سردیوں میں چلغوزے کھائیں اور صحت مند ہو جائیں !

eat-pine-nuts-in-winter-and-stay-healthy-forever.jpg

سردی کے موسم میں جہاں لوگ ٹھنڈ سے محظوظ ہوتے ہیں وہیں اس کے لوازمات سے بھی بھرپور لُطف اُٹھاتے ہیں جن میں خشک میوہ جات کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔ یوں تو یہ خشک میوہ جات پورا سال ہی دستیاب ہوتے ہیں لیکن ان کا اصل مزہ اور فائدہ موسم سرما میں ہی ملتا ہے۔ قدرتی طور پر ہر میوہ اپنی بھرپور غذائیت لیے ہوئے ہوتا ہے اس طرح چلغوزہ غذائی افادیت سے بھرپور ہے۔

چلغوزے کے نمایاں طبی فوائد مندرجہ ذیل ہیں:
*چلغوزے میں وٹامن اے، بی، سی، ڈی اور ای کی صورت میں اینٹی آکسیڈینٹ موجود ہوتا ہے جوکہ جلد میں موجود خراب ہوجانے والے خلیات کو فعال کرکے اسکن کو ہموار اور خوبصورت بناتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بصارت کو بھی مضبوطی عطا کرتا ہے۔
*چلغوزے میں پایا جانے والا فائبر قبض اور گیس کو ختم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ جسم سے زہریلے مادوں کے اخراج میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چلغوزہ آنتوں کی دیواروں پر صفائی کا کام بھی کرتا ہے جس کی بدولت نظام ہاضمہ روزانہ بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔
*چلغوزے میں پایا جانے والا Oleic ایسڈ خون میں کولیسٹرول کے لیول کو برقرار رکھتا ہے جس کی بناء پر کئی بیماریوں سے بچاجاسکتا ہے۔
*وٹامن K خون کو جمنے نہیں دیتا اور نہ ہی یہ خون میں گھٹلیاں بننے دیتا ہے خون کی روانی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ہموار بھی رکھتا ہے اور اس ضمن میں چلغوزہ کھانا اہم ہے کیونکہ چلغوزہ وٹامن K کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ جس کا استعمال مذکورہ بالا تمام خطرات سے روکتا ہے۔
*خشک چلغوزے میں 8،10 کیلوریز، 0.08 گرام فائبر، 0.24 گرام کاربوہائیڈریٹ، 0.42 گرام پروٹین اور 0.89 گرام Fat پایا جاتا ہے۔ دوسرے خشک میوہ جات کی نسبت چلغوزے کے فوائد بہت جلد سامنے آتے ہیں اس لیے اسے مہنگا اور قیمتی ترین ڈرائی فروٹ بھی کہا جاتا ہے۔
*کسی بھی دوسرے خشک میوہ جات کی نسبت چلغوزہ پروٹین کا سب سے بہترین ذریعہ ہے ۔یہ کمزوری کو دور کرتا ہے۔ اس کے کھانے سے بھوک کی شدت میں کمی آتی ہے۔ اس لیے یہ ان افراد کے لیے بہترین ڈائیٹ ہے جو اپنا وزن کم کرنے کے خواہش مند ہیں۔
*چلغوزہ کے استعمال سے گردے، مثانے اور جگر کو طاقت اور مضبوطی ملتی ہے اور ان کی کارکردگی بہتر ہوتی چلی جاتی ہے۔ چلغوزے کو ہمیشہ کھانا کھانے کے بعد ہی کھانا چاہیئے کیونکہ اگر کھانے سے پہلے چلغوزے کھالیئے جائیں تو بھوک ختم ہوجاتی ہے۔
*چلغوزے میں پایا جانے والا وٹامن ای جِلد کے لیے بہترین ذریعہ ثابت ہوتا ہے دھوپ کی شدت سے جھلس جانے والی جِلد کے لیے بھی چلغوزہ کا استعمال موثر رہتا ہے۔
*چلغوزے سے تیل بھی بنایا جاتا ہے جو ذائقہ اور خوشبودار ہوتا ہے۔ اس تیل کا استعمال زمانہ قدیم سے ہربل ادویات میں مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے لیے کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ یہ تیل کاسمیٹک سرجری اروماتھراپی، کوکنگ اور سلاد میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
ایچ ٹی وی اردو ۔
 
