بشیر بدر ساتھ چلتے جا رہے ہیں پاس آ سکتے نہیں

فہد اشرف نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 21, 2017

  1. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    7,153
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    غزل

    ساتھ چلتے جا رہے ہیں پاس آ سکتے نہیں
    اک ندی کے دو کناروں کو ملا سکتے نہیں

    دینے والے نے دیا سب کچھ عجب انداز سے
    سامنے دنیا پڑی ہے اور اٹھا سکتے
    نہیں

    اس کی بھی مجبوریاں ہیں، میری بھی مجبوریاں
    روز ملتے ہیں مگر گھر میں بتا سکتے نہیں

    کس نے کس کا نام اینٹوں پر لکھا ہے خون سے
    اشتہاروں سے یہ دیواریں چُھپا سکتے نہیں

    راز جب سینے سے باہر ہو گیا اپنا کہاں
    ریت پر بکھرے
    ہوئے آنسو اٹھا سکتے نہیں

    آدمی کیا ہے گزرتے وقت کی تصویر
    ہے
    جانے والے کو صدا دے کر بلا سکتے نہیں

    شہر میں رہتے ہوئے ہم کو زمانہ ہو گیا
    کون رہتا ہے کہاں کچھ بھی بتا سکتے نہیں

    اس کی یادوں سے مہکنے لگتا ہے سارا بدن
    پیار کی خوشبو کو سینے میں چھپا سکتے نہیں

    پتھروں کے برتنوں میں آنسوؤں
    کو کیا رکھیں
    پھول کو لفظوں کے گملوں میں کھلا سکتے نہیں

    (بشیر بدر)
    (انتخاب
    از آمد)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    14,878
    جھنڈا:
    Pakistan
    کیا آج بشیر بدر کا کوئی ڈے ہے؟؟؟
    :confused4::confused4::confused4:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  3. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    7,153
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    اب کتاب اٹھا لیا تو پھر بنا کچھ پوسٹ کیے کیوں رکھوں:p
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    14,878
    جھنڈا:
    Pakistan
    تو کیا پوری کتاب ٹائپ کرکے پوسٹ کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔
    مارے گئے پھر تو!!!
    :doh::doh::doh:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  5. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    7,153
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    اب تو کتاب رکھ دی :D
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    2,285
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    واہ بہت خوب
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر