سعادت حسن منٹو کی 54 ویں برسی

فرخ منظور

لائبریرین
آج سعادت حسن منٹو کی 54 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے عارف وقار صاحب کا بی بی سی اردو پر مضمون۔



Saturday, 17 January, 2009, 20:29 GMT 01:29 PST

عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
سعادت حسن منٹو اکیسویں صدی میں

گزشتہ دس بارہ برس سے اس کی ہر برسی پر ہمیں منٹو فہمی اور منٹو شناسی سے تعلق رکھنے والی نئی تحریرں دیکھنے کو مِل رہی ہیں جو اس امر کی جانب واضح اشارہ ہیں کہ غالب کی طرح منٹو کی اصل پذیرائی بھی اس کی موت کے بعد شروع ہوئی اور جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے، منٹو کے چاہنے والوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، لیکن جہاں غالب نے پورے یقین سے کہا تھا کہ

شہرتِ شعرم بگیتی بعدِ من خواہد شدن

وہاں منٹو کو اپنی بعداز مرگ شہرت کا نہ تو یقین تھا اور نہ ہی شوق تھا، لیکن منٹو کے مداحوں کو اپنے جذبات کااظہار کرنےکےلیے منٹو کی اجازت درکار نہیں۔

منٹو کے چاہنے والوں میں اہم ترین حالیہ اضافہ ایک پاکستانی باپ کے بھارتی بیٹے آتش تاثیر کا ہے۔ اُردو سیکھنے کے عمل میں آتش تاثیر کا واسطہ سعادت حسن منٹو کی کہانیوں سے پڑا۔ چونکہ وہ منٹو کی کچھ کہانیوں کا انگریزی ترجمہ پڑھ چُکا تھا اس لیے نوجوان کا پہلا ردِعمل یہ تھا کہ منٹو کو اس کی اصل روح کے ساتھ انگریزی میں منتقل نہیں کیا گیا۔ آتش تاثیر نے خود منٹو کا ترجمہ کرنے کی ٹھانی اور یوں سن دوہزار آٹھ کے آخری ایام میں منٹو کی منتخب کہانیوں کا انگریزی مجموعہ منظرِ عام پر آیا۔

منٹو کے تراجم اگرچہ اسکی زندگی ہی میں شروع ہوگئے تھے اور حامد جلال کے بعد خشونت سنگھ، طاہرہ نقوی، جے رتن، مشیرالحسن اور الوک بھلّہ نے کئی کہانیوں کے انگریزی تراجم کئے لیکن منٹو کو عالمی سطح پر حیاتِ نو بخشنے کا سہرا یقیناً خالد حسن کے سر بندھتا ہے جس نے نہ صرف سب سے زیادہ تعداد میں منٹو کی کہانیاں ترجمہ کیں بلکہ منٹو کے مضامین اور اسکے لکھے ہوئے فلمی شخصیات کے خاکے بھی ترجمہ کئے اور منٹو کے فن پر گراں قدر مضامین بھی رقم کئے۔

آتش تاثیر نے کتاب کے دیباچے میں اس پرانے سوال کو بھی پھر سے اٹھایا ہے کہ زندگی کے محض آخری سات برس پاکستان میں گزارنے پر منٹو پاکستانی کیسے بن گیا جبکہ اُسکی فنکارانہ زندگی کا بیشتر حصّہ امرتسر، دہلی اور بمبئی میں گزرا اور خود اس نے بارہا اس بات کا اقرار کیا ہے کہ دنیا میں رہنے کے لیے بمبئی سے بہتر کوئی مقام نہیں ہے۔

آتش تاثیر نے اِس تلخ مگر ناگزیر حقیقت کی جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ منٹو کو ہندوستان میں زندہ رکھنے کےلیے اُردو نہیں بلکہ انگریزی ہی کام آئے گی اور انگریزی ہی اسے عالمی سطح پر بھی زندہ رکھے گی۔

