ساہیوال میں 1320 میگا واٹ کول پاور پلانٹ کا منصوبہ

الف نظامی

لائبریرین
21 اپریل 2014
وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ساہیوال میں 660میگاواٹ کے2کول پاور پلانٹس لگانے کے منصوبے پر تیز رفتاری سے کام کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے پنجاب حکومت نے پراجیکٹ ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ 1320میگاواٹ کے 2پلانٹس لگانے کا منصوبہ انشاء اللہ اڑھائی سال میں مکمل کر لیا جائے گا۔حکومت توانائی کی قلت کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ٹھوس حکمت عملی پر عملدر آمد کررہی ہے ۔کوئلے سے بجلی کی پیداوار کا حصول اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
وہ آج یہاں ایک اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کررہے تھے ۔جس میں ساہیوال میں660میگاواٹ کے2کول پاور پلانٹس لگانے کے منصوبے پرپیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین کی کمپنیوں کے کنسورشیم کے ساتھ ساہیوال میں 2کول پاور پراجیکٹس لگانے کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔1320میگاواٹ کے دونوں کول پاور پلانٹس کے منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔کول پاور پلانٹس لگانے کے حوالے سے فزیبلٹی رپورٹ تیار ہوچکی ہے۔
یہ منصوبہ علاقے میں ترقی اور خوشحالی کانیا باب ثابت ہوگاکیونکہ 150ارب روپے کی سرمایہ کاری کے باعث ساہیوال میں نہ صرف معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگا ر کے نئے مواقع بھی پیداہوں گے۔وزیراعلیٰ نے منصوبے پر تیز رفتاری سے عملدر آمد اور دیگر معاملات پر جائزہ لینے کیلئے کابینہ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔
 

الف نظامی

لائبریرین
وزیراعظم نواز شریف نے کوئلے سے 1320 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔
ساہیوال میں کوئلے سے 1320 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ آج بہت خوشی کا دن ہے کہ ساہیوال میں کوئلے کی مدد سے 660 میگاواٹ کے 2 یونٹوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے، 158 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے منصوبے کے لئے چین کو گزشتہ برس دعوت دی تھی جس کا چینی حکام نے مثبت انداز میں جواب دیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ملک میں 23 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے باوجود صرف 13 ہزار میگا واٹ آپریشنل بجلی حاصل ہو رہی ہے جو کہ ضرورت کے اعتبار سے بہت ہی کم ہے، بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے اربوں روپے کے منصوبوں پر دن رات کام ہو رہا ہے، آئندہ 8 سالوں میں 21 ہزار میگاواٹ اضافی بجلی پیدا کریں گے۔ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کے سنگ بنیاد کے موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف، وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف، ایم این ایز اور ممبر صوبائی اسمبلی کے علاوہ چینی حکام بھی موجود تھے۔

اس موقع پر وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چین نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا اور بھی چین کے تعاون سے ساہیوال میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کا افتتاح کیا جا رہا ہے، کم سے کم عرصے میں کوئلے کی مدد توانائی کا حصول وزیراعظم پاکستان کا وژن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں دوسرے ممالک کی طرح توانائی حاصل کرنے کے ذرائع نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود ہم حکومت بجلی کے بحران پر قابو پا کر ملک کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔
 

arifkarim

معطل
چین پاکستان کیلئے کام تو کر دیتا ہے پر ترسا ترسا کر۔ اسکی آج تک وجہ سمجھ نہیں آئی۔ ہو سکتا ہے امریکی دباؤ کی وجہ سے ایسا ہو۔ خیر ابھی چند برس میں چین دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی قوت ہوگا۔ پھر امریکہ کا دباؤ بے معنی ہوگا۔
 

