زخم سینے میں جو ناسور ہوئے ہیں --- غزل برائے اصلاح

شام

محفلین
زخم سینے میں جو ناسور ہوئے ہیں​
وہ چھپانے لوگوں سے دور ہوئے ہیں​
جانے کیا تھا ساقی کی نظر میں اس شب​
مے کدے میں شیشے سب چور ہوئے ہیں​
وہ جو تیرے بن نہ اک لمحہ رہتے تھے​
تیری ہی باتوں سے رنجور ہوئے ہیں​
آج مجھ کو وہ بلانے سے ہیں عاری​
میری غزلوں سے جو مشہور ہوئے ہیں​
اب کسی جانب نہیں دیکھ پاتے ہم​
تیری یادوں میں یوں محصور ہوئے ہیں​
 

الف عین

لائبریرین
اس وقت گور سے دیکھی نہیں تھی۔ اب اصلاح کے لئے بیٹھا تو پتہ چلا کہ یہ غزل تو کسی بھی بحر سے آزاد ہے۔ ساڑھے پانچ رکنی فعلن نزدیک ترین بحر ہو سکتی ہے۔
زخم جو سینے میں تھے، وہ ناسور ہوئے
اب یہ مشق تم ہی کر لو کہ ردیف کی ’ہیں‘ نکال کر اس بحر میں سارے اشعار کر لو، اور پھر مجھے آواز دے لو۔
 

شام

محفلین
اس وقت غور سے دیکھی نہیں تھی۔ اب اصلاح کے لئے بیٹھا تو پتہ چلا کہ یہ غزل تو کسی بھی بحر سے آزاد ہے۔ ساڑھے پانچ رکنی فعلن نزدیک ترین بحر ہو سکتی ہے۔
زخم جو سینے میں تھے، وہ ناسور ہوئے
اب یہ مشق تم ہی کر لو کہ ردیف کی ’ہیں‘ نکال کر اس بحر میں سارے اشعار کر لو، اور پھر مجھے آواز دے لو۔

شکریہ استاد محترم
میں اس کو آپ کے مشورے کے مطابق درست کرنے کی کوشش کرتا ہوں

ایک سوال:-

میرا خیال تھا کہ میری غزل "فاعلاتن فاعلاتن مفاعیلن" کی بحر میں ہے ، تو کیا ایسی کوئی بحر ہے بھی یا نہیں
 
شام کی غزل برائے اصلاح کو ہم نےیوں کوشش کی ہے ۔ دو مختلف بحروں میں۔ کیا خیال ہے؟
زخم سینے کے مرے جو بن گئے ناسور آج
گوچھپانے میں انہیں ہم ان سے ہوگئے دور آج

جانے کیا پنہاں تھا انکی اک نظر میں آج شب
مے کدے کے سارے شیشے ہوگئے ہیں چور آج

وہ جو تیرے بن نہ اک لمحہ کہیں رہتے تھے ہم
تیری ہی باتوں سے ہوگئے ہیں بہت رنجور آج

آج مجھ کو وہ بلانے سے ہیں عاری، دیکھ لو!
میری غزلوں سےہوئے ہیں جو بہت مشہور آج

اب کسی جانب نہیں جو دیکھ پاتے ہم بھلا
تیری یادوں میں ہوئے یوں صید اور محصور آج

زخم سینے کے جو ناسور ہوئے ہیں
غم چھپائے دلِ مہجور ہوئے ہیں

جانے کیا رمزتھا ساقی کی نظر میں
شیشے مئے خانے کے سب چور ہوئے ہیں

بن تیرے وہ جو نہ رہ پاتے تھے اِک پل
تیری باتوں سے ہی رنجور ہوئے ہیں

آج مجھ کو وہ بلانے سے ہیں عاری
میری غزلوں سے جو مشہور ہوئے ہیں

اب کسی سمت نہیں دیکھ سکےہیں
تیری یادوں میں یوں محصور ہوئے ہیں
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
شام کی غزل برائے اصلاح کو ہم نےیوں کوشش کی ہے ۔ دو مختلف بحروں میں۔ کیا خیال ہے؟
زخم سینے کے مرے جو بن گئے ناسور آج
گوچھپانے میں انہیں ہم ان سے ہوگئے دور آج

جانے کیا پنہاں تھا انکی اک نظر میں آج شب
مے کدے کے سارے شیشے ہوگئے ہیں چور آج

وہ جو تیرے بن نہ اک لمحہ کہیں رہتے تھے ہم
تیری ہی باتوں سے ہوگئے ہیں بہت رنجور آج

آج مجھ کو وہ بلانے سے ہیں عاری، دیکھ لو!
میری غزلوں سےہوئے ہیں جو بہت مشہور آج

اب کسی جانب نہیں جو دیکھ پاتے ہم بھلا
تیری یادوں میں ہوئے یوں صید اور محصور آج

زخم سینے کے جو ناسور ہوئے ہیں
غم چھپائے دلِ مہجور ہوئے ہیں

جانے کیا رمزتھا ساقی کی نظر میں
شیشے مئے خانے کے سب چور ہوئے ہیں

بن تیرے وہ جو نہ رہ پاتے تھے اِک پل
تیری باتوں سے ہی رنجور ہوئے ہیں

آج مجھ کو وہ بلانے سے ہیں عاری
میری غزلوں سے جو مشہور ہوئے ہیں

اب کسی سمت نہیں دیکھ سکےہیں
تیری یادوں میں یوں محصور ہوئے ہیں

واہ سر بہت خوب،
مجھے تو دوسری والی زیادہ پسند آئی ہے۔
 

شام

محفلین
میرے خیال میں تو فاعلاتن فاعلاتن مفاعیلن کوئی بحر نہیں ہے۔

شکریہ سر پھر میں اسے آپ کی بتائی گئی بحر میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہوں

فاعلات میں آٹھویں دائرے منعکسہ کے بیان میں یہ بحر ، بحر قلیب کے نام سے رقم ہے ۔ شاید اردو میں مستعمل نہ ہو
 

شام

محفلین
شام کی غزل برائے اصلاح کو ہم نےیوں کوشش کی ہے ۔ دو مختلف بحروں میں۔ کیا خیال ہے؟

زخم سینے کے جو ناسور ہوئے ہیں
غم چھپائے دلِ مہجور ہوئے ہیں

جانے کیا رمزتھا ساقی کی نظر میں
شیشے مئے خانے کے سب چور ہوئے ہیں

بن تیرے وہ جو نہ رہ پاتے تھے اِک پل
تیری باتوں سے ہی رنجور ہوئے ہیں

آج مجھ کو وہ بلانے سے ہیں عاری
میری غزلوں سے جو مشہور ہوئے ہیں

اب کسی سمت نہیں دیکھ سکےہیں
تیری یادوں میں یوں محصور ہوئے ہیں

یہ والی تو مجھے بھی پسند آئی ہے مگر یہ بحر کون سی ہے اور استاد محترم کا بھی انتظار کر لیتے ہیں
 

الف عین

لائبریرین
عزیزم خلیل کی دوسری ترمیم کی بحر کے افاعیل ہیں
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن
فاعلاتن فعلاتن فعلن میں آدھے رکن کا اضافہ
 

شام

محفلین
بحر ۔۔ فاعلاتن فعلاتن فعلاتن

زخم سینے کے جو ناسور ہوئے ہیں
غم چھپائے دلِ مہجور ہوئے ہیں
جانے کیا رمزتھا ساقی کی نظر میں
شیشے مئے خانے کے سب چور ہوئے ہیں
بن ترے وہ جو نہ رہ پاتے تھے اِک پل
تیری باتوں سے ہی رنجور ہوئے ہیں
آج مجھ کو وہ بلانے سے ہیں عاری
میری غزلوں سے جو مشہور ہوئے ہیں
اور کسی سمت نہیں دیکھ سکے ہیں
تیری یادوں میں یوں محصور ہوئے ہیں

اس غزل پر مزید کوئی اصلاح یا تنقید باقی ہے یا اسے درست قرار دیا جا سکتا ہے
الف عین

ایک سوال:- کیا ہوئے کو " فع لن" یا "مفا" یا " ف ع" یا فاع" ساری صورتوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے
 

شام

محفلین
مہجور ہونے سے سینے کے ناسوروں کا کیا تعلق ہے؟
مراد یہ تھی کہ سینے کے زخم خراب ہونے کی بنا پر ہی ہم جدائی کے غم میں مبتلا ہیں

لیکن تبدیل کر دیتا ہوں

زخم سینے کے جو ناسور ہوئے ہیں
وہ چھپانے انھی سے دور ہوئے ہیں

یا

زخم سینے کے جو ناسور ہوئے ہیں
ان کو سینے سے بھی معذور ہوئے ہیں
 

شام

محفلین
بحر ۔۔ فاعلاتن فعلاتن فعلاتن
زخم سینے کے جو ناسور ہوئے ہیں
ان کو سینے سے بھی معذور ہوئے ہیں
جانے کیا رمزتھا ساقی کی نظر میں
شیشے مئے خانے کے سب چور ہوئے ہیں
بن ترے وہ جو نہ رہ پاتے تھے اِک پل
تیری باتوں سے ہی رنجور ہوئے ہیں
آج مجھ کو وہ بلانے سے ہیں عاری
میری غزلوں سے جو مشہور ہوئے ہیں
اور کسی سمت نہیں دیکھ سکے ہیں
تیری یادوں میں یوں محصور ہوئے ہیں
کیا اب اسے درست قرار دیا جا سکتا ہے
 
Top