اور اب کچھ ذکر سجاد شیخ کا جو پاکستان میں اس وقت بجا طور پر منٹو فہمی اور منٹو شناسی کے سب سے بڑے دعوے دار ہیں۔ گزشتہ برس اُن کی کتاب ’سیاہ حاشیئے: تجزیاتی مطالعہ‘ منظرِ عام پر آئی۔

ہم قارئین کو یاد دلا دیں کے سیاہ حاشیئے سعادت حسن منٹو کے ایسے ننھے مُنے طنزیہ افسانچوں کا مجموعہ ہے جن میں تقسیمِ ہند کے فسادات کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اختصار اور جامعیت اِن کہانیوں کی بُنیادی خصوصیت ہے۔

بہت کم کہانیاں ہیں جو آدھے پونے صفحے سے زیادہ کی ہیں لیکن اکثر کہانیاں تو محض دو تین جملوں میں پُوری ہو جاتی ہیں اور یوں اِن کی حیثیت ایسے اشعار کی سی ہو جاتی ہے جو اپنی جامعیت کے سبب کئی طرح کے امکانات کو جنم دیتے ہیں اور جنھیں پوری طرح سمجھنے کے لیے شارحین کی مدد درکار ہوتی ہے۔ اپنے تجزیاتی مطالعے میں پروفیسر سجاد شیخ نے ایسے ہی ایک شارح کا فرض سر انجام دیا ہے۔ مزید تفصیل میں جانے کی بجائے سیاہ حاشیئے سے ایک مثال دے دینا کافی ہوگا۔ تو آئیے دیکھتے ہیں منٹو کا ایک تین سطری افسانچہ اور اسکی تشریح:

سوری

چُھری پیٹ چاک کرتی ہوئی ناف کے نیچے تک چلی گئی۔ اِزاربند کٹ گیا۔ چُھری مارنے والے کے منہ سے دفعتہً کلمہء تاّسف نکلا۔
ٰ ٰچ چ چ چ – مِشٹیک ہوگیاٰ ٰ۔
اور اب دیکھیئے سجاد شیخ کی تشریح:

تین چھوٹے چھوٹے بیانیہ جملوں اور ایک کلمہء تاسف پر مبنی مونولاگ (خودکلامی) پر مشتمل یہ ڈرامائی افسانہ ایک المناک اور رونگٹے کھڑے کردینے والے واقعہ کی اثر انگیز پیش کش ہے۔

بیانیہ حصّہ سنگدلانہ حد تک معروضی ہے۔ اس میں ایک تیز رفتار لرزہ خیز اچانک قتل کے عمل کو چند لفظوں میں سمودیا گیا ہے:

’چھُری پیٹ چاک کرتی ہوئی ناف کے نیچے تک چلی گئی۔ اِزار بند کٹ گیا‘۔ پہلے جملے سے چھری کی تیز دھار۔ مارنے والے کے درست نشانے اور بھرپور وار کی شدت کا پتہ چلتا ہے۔ حملہ اچانک کیا گیا ہے اور مقتول کو سنبھلنے کا موقع نہیں مِل سکا۔ پیٹ چاک کرنے کے علاوہ چھری نے مقتول کے اِزار بند کو بھی کاٹ دیا ہے۔ اِزار بند کا کٹنا ابتدائی جملے میں بیان کئے گئے حملے کا لازمی منطقی نتیجہ ہے اور یہ افسانے کو انجام کی طرف لے جاتا ہے۔

چھری مارنے والے کے منہ سے دفعتہً کلمہء تاسف نکلتا ہے:
ٰ ٰ چ چ چ چ – مِشٹیک ہوگیاٰ ٰ۔
اگرچہ قاتل اور مقتول کے مذہب کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا لیکن کلمہء تاسف کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کاتعلق ایک ہی مذہب سے ہے۔ قاتل نے اپنی ’غلطی‘ تسلیم کر کے اقرار کیا ہے کہ وہ مقتول کو غلط فہمی میں چھری گھونپ کر ہلاک کر بیٹھا ہے۔