الف نظامی

لائبریرین
پنجاب میں وہ بھی ساہیوال میں‘ جب آنے والے دنوں کے وزیراعظم نے‘ کوئلے سے بجلی پیدا کرنا شروع کر دی تومیں نے جس خوف سے چین جانا چھوڑ دیا تھا‘پاکستان آکر سمجھا کہ اب کالا سیاہ ہونے سے بچ جاوں گا لیکن خطرہ اپنے ہی وطن میں جنم لے رہا ہے ۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کی فیکٹری لگا کر‘ لال سرخ چہروں کے قدرتی رنگ ‘گہرے گندمی کر ڈالے ہیں۔
جب سے ہمارے وزیراعلیٰ نے خادم اعلیٰ بن کر‘ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے ارادے پر عمل کر دکھایا ہے توسارے اہل پنجاب اپنے انجام سے ڈرنے لگے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اپنا نام خادم اعلیٰ رکھا تو ساہیوال کی ساری بستیوں میں خوف کی لہر دوڑ
گئی۔جب میاںشہبازشریف نے خادم اعلیٰ کا تخلص اختیار کر کے‘ کوئلے سے بجلی بنانے کی دھمکی دی تو گردونواح کے گندمی کسان خوف سے دھندلانے لگے۔ہمارے قصبوں اور دیہات میں کچے گھروں کے بیرونی کمروں میں‘ لوہے کی بھٹیاں لگائی جاتی تھیں اور لوہا جب سرخ ہوتا توگھر کے سارے جوان ‘سرخ لوہے کو بڑے بڑے ہتھوڑوں سے‘ پیٹ کر برتنوں کی شکلیں نکالتے۔لیکن ایسی بھٹیوں کی تعداد بہت کم ہوتی۔ لوہار سادہ لوح دیہاتیوں کے سادہ سے برتن بنا کر اپنا کام چلا لیتے۔ان بھٹیوں سے نہ تو کالی گرد نکلتی۔ بلکہ بکھرتے ہوئے دھوئیں کے اندر چمکتی چنگاریاں ‘بجھتی ہوئی ریشمی راکھ‘ ہوا کے جھونکوں پر نثار ہو جاتیں۔ان چنگاریوں کی ریشمی راکھ‘ تازہ ہوائوں سے چہلیں کر تے ہوئے‘ شہروں اور دیہات کے ماحول میں اپنی چمک یوں چھوڑتی ہوئی رخصت ہو جاتیں جیسے رات کے اندھیروں میں جگنو چمکتے ہوں۔ہمارے ملک کے موجودہ حکمرانوں میں‘ ایسے لوہار ہیںجو کوئلوں کے اندر سے چنگاریاں نکال کر‘ شہریوں اور دیہاتیوں کے منہ پر راکھ مل دیتے ہیں۔ حکمران خاندان نے ہمارے شہروں اور بستیوں پر راکھ کے بادل پھیلانا شروع کر دئیے ہیں۔ میں کوئلے سے بنتی ہوئی بجلی کا ماحول چین میں دیکھ کر آیا ہوں۔ جن قوموں نے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کی راہ نکالی‘ آج وہ پچھتا رہی ہیں۔ ہر چند پانی کے دھاروں سے نکلنے والی بجلی‘ کوئلے سے نکالی گئی بجلی کے مقابلے میں ہزار درجے بہتر ہے۔ اگرکوئلوں سے نکالی گئی بجلیاں ہمارے گھروں کو چمکانے لگیں تو کوئلوں کی راکھ ہمارے رنگ کالے کرتے کرتے‘ وہ حالت کرے گی کہ جب افریقہ سے آئی کرکٹ ٹیم‘ ہمارے کسی گرائونڈ میں کھیلے گی تو شائقین کے لئے پہچاننا مشکل ہو جائے گا کہ چوکا مارنے والا کھلاڑی‘ مہمان ٹیم کا ہے یا ہمارا؟
کالیاں اِٹّاں کالے روڑ
چھڑک دے بجلی زور و زور
 

Muhammad Qader Ali

محفلین
پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ کے بقول اس پلانٹ کے چلنے سے آدھا پنجاب ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہو جائے گا (مطلب سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریاں)۔ پی پی والے بھی کبھی کبھی صحیح بات کہہ ہی دیتے ہیں!
کپھے کپھے پاکستان کپھے۔:)
 
Top