سائنس مسلسل خاموش کیوں؟

جاسم محمد

محفلین
بھئی پھر بھی مومنین پر تو ایمان و مذہب کی کچھ نہ کچھ پابندی ہوگی ملحدین تو مکمل آزاد ہوں گے ۔حتی کہ مادر پدر آزاد ۔۔۔۔
یا حیرت۔ آپ اتنے وثوق سے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ دنیا بھر کے تمام ملحد مادر پدر آزاد ہیں؟ جب دنیا میں کسی دین و مذہب کا وجود تک نہیں تھا کیا اس وقت انسانوں میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں تھی؟
 

جاسم محمد

محفلین
کائنات خود بخود بن گئی ؛ یہ ایک غیر معمولی دعوی ہے
یہ دعویٰ کس نے کیا ہے؟ مرحوم ماہرطبیعات اسٹیفن ہاکنگ کا ماننا تھاکہ کائنات کو شروع کرنے کیلئے کسی خدائی عمل کی ضرورت نہیں تھی۔ اور موجودہ قوانین فطرت بگ بینگ یعنی ابتدائے کائنات کے لئے کافی ہیں۔
ہاکنگ نے کہیں یہ نہیں کہا کہ قوانین فطرت اپنے آپ وجود میں آگئے۔
Stephen Hawking: God was not needed to create the Universe
 

فرقان احمد

محفلین

وقارسہیل

محفلین
درست جناب لیکن اس اقتباس پر رہا نہ گیا:
آپ رد کریں پھر بات آگے بڑھے گی۔ جو اعتراض ہے وہ کیجیے۔ اس طرح تو کوئی بھی کسی بھی جملے کو مسترد کرسکتاہے۔ جب تک آپ اعتراض نہیں کریں گے آپ کا مؤقف کوئی نہیں سمجھے گا۔ اس طرح "رہا نہ جانا" کا کھیل بہت آسان ہوتاہے۔ وگرنہ پھر اس گفتگو کا وجود ہی بے معنی ہے۔ آپ یا تو کچھ زیادہ ہی فلسفی بن گئے ہیں یا بننے کی کوشش کررہے ہیں۔
 

وقارسہیل

محفلین
اس پر میں صرف اتنا کہہ سکتاہوں کہ ملحدین یا لبرلز نے جب بھی مذہب کو دیکھا ہے مغرب کے فرسودہ دیومالائی نظر سے۔ اور انتہائی حیرت کی بات ہے کہ اوپر آپ نے جس ہاکنگ کا ذکر کیا ہے اسے بھی یہی قصے کہانیاں نصابی اور غیر نصابی طریقوں سے ذہن میں بٹھا کر خدا کا تصورپختہ کرایاگیا۔ آپ یہ نہ کہیں کہ میں شائد یہ کہنا چاہ رہاہوں کہ اسٹیفن ہاکنگ نے خود کوئی مطالعہ نہیں کیا تھا۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ مغربی ماہرین کا المیہ ہی یہ رہا ہے کہ انہیں خدا کے اسلامی تصور اور دلائل اور طریقۂ استدلال کی ہوا نہیں لگی یا نہیں لگائی جاتی۔ وگرنہ خدا کے بارے میں اس طرح کے من گھڑت اور اساطیری داستانیں اگر کسی مسلمان بچے کو بھی بچپن سے پڑھائی جائے توبڑا ہو کر وہ مرتد ہی ہوسکتاہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اسٹیفن ہاکنگ کی تمام کتب میں ایک بھی موقع پر خدا کا اسلامی تصور کا ذکر موجود نہیں۔ اس کا اندازہ کرنے کے لیے آپ اُن کی آخری کتاب کا سوال نمبر دو مطالعہ کرسکتےہیں۔ جب کہ
اسٹیفن ہاکنگ نے جو یہ کہا کہ موجودہ قوانین فطرت ہی بِگ بینگ کے لیے کافی ہیں تو اس کا ثبوت بھی وہ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ حالاں اب تک تو قوانینِ فطرت کو کلی طور پر کوئی یہ بھی نہیں سمجھ سکا ہے کہ گرویٹی کیا ہے اور اس کا دیگر تین قوتوں کے ساتھ تعلق کیا۔ چہ جائیکہ وہ بِگ بینگ جیسے اربوں سال قبل وقوع پذیر ہونے اور اس کے لیے درکار موجودہ قوانین کا بِگ بینگ اور اس سے قبل کے حالات پر استنباط کرسکے۔ اسٹیفن ہاکنگ کی قابلیت تو "ایم-تھیوری" پر جاکر ختم ہوجاتی ہے۔
 
آخری تدوین:

جاسم محمد

محفلین
ان بیانات میں تو 'کُن' کے پورے امکانات موجود ہیں ۔۔۔!
اسٹیفن ہاکنگ نے جو یہ کہا کہ موجودہ قوانین فطرت ہی بِگ بینگ کے لیے کافی ہیں تو اس کا ثبوت بھی وہ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ حالاں اب تک تو قوانینِ فطرت کو کلی طور پر کوئی یہ بھی نہیں سمجھ سکا ہے کہ گرویٹی کیا ہے اور اس کا دیگر تین قوتوں کے ساتھ تعلق کیا۔ چہ جائیکہ وہ بِگ بینگ جیسے اربوں سال قبل وقوع پذیر ہونے اور اس کے لیے درکار قوانین کا استنباط کرسکے۔
گو کہ تمام قوانین فطرت کو انسان نے آج دریافت کیا ہے۔ مگر اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ بگ بینگ کے وقت بھی جوں کے توں موجود تھے۔ اور انہی قوانین کے بدولت پوری کائنات وجود میں آئی ہے۔ یہاں وقت کو سُرخ زدہ اس لئے کیا کیونکہ سائنسدانوں کے مطابق اس کی اپنی ایک ڈائی مینشن ہیں۔ جو بگ بینگ کے ساتھ ہی وجود میں آئی ہے۔ یعنی بگ بینگ سے "قبل" کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ تب وقت کا اپنا کوئی وجود نہیں تھا۔
یہاں اہل ایمان کہہ سکتے ہیں کہ یہ قوانین فطرت جو کہ اٹل ہیں کوخدا نے ہی تخلیق کیا ہے۔ جس پر کل کائنات کا ڈھانچہ بگ بینگ سے لے کر اب تک قائم و دائم ہے۔
جبکہ دہریے یا ملحدین کے پاس اس کا تاحال کوئی جواب نہیں۔
 

وقارسہیل

محفلین
گو کہ تمام قوانین فطرت کو انسان نے آج دریافت کیا ہے۔ مگر اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ بگ بینگ کے وقت بھی جوں کے توں موجود تھے۔
پہلی بات درست نہیں۔ آپ ثابت کریں کہ تمام قوانینِ فطرت کو دریافت کرلیاگیا ہے۔
بِگ بینگ کے وقت سے آپ کی کیا مراد ہے؟ اگر جس وقت یہ دھماکہ ہورہاتھا تو اس دھماکے کی ابتدائی "شدیدترین" حالات میں جب کائنات ایک "نقطہ" تھا اس وقت کائنات کی کمیت اور تمام حالات موجودہ صورتِ حال سے لامتناہی طور پر مختلف تھے لہذا آپ کبھی بھی آج کے کائناتی قوانین کو اس پر لاگو نہیں کرسکتے۔
 

فلسفی

محفلین
بھائی آپ تو مجھے کوئی مداری لگ رہے ہیں جو جواب دینے کے بجائے زبان نکالتے ہیں۔۔۔ شائد آپ نے ریزننگ نہیں سیکھی۔

جب دلیل ہو تو زبان نکالنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اگر دلیل نہیں رہی تو پھر بھی سنجیدہ گفتگو میں زبان نکالنے کی کوئی تُک نہیں بنتی۔

وقارسہیل صاحب محفل میں خوش آمدید، آپ تعارف کے زمرے میں جا کر ذرا اپنا تعارف بھی کروا دیجیے۔

واہ جی واہ۔ کیا دھماکے دار انٹری ہے صاحب۔ اور آتے ہی بابا جی سے پرشاد بھی لے لیا۔ :LOL:

میاں شکر مناؤ کہ آتے ہی بابا جی نے پرشاد دے دیا۔ ویسے تو آپ جس انداز میں گفتگو کررہے ہیں مجھے لگتا ہے کہ بابا جی کی آپ پر خاص نظرِ عنایت رہے گی۔ ہم پر تو پہلے سے تھی اب لگتا ہے کہ آپ مرید خاص کی جگہ لینے جا رہے ہیں۔:)۔ پریشان ہونے کی چندا ضرورت نہیں، پرشاد آپ کو وقتا فوقتا ملتا رہے گا۔ بس خیال کیجیے گا کہ کوئی شدید خودکش حملہ (الفاظ کے استعمال کی طرف اشارہ ہے) ایسا نہ کیجیے گا کہ منتظمین کو مرید کو باہر نکالنا پڑ جائے۔
 

وقارسہیل

محفلین
وقارسہیل صاحب محفل میں خوش آمدید، آپ تعارف کے زمرے میں جا کر ذرا اپنا تعارف بھی کروا دیجیے۔

واہ جی واہ۔ کیا دھماکے دار انٹری ہے صاحب۔ اور آتے ہی بابا جی سے پرشاد بھی لے لیا۔

میاں شکر مناؤ کہ آتے ہی بابا جی نے پرشاد دے دیا۔ ویسے تو آپ جس انداز میں گفتگو کررہے ہیں مجھے لگتا ہے کہ بابا جی کی آپ پر خاص نظرِ عنایت رہے گی۔ ہم پر تو پہلے سے تھی اب لگتا ہے کہ آپ مرید خاص کی جگہ لینے جا رہے ہیں۔:)۔ پریشان ہونے کی چندا ضرورت نہیں، پرشاد آپ کو وقتا فوقتا ملتا رہے گا۔ بس خیال کیجیے گا کہ کوئی شدید خودکش حملہ (الفاظ کے استعمال کی طرف اشارہ ہے) ایسا نہ کیجیے گا کہ منتظمین کو مرید کو باہر نکالنا پڑ جائے۔
فی الحال تو مجھے صرف اس بات کا انتظار ہے کہ یہ صاحب کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔
 

