زبردستی کے ترجمے

زیک نے 'متفرق مقامیانا' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 2, 2006

  1. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,901
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    ہم لوگ کئی دفعہ انگریزی اصطلاحات کا اردو ترجمہ کرنے میں کچھ زیادہ ہی efficiency کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ شاید ایسے موقعوں پر انگریزی اصطلاح ہی اردو میں رکھنی زیادہ مناسب ہو۔

    اسی بارے میں خاور کی تحریر پڑھیں۔
     
  2. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    13,080
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    بات آپ کی بھی سُٹنے والی نہیں۔
    مگر کچھ رعایت ہونی چاہیے۔ واقعی سمتی رفتار کو سمتار نہیں لکھنا چاہیے۔ اگر یہ شروع سے ہی ایسے ہوتا تو اور بات تھی اب ولاسٹی چلا آرہا ہے کئی سال سے۔ اسی طرح کا احوال دوسری اصطلاحات کے لیے بھی ہوگا۔
    تاہم!!!
    جہاں سادہ آسان اور بامعنی اصطلاح اردو میں دستیاب ہوسکے وہاں گریز نہ کریں۔ مطلب کہ اصطلاح کے نام کے ساتھ ہی ذہن میں ایک بامعنی خاکہ بنے۔ تب ہی ترجمے کا مقصد پورا ہوگا۔
    مجھے دیکھ لیجیے ڈیسک ٹاپ کا ترجمہ افق سوچتا رہا مگر اعجاز صاحب نے اس کا ترجمہ سرمنظر کردیا۔ میرا نہیں خیال یہ ایک بامعنی ترجمہ نہیں۔
    اسی طرح میں مخمصے میں ‌ہوں کہ ایپلیکیشن کا ترجمہ کیا کروں۔ اعجاز صاحب نے عملیات کیا ہے جب کہ میرے خیال میں یہ اس کی ضرورت کو بالکل بھی پورا نہیں کرتا۔ گزارش، استدعا، درخواست کسی اور معنوں میں آجاتے ہیں۔ لاگو