چلغوزے کے نمایاں طبی فوائد مندرجہ ذیل ہیں:
*چلغوزے میں وٹامن اے، بی، سی، ڈی اور ای کی صورت میں اینٹی آکسیڈینٹ موجود ہوتا ہے جوکہ جلد میں موجود خراب ہوجانے والے خلیات کو فعال کرکے اسکن کو ہموار اور خوبصورت بناتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بصارت کو بھی مضبوطی عطا کرتا ہے۔
*چلغوزے میں پایا جانے والا فائبر قبض اور گیس کو ختم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ جسم سے زہریلے مادوں کے اخراج میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چلغوزہ آنتوں کی دیواروں پر صفائی کا کام بھی کرتا ہے جس کی بدولت نظام ہاضمہ روزانہ بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔
*چلغوزے میں پایا جانے والا Oleic ایسڈ خون میں کولیسٹرول کے لیول کو برقرار رکھتا ہے جس کی بناء پر کئی بیماریوں سے بچاجاسکتا ہے۔
*وٹامن K خون کو جمنے نہیں دیتا اور نہ ہی یہ خون میں گھٹلیاں بننے دیتا ہے خون کی روانی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ہموار بھی رکھتا ہے اور اس ضمن میں چلغوزہ کھانا اہم ہے کیونکہ چلغوزہ وٹامن K کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ جس کا استعمال مذکورہ بالا تمام خطرات سے روکتا ہے۔
*خشک چلغوزے میں 8،10 کیلوریز، 0.08 گرام فائبر، 0.24 گرام کاربوہائیڈریٹ، 0.42 گرام پروٹین اور 0.89 گرام Fat پایا جاتا ہے۔ دوسرے خشک میوہ جات کی نسبت چلغوزے کے فوائد بہت جلد سامنے آتے ہیں اس لیے اسے مہنگا اور قیمتی ترین ڈرائی فروٹ بھی کہا جاتا ہے۔
*کسی بھی دوسرے خشک میوہ جات کی نسبت چلغوزہ پروٹین کا سب سے بہترین ذریعہ ہے ۔یہ کمزوری کو دور کرتا ہے۔ اس کے کھانے سے بھوک کی شدت میں کمی آتی ہے۔ اس لیے یہ ان افراد کے لیے بہترین ڈائیٹ ہے جو اپنا وزن کم کرنے کے خواہش مند ہیں۔
*چلغوزہ کے استعمال سے گردے، مثانے اور جگر کو طاقت اور مضبوطی ملتی ہے اور ان کی کارکردگی بہتر ہوتی چلی جاتی ہے۔ چلغوزے کو ہمیشہ کھانا کھانے کے بعد ہی کھانا چاہیئے کیونکہ اگر کھانے سے پہلے چلغوزے کھالیئے جائیں تو بھوک ختم ہوجاتی ہے۔
*چلغوزے میں پایا جانے والا وٹامن ای جِلد کے لیے بہترین ذریعہ ثابت ہوتا ہے دھوپ کی شدت سے جھلس جانے والی جِلد کے لیے بھی چلغوزہ کا استعمال موثر رہتا ہے۔
*چلغوزے سے تیل بھی بنایا جاتا ہے جو ذائقہ اور خوشبودار ہوتا ہے۔ اس تیل کا استعمال زمانہ قدیم سے ہربل ادویات میں مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے لیے کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ یہ تیل کاسمیٹک سرجری اروماتھراپی، کوکنگ اور سلاد میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
اس میں کینسر کا علاج نہیں لکھا ہوا، شاید درست تحقیق ہو۔
 
چلغوزے کھانے کے بعد اگر بیمار ہوئے تو علاج کروانے کے پیسے بھی نہیں ہوں گے۔۔۔
آج کل جو قیمت چلغوزے کی چل رہی ہے اس قیمت میں اس سے بہتر میوے اس سے دوگنا تین گنا زیادہ آجائیں گے۔
 

سید عمران

محفلین
چلغوزے کھانے کے بعد اگر بیمار ہوئے تو علاج کروانے کے پیسے بھی نہیں ہوں گے۔۔۔
آج کل جو قیمت چلغوزے کی چل رہی ہے اس قیمت میں اس سے بہتر میوے اس سے دوگنا تین گنا زیادہ آجائیں گے۔
مگر جو ذائقہ چلغوزے میں ہے وہ کسی اور میں کہاں!!!
 

محمد وارث

لائبریرین
بیگم کے ہاتھ کے چھلے چلغوزوں کی بات ہی کچھ اور ہے
آپ خوش قسمت ہیں جو آپ کی بیگم آپ کو چھیل کر چلغوزے کھلا دیتی ہیں، میرے والی تو میرے ہاتھ سے چھلے ہوئے چھین لیتی ہے، شاید وہ سمجھتی ہو کہ "شوہر کے ہاتھ کے چھلے چلغوزوں کی بات ہی کچھ اور ہے۔" :)
 
Top