فاخر رضا

محفلین
تصاویر، ویڈیو، میڈیکل رپورٹ وغیرہ۔ عینی شہادت میں کافی مسائل ہوتے ہیں
میں اسی بات کا انتظار کررہا تھا
اس سے متفق ہونا ضروری نہیں کیونکہ اس پر بہت اعتراضات کئے جا سکتے ہیں. مگر اس طرح کے اتنے ثبوت موجود ہیں کہ ان سب کو یکسر جھٹلانا مشکل ہے
اس کے علاوہ آپ کے لئے خاص طور پر ایک آیت قرآن کیونکہ میرے خیال میں آپ مومن ہیں
آل عمران 169
 

جاسم محمد

محفلین
مگر اس طرح کے اتنے ثبوت موجود ہیں کہ ان سب کو یکسر جھٹلانا مشکل ہے
میرے خیال میں اس قسم کے ثبوت کہیں بھی شہادت کے طور ناکافی ہیں۔ اہل ایمان کے لئے تو نہایت ہی آسان ہے کہ ایسے کسی شہید کے جسم خاکی کو جو کئی سال بعد بھی صحیح سلامت ہوقبر سے نکال کر لیبارٹری سے ٹیسٹ کر وا لیں۔ اور یوں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ناقدین کا منہ بند کردیں۔ یقینا سائنسدانوں کے لئے ایسے اجسام کسی نئی دریافت سے کم نہیں ہوں گے۔
 

سید ذیشان

محفلین
پاسکال کے wager کو حضرت علی سے کب منسوب کیا گیا؟

Allamah Abu Hamid Al-Ghazali (died in 1111 A.D.) mentions in Mizanul-Aamal that: "Ali - God have grace on him - said to a man who contested with him on the question of the other world: If the truth is what you pretend (i.e., there is no life hereafter), then we shall all be saved; but if the truth is what I have said (i.e., there: is a life hereafter) then you will be condemned and I shall be saved.

ربط
 

جاسم محمد

محفلین
Allamah Abu Hamid Al-Ghazali (died in 1111 A.D.) mentions in Mizanul-Aamal that: "Ali - God have grace on him - said to a man who contested with him on the question of the other world: If the truth is what you pretend (i.e., there is no life hereafter), then we shall all be saved; but if the truth is what I have said (i.e., there: is a life hereafter) then you will be condemned and I shall be saved.

ربط

In 1662, a collection of Pascal’s thought that he had written in a fragmented form was published posthumously. In that book, appropriately titled Pensées (Thoughts), Pascal argued that probability favoured a wager in believing in God. This argument became known as Pascal’s Wager

In some ways, Pascal was expressing in the mathematics of probability what Hazrat Ali had expounded almost 1,000 years before Pascal was born

Hazrat Ali was one of the greatest intellectuals of his time. He had reportedly once told a pagan who did not believe in life after death somewhat along the lines of that if there was no life after death, that is, if he (Ali) were wrong and the pagan was right, then he could be at a loss in this world but would have no loss in the hereafter

However, Hazrat Ali argued that his loss in this world as a believer would be much less compared to the loss of the pagan in the hereafter for not believing in life after death
if in reality there was one
Of probability and faith - Newspaper - DAWN.COM

زیک
 
یا حیرت۔ آپ اتنے وثوق سے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ دنیا بھر کے تمام ملحد مادر پدر آزاد ہیں؟ جب دنیا میں کسی دین و مذہب کا وجود تک نہیں تھا کیا اس وقت انسانوں میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں تھی؟
ارے یارو یہ بحث کہیں اور ہی نکل چکی ہے بلکہ کافی فاصلہ بھی طے کر چکی ہے :) ۔
بھئی آپ نے میری بات کو سمجھا نہیں مذہب تو انسان پر پابندی لگاتا ہے اسی پابندی پر مانے والوں کو اکٹھا رکھتا ہے ۔(مذہبی انسان مانے یا نہ مانے یہ ایک الگ بحث ہے)۔میری بات کا یہ مطلب نہیں بلکہ ہر گز نہیں کہ ہر ملحد ہی مادر پدر آزاد ہے ۔آپ نے یہ نتیجہ نکالنے میں بہت تعجیل کی۔پھر اپ کی وضاحت کے لیے کہہ دیتا ہوں کہ عملی طور پر کسی ملحد کا کسی مذہبی انسان سے معاشرے کے لیے مفید ہو نا بھی عین ممکن ہے ۔ ( یہ بات البتہ طے ہے کہ فائدے نقصان کے تعین کے لیے ملحد ین کوئی موثر بنیاد نہیں رکھتے۔ )
جبکہ ملحد ین نظریاتی طور پر پابندی کی کس بنیاد کو تسلیم کرتے ہیں ؟
دو ملحد اگر نظریاتی طور پر اختلاف رکھتے ہیں تو کس بنیاد پر فیصلہ کریں گے؟ (خدارا اب جمہوریت نہ کہہ دینا :) ) ۔
 
Top