وہ مقتول کو دوسرے یعنی مخالف مذہب کا پیروکار سمجھ کر اس پر حملہ کرتا ہے۔ اِزار بند کے کٹ جانے پر اس کی شلوار (یا پاجامہ) نیچے گرنے پر قاتل کو مقتول کے مذہب کا ثبوت دکھائی دیتا ہے تو اسے اپنی غلطی تسلیم کرنی پڑتی ہے۔ نہیں۔ غلطی کا اعتراف تو اس کا فوری، غیر اضطراری ردِ عمل ہے۔ اس تند و تیز کٹیلے طنزیہ تیزابی لہجے میں لکھے گئے افسانے میں منٹو نے قاری کےلیے غور و فکر کی کئی راہیں کھول دی ہیں۔

مقتول کی شکل و صورت وضع قطع لباس اور چال ڈھال سے قاتل نے اس کے مذہب کا غلط اندازہ لگایا ہے۔ کیا اسکی ایک وجہ یہ نہیں ہے کہ ہندوستان میں صدیوں تک ایک ساتھ رہتے ہوئے ہندو اور مسلمان الگ الگ قوموں سے تعلق رکھنے کے باوجود بہت سی باتوں میں ایک دوسرے کی تقلید کرتے تھے۔ فرقہ وارانہ جذبات مشتعل کئےگئے تو وہ اپنی مشترکہ ثقافتی قدروں کو بھول کر مذہبی جنون میں مبتلا ہوگئے اور فساد و خون ریزی پر اتر آئے۔

فسادات کے زمانے میں بعض اوقات لوگ دشمنوں کے محلے میں جاتے وقت اپنی ظاہری ہئیت مخالف مذہب کے لوگوں جیسی بنالیتے تھے۔ کیا مقتول اسی صورتِ حال کا شکار تو نہیں ہوگیا؟ واپس آتے ہوئے اپنے ہم مذہبوں کے علاقے سے گزرتا، اپنی ہئیت کی بنا پر غلط فہمی پیدا کرنے کے باعث قاتل کے ہتھے چڑھ گیا ہے؟

غلط فہمی کی بنیاد خواہ کچھ بھی ہو مقتول کی یکلخت اور رائیگاں موت بیک وقت ایک المناک حادثہ اور ایک مضحکہ خیز واقعہ نظر آتی ہے۔ قاتل کے ایک جملہء تاسف نے اسے عجیب و غریب حیثیت دے دی ہے۔

یہ غلط فہمی ایک خونِ ناحق کا باعث بن گئی ہے۔ کیا قاتل اس پر پریشان ہے ؟ قاتل کے منہ سے نکلنے والا کلمہء تاسف اس پشیمانی کو ظاہر نہیں کرتا۔ یہ ایک چونکادینے والا، دکھی کردینے والا سانحہ ہے لیکن قاتل کے الفاظ سے دکھ درد یا افسوس کی گہرائی عیاں نہیں ہے۔ اس سفاک شخص کی نظروں میں انسانی جان کی کوئی خاص قدرو قیمت نہیں خواہ اس انسانی جان کا تعلق اس کے اپنے ہی مذہب سے کیوں نہ ہو۔ وہ اسے ایک معمولی سی غلطی سمجھ رہا ہے۔ اس کے اعتراف کو ایک دفعہ پھر دیکھئے:
’چ چ چ چ – مِشٹیک ہوگیا‘۔

کیا اس کے گھناؤنے جرم کو محض ایک غلطی ایک ’مِشٹیک‘ کہا جا سکتا ہے؟ جو شخص اسے صرف مشٹیک کہہ رہا ہے اس کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کیسی ہے؟ اس کا کلمہء تاسف کیا معنی رکھتاہے؟ کیا اس کلمہ تاسف کے ساتھ ساتھ ہم اس کی کھسیانی ہنسی کی آواز نہیں سنتے؟ اور اس کی پشت پر منٹو کا زہر بھرا طنزیہ قہقہہ؟

