1. اردو محفل سالگرہ پانزدہم

    اردو محفل کی پندرہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

ذوق زخمی ہوں میں اُس ناوکِ دزدیدہ نظر سے ۔ ذوق

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 22, 2010

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    غزل

    زخمی ہوں میں اُس ناوکِ دزدیدہ نظر سے
    جانے کا نہیں چور مرے زخمِ جگر سے

    ہم خوب ہیں واقف تری اندازِ کمر سے
    یہ تار نکلتا ہے کوئی دل کے گہر سے

    گر اب کے پھرے جیتے وہ کعبہ کے سفر سے
    تو جانو پھرے شیخ جی اللہ کے گھر سے

    سرمایۂ امید ہے کیا پاس ہمارے
    اک آہ بھی سینے میں سو ناامّیدِ اثر سے

    وہ خُلق سے پیش آتے ہیں جو فیض رساں ہیں
    ہے شاخِ ثمردار میں گُل پہلے ثمر سے

    حاضر ہیں مرے توسنِ وحشت کے جلو میں
    باندھے ہوئے کہسار بھی دامن کو کمر سے

    فریاد ستم کش ہے وہ شمشیرِ کشیدہ
    جس کا نہ رُکے وار فلک کی بھی سپر سے

    اشکوں میں بہے جاتے ہیں ہم جانبِ دریا
    مقصودِ زہِ کعبہ ہے دریا کے سفر سے

    اُف گرمیِ وحشت کہ مری ٹھوکروں ہی میں
    پتھر ہیں پہاڑوں کے اُڑے جاتے شرر سے

    کچھ رحمتِ باری سے نہیں دور کہ ساقی
    رو دیں جو ذرا مست تو مے ابر سے برسے

    کُشتہ ہوں میں کس چشمِ سیہ مست کا یارب
    ٹپکے ہے جو مستی مری تُربت کے شجر سے

    کھُلتا نہیں دل بند ہی رہتا ہے ہمیشہ
    کیا جانیں کہ آ جائے ہے تو اس میں کدھر سے

    نالوں کے اثر سے مرے پھوڑا سا ہے پکتا
    کیوں ریم سدا نکلے نہ آہن کے جگر سے

    اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا
    بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے

    (شیخ ابراہیم ذوق)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    بہت خوب جناب سخنور صاحب۔۔عمدہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ کاشفی صاحب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,063
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Blah
    اچھی غزل۔ مقطع بشہور مگر مبالغہ آمیز ہے۔ ان دو اشعار کو سمجھ نہ سکی۔۔۔ ہائے میری ہیچمدانی


    ہم خوب ہیں واقف تری اندازِ کمر سے
    یہ تار نکلتا ہے کوئی دل کے گہر سے

    نالوں کے اثر سے مرے پھوڑا سا ہے پکتا
    کیوں ریم سدا نکلے نہ آہن کے جگر سے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ جویریہ! کیا یہ اشعار میں سمجھاؤں یا گزارہ ہو جائے گا؟ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,063
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Blah
    بس یہ بتا دیں کہ ریم کسے کہتے ہیں؟ اور تار نکلنا کونسا محاورہ ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold

    ریم: پیپ یا پھوڑے کے پکے ہوئے مواد کو کہتے ہیں۔
    گہر سے تار نکلنا میرے خیال میں جس طرح ایک تار میں گہر پروئے جاتے ہیں تو گہر سے تار نکلتا ہے۔ میرے خیال میں اسی کو کہا گیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    اس غزل کا محض مقطع ہی سن رکھا تھا۔ مکمل غزل سے شناسائی کروانے پر آپ کا شکریہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    پسند فرمانے کے لئے آپ کا بھی بے حد شکریہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر