات زندگی یکسر تبدیل ہو گئے۔ یہ تبدیلی سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے کفایت شعاری کی پالیسی کے حوالے سے منظور کردہ بعض نئے قوانین اور اقدامات پرعمل درآمد کا نقطہ آغاز ہے جس کی شروعات 2 اکتوبر 2016 بہ مطابق یکم محرم الحرام 1438ھ کو ہوا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سعودی حکومت کی طرف سے کفایت شعاری کے حوالے سے منظور کردہ ان اقدامات اور نئے ضابطوں پر روشنی ڈالی ہے جن کے نفاذ سے نہ صرف مقامی سعودی باشندوں بلکہ مملکت میں مقیم غیرملکیوں کے معمولات بھی تبدیل کر دیے ہیں۔

کل سے سعودی عرب میں نئی ویزہ پالیسی کا اعلان کیا گیا جس میں ویزوں کی فیس میں اضافہ کیا گیا۔ ٹریفک جرمانوں کے شیڈول میں بھی تبدیلی کی گئی اورجرمانوں کی ایک نئی فہرست کی بھی منظوری دی گئی۔

سعودی کابینہ کی جانب سے منظور کردہ حالیہ فیصلوں میں مملکت میں بعض شعبوں میں غیرملکی شہریوں کی ملازمت پر پابندی، تنخواہوں اور مراعات میں کمی، سالانہ بونس اور تنخواہوں میں اضافے پر پابندی جیسے اقدامات کی منظوری دی گئی۔ ان تمام فیصلوں کا نفاذ کل اتوار کے روز سے کر دیا گیا ہے۔


سعودی حکومت کے انقلابی اقدامات

ویزہ فیسوں میں ترامیم

سعودی عرب میں ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے پاسپورٹ نے ویزہ فیس، قیام کی فیس، وزٹ ویزہ فیس، داخلہ فیس اور دوبارہ واپسی فیسزکے حوالے سے شاہی فرمان نمبر 68 مجریہ 6 ذی الحج 1437ھ کو نافذ کردیا۔ اس فیصلے کے مطابق ویزہ فیسوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔

پہلی بار سعودی عرب میں داخل ہونے کی فیس 2000 ریال ہے مگر پہلی بار حج یا عمرہ کرنے والے غیرملکی مسلمان شہری کی یہ فیس سعودی حکومت ادا کرے گی۔ دوسری بار حج یا عمرہ ادا کرنے پر 2000 ریال فیس ادا کرنا ہوگی۔

سعودی عرب اور دوسرے ملکوں کے درمیان پہلے سے طے پائے دو طرفہ معاہدوں میں بھی مذکورہ شق پر اپنایا جائے گا۔

وزٹ ویزہ کی فیس 300 ریال مقرر کی گئی ہے۔

خروج اور دوبارہ سعودیہ میں واپسی کی فیس یوں ہو گی۔

کم سے کم دو ماہ کے ایک وزٹ کے لیے 200 ریال فیس ہوگی۔ اس کے بعد ہر ایک ماہ ویزے کی مدت تک 100 ریال ماہانہ فیس رکھی گئی ہے۔

تین ماہ کے سفر کے لیے واپسی فیس 500 ریال اور ہرماہ بعد 200 ریال فیس ویزہ کی مدت تک وصول کی جائے گی۔


تنخواہیں قمری کے بجائے شمسی مہینوں میں


سعودی عرب میں سرکاری شعبے میں لائی جانے والی تبدیلیوں میں ایک اہم تبدیلی تنخواہوں میں کمی کے ساتھ ان کا قمری کے بجائے شمسی مہینوں میں ادائی شامل ہے۔ آئندہ سعودی عرب میں ملازمین کو تنخواہیں ھجری سال کے مہینوں کے حساب سے نہیں بلکہ عیسوی سال کے مہینوں کے حساب سے ادا کی جائیں گی۔ مملکت کی سطح پر دیگر مالیاتی لین دین بھی قمری کے بجائے شمسی مہینوں میں منتقل کیے گئے ہیں۔

تعطیلات کا شیڈول
سعودی عرب میں سرکاری محکمے کے ملازمین کی سالانہ تعطیلات بھی کم کر دی گئی ہیں۔ ملازمین 60 یوم میں استحقاقی تعطیلات کر سکتے ہیں۔ مگر اس کے بعد وہ چھٹی کے لیے درخواست نہیں دے سکتے۔ اگر کوئی ملازم سابقہ شیڈول پرعمل کرنا چاہیے تو وہ سالانہ 36 دن کی تعیطلات کر سکتا ہے جو کہ سابقہ شیڈول سے کم ہیں۔

چھٹیوں کے قانون میں ملازمین کو تعطیلات کے دوران آمد ورفت کے لیے دی گئی مالی مراعات واپس لے لی گئی ہیں۔ البتہ سرکاری نظام الاوقات سے ہٹ کراضافی گھنٹے کام کرنے والے کو مالی تعاون فراہم کیا جائے گا۔ اضافی وقت کی اجرت بنیادی تنخواہ کا 25 فی صد ہوگی جب کہ تعطیلات کے ایام میں بنیادی تنخواہ کے50 فی صد کے مساوی بونس دیا جائے گا۔ کسی بھی سرکاری ملازم کو مالی سال کے دوران 30 دن سے زاید رخصت کی اجازت نہیں ہوگی۔

تعطیلات ، تنخواہوں اور مراعات کے حوالے سے منظور کردہ مذکورہ ضوابط کا اطلاق مقامی سعودی باشندوں اور غیرمقامی افراد پر بھی ہو گا۔

تمام ملازمین کی کارکردگی پر پرگہری نظر رکھی جائے گی اور کسی کو کام چوری کی اجازت نہیں ہو گی۔ اگر محکمہ کسی سرکاری ملازم کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہو تو اسے تحریری وارننگ دی جائے گی۔ اگر وہ اپنی اصلاح نہ کرے تو اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی اور تیسرے سال بھی اس کی کارکردگی تسلی بخش نہ ہوئی تو اسے نوکری سے فارغ کرنے کے لیے کیس متعلقہ کمیٹی کو بھجوایا جائے گا۔

تمام ملازمین کو ان کے متعلقہ کام کے لیے سال کے شروع میں اہداف بتا دیے جائیں گے اور سال کے آخر میں ان اہداف پر ہونے والے کام کا جائزہ لیا جائے گا۔

بونس اور الاؤنسز
سرکاری سطح پر کیے گئے فیصلوں میں 21 نوعیت کے بونسز اور الائونسز ختم جب کہ 23 اقسام کے الاؤنسز میں ترامیم کی گئی ہیں۔
ح
 
آخری تدوین:
Top