انگریزی محاورے کے مطابق انسان خطا کا پتلا ہے۔ اگر اس فارمولے کو تسلیم کرلیا جائے تو اپنی ’غلطی تسلیم‘ کرلینے والا یہ چھری مار سفاک قاتل بھی کیا انسانوں کے زمرے میں نہیں آجائے گا۔ آخر اس نے بھی تو غلط فہمی کی بنا پر ایک غلطی ہی کی ہے، بلکہ غلطی اس سے سرزرد ہو گئی ہے۔ چھری اس نے تھام رکھی تھی۔ وار اس نے کیا ہے۔ وار بھر پور پڑا ہے۔ اسی شخص پر وار ہوا ہے جس پر وہ کرنا چاہتا تھا لیکن غلطی یہ ہوئی ہے کہ مقتول کوئی اور ہی شخص نکلا۔

افسانے کا ایک اور قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ ظواہر پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے اور یہ غلط فہمی مہلک نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ دنیا بھر کے ادیبوں نے لاتعداد ادبی شہکار اسی تھیم پر تخلیق کئے ہیں۔ یہ دلچسپ موضوع ہے لیکن جس شدتِ تاثر، کفایت لفظی، ایمائیت اور طنز کو منٹو نے اس افسانے میں سمودیا ہے وہ اسی کا حصّہ ہے۔

تو یہ تھا منٹو کا ایک تین سطری افسانچہ اور سجاد شیخ کی تین صفحاتی تشریح۔ شیخ صاحب کی کتاب میں سیاہ حاشیئے کے ہر افسانچے کی مکمل تشریح و توضیح موجود ہے اور کتاب کے آخر میں ایک ضمیمہ بھی دیا گیا ہے جس میں منٹو کے ان افسانچوں پر محمد حسن عسکری، ممتاز مُفتی، یوسف ظفر، حسنین، جاوید صدیقی اور شعیب حسن کے مفصّل تبصرے موجود ہیں۔
 

عین لام میم

محفلین
بہت اعلیٰ۔ ۔
میں گورنمنٹ کالج لاہور میں اپنے ایف ایس سی کے زمانے میں منٹو کو پڑھا کرتا تھا۔ ۔ اور میرے اکثر ساتھی اس بات پہ بحث کیا کرتے تھے کہ منٹو محض جنسیات اور فحش نگاری کرتا تھا۔ ۔ ۔میں ہمیشہ اچھے پہلو کی طرف توجہ دلایا کرتا تھا لیکن ناکام ہی رہتا تھا۔ ۔ ۔
سیاہ حاشیے میرے پسندیدہ ہیں ہمیشہ سے۔ ۔ ۔ میں نے اتنی مختصر اور جامع تحاریر آج تک نہیں پڑھیں۔ ۔
تشریح واقعی قابلِ تعریف ہے۔ ۔
شیئر کرنے کا خصوصی شکریہ۔:great:
 

فرخ منظور

لائبریرین
بہت اعلیٰ۔ ۔
میں گورنمنٹ کالج لاہور میں اپنے ایف ایس سی کے زمانے میں منٹو کو پڑھا کرتا تھا۔ ۔ اور میرے اکثر ساتھی اس بات پہ بحث کیا کرتے تھے کہ منٹو محض جنسیات اور فحش نگاری کرتا تھا۔ ۔ ۔میں ہمیشہ اچھے پہلو کی طرف توجہ دلایا کرتا تھا لیکن ناکام ہی رہتا تھا۔ ۔ ۔
سیاہ حاشیے میرے پسندیدہ ہیں ہمیشہ سے۔ ۔ ۔ میں نے اتنی مختصر اور جامع تحاریر آج تک نہیں پڑھیں۔ ۔
تشریح واقعی قابلِ تعریف ہے۔ ۔
شیئر کرنے کا خصوصی شکریہ۔:great:

بہت شکریہ حضرت ۔ میں بھی ساتویں جماعت سے منٹو کا گرویدہ ہوں۔ :smile2:
 

محمد وارث

لائبریرین
مراد یہ صاحب کہ اب افسانے فقط اسی وقت پڑھتا ہوں جب انہیں محفل پر پوسٹ کرنے کیلیے ٹائپ کرنا ہوتا ہے :)
 
Top