واصف زندگی سنگِ درِ یار سے آگے نہ بڑھی - واصف علی واصفؒ

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 24, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,138
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    زندگی سنگِ درِ یار سے آگے نہ بڑھی
    عاشقی مطلعِ دیدار سے آگے نہ بڑھی

    تیرگی کیسوئے خمدار سے آگے نہ بڑھی
    روشنی تابشِ رُخسار سے آگے نہ بڑھی

    دلبری رونقِ بازار سے آگے نہ بڑھی
    سادگی حسرتِ اظہار سے آگے نہ بڑھی

    خود فراموش ترے عرش کو چُھو کر آئے
    خواجگی جُبّہ و دستار سے آگے نہ بڑھی

    بس میں ہوتا تو تری بزم سجاتے ہم بھی
    بے بسی سایہِ دیوار سے آگے نہ بڑھی

    جلوہِ ذات سے آگے تھی فقط ذات ہی ذات
    بندگی رقصِ سرِ دار سے آگے نہ بڑھی

    بے خودی دشت و بیاباں سے ورا ہے واصفؔ
    آگہی وادئِ پُر خار سے آگے نہ بڑھی ​
    واصف علی واصفؒ
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر