امرتا پریتم سائیں

فلک شیر

محفلین
سائیں

سائیں!تو اپنی چلم سے
تھوڑی سی آگ دے دے
میں تیری اگر بتی ہوں
اور تیری درگاہ پر مجھے
ایک گھڑی جلنا ہے۔ ۔ ۔​
یہ تیری محبت تھی
جو اس پیکر میں ڈھلی
ا ب پیکرسلگے گا
تو ایک دھواں سا اٹھے گا
دھوئیں کا لرزاں بدن
آہستہ سے کہے گا
جو بھی ہوا بہتی ہے
درگاہ سے گذرتی ہے
تیری سانسوں کو چھوتی ہے​
سائیں!آج مجھے
اس ہوا میں ملنا ہے
سائیں!تو اپنی چلم سے
تھوڑی سی آگ دے دے
میں تیری اگر بتی ہوں
اور تیری درگاہ پر مجھے
ایک گھڑی جلنا ہے۔ ۔ ۔
جب بتی سلگ جا ئے گی
ہلکی سی مہک آئے گی
اور پھر میری ہستی
راکھ ہو کر
تیرے قدم چھوئے گی
اسے تیری درگاہ کی
مٹی میں ملنا ہے۔ ۔ ۔

سائیں!تو اپنی چلم سے
تھوڑی سی آگ دے دے
میں تیری اگر بتی ہوں
اور تیری درگاہ پر مجھے
ایک گھڑی جلنا ہے۔ ۔ ۔
پنجابی سے ترجمہ از اسماء سلیم​
 

غدیر زھرا

لائبریرین
جب بتی سلگ جا ئے گی
ہلکی سی مہک آئے گی
اور پھر میری ہستی
راکھ ہو کر
تیرے قدم چھوئے گی
اسے تیری درگاہ کی
مٹی میں ملنا ہے۔ ۔ ۔

کیا کہنے بہت خوب -
 

شمشاد

لائبریرین
بہت خوب کلام ہے۔

اور متفق ہوں کہ پنجابی والی بھی شریک محفل ہو جاتی تو کیا ہی بات تھی۔
 

تلمیذ

لائبریرین
بہت اعلی ، چیمہ صاحب۔
ساریاں وانگوں میری وی ایخو ای اچھااے، پئی پنجابی نظم وی ہونی چاہی دی اے۔
 
Top