سائیں سائیں کرتی لائبریری، نیشنل لائبریری آف پاکستان

نبیل

تکنیکی معاون
حوالہ : بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد، مارگلہ کی پہاڑیوں کا دامن اور وزیراعظم سیکرٹیریٹ کی قربت، یہ ہے نیشنل لائبریری آف پاکستان کا محل وقوع۔

پاکستان کی اس جدید ترین لائبریری میں کوئی ڈیڑھ لاکھ کتب کاذخیرہ ہے۔ مطالعے کا ذوق رکھنے والوں کے لئے چار بڑے ہال ہیں جو بیک وقت پانچ سو افراد کو وہیں پر کتب بینی کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ لیکن یہ کیا کہ کتابیں تو ہیں مگر پڑھنے والے نہیں۔

اسلام آباد دس لاکھ کی آبادی کا شہر ہے جہاں مکینوں کی اکثریت تعلیم یافتہ سرکاری ملازمین پر مشتمل ہے ۔ ان ابتدائی معلومات کے ساتھ لائبریری کی طرف جانے والا ہر شخص یہ سمجھنے میں حق بجانب ہو گا کہ یہ جگہ اہل اسلام آباد کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں اور ظاہر ہے یہاں بھیڑ تو ہو گی ہی۔ لیکن لائبریری کے مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی یہ خیال بدل جاتا ہے۔

سو سے زائد لوگوں کے بیٹھنےکی گنجائش والے ہر ایک ہال میں صرف چند لوگ مطالعے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب نہایت ہی سلیقے سے الماریوں میں رکھی گئی کتابیں یہ شکایت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ ان میں سےاکثر کو کوئی نہیں پڑھتا۔




مزید پڑھیں۔۔
 

شمشاد

لائبریرین
آجکل کے دور میں اتنا وقت کس کے پاس ہے کہ وہاں جا کر وقت " ضائع " کرتا رہے۔ اور پھر اتنی دور کوئی جائےکیسے؟
 

arifkarim

معطل
نشینل لائبریری آف پاکستان میں روزانہ ایک سو آٹھ ملکی اخبارات یہاں آنے والوں کے لئے دستیاب ہوتے ہیں۔ ایک اور دلچسپ حقیقت یہ سامنے آئی کہ یہاں آنے والوں کی اکثریت حالات حاضرہ کی بجائے اخبارات میں خالی آسامیوں کے لئے چھپنے والے اشتہارات یا ٹینڈر نوٹس دیکھتی ہے۔

میرے خیال میں یہ وجہ کافی ہے یہ بتانے کیلئے کہ ہماری نیشن ’’نیشنل‘‘ لائبریری کا رُخ کیوں نہیں‌کرتی۔ پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہوں تو کتاب پر نظر جمانا مشکل ہو جاتا ہے۔ (میرا ذاتی تجربہ ہے، کوئی صاحب دل پر نہ لیں)
 
بدقسمتی سے مجھے بھی وہاں ایک دفعہ جانے کا اتفاق ہوا ہے اور ہمیں تو اندر ہی گھسنے نہیں دیا گیا بلکہ ایک کمپیوٹر پر سرچ کرنے کے بعد ہمیں وہاں سے نامراد آنا پڑا۔
اگر کسی نیشنل لائبریری میں یہ حال ہو تو باقی چھوٹی لائبریریز کا اللہ ہی حافظ ۔
ہمارے لوگ ایک کام بہت زیادہ کرتے ہیں اور وہ ہے اخبارات کی ورق بینی ۔
ہمارے اپنے علاقے میں میونسپل کمیٹی کی ایک لائبریری ہے مگر وہ لائبریری کم اور اخباری ریڈنگ روم زیادہ نظر آتا ہے۔ روزانہ بلا مبالغہ عموماً ہر اخبار کی دس سے زیادہ کاپیاں آتی ہیں جس پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں لیکن اسی لائبریری میں کل کتابوں کی تعداد چند ہزار ہے اور ان کے پڑھنے والے معدودے چند۔
 

جاسمن

مدیر
حوالہ : بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد، مارگلہ کی پہاڑیوں کا دامن اور وزیراعظم سیکرٹیریٹ کی قربت، یہ ہے نیشنل لائبریری آف پاکستان کا محل وقوع۔

پاکستان کی اس جدید ترین لائبریری میں کوئی ڈیڑھ لاکھ کتب کاذخیرہ ہے۔ مطالعے کا ذوق رکھنے والوں کے لئے چار بڑے ہال ہیں جو بیک وقت پانچ سو افراد کو وہیں پر کتب بینی کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ لیکن یہ کیا کہ کتابیں تو ہیں مگر پڑھنے والے نہیں۔

اسلام آباد دس لاکھ کی آبادی کا شہر ہے جہاں مکینوں کی اکثریت تعلیم یافتہ سرکاری ملازمین پر مشتمل ہے ۔ ان ابتدائی معلومات کے ساتھ لائبریری کی طرف جانے والا ہر شخص یہ سمجھنے میں حق بجانب ہو گا کہ یہ جگہ اہل اسلام آباد کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں اور ظاہر ہے یہاں بھیڑ تو ہو گی ہی۔ لیکن لائبریری کے مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی یہ خیال بدل جاتا ہے۔

سو سے زائد لوگوں کے بیٹھنےکی گنجائش والے ہر ایک ہال میں صرف چند لوگ مطالعے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب نہایت ہی سلیقے سے الماریوں میں رکھی گئی کتابیں یہ شکایت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ ان میں سےاکثر کو کوئی نہیں پڑھتا۔




مزید پڑھیں۔۔
اس طرح کی کیفیت اب تقریباََ ہر کتب خانے میں نظر آ رہی ہے۔ افسوس!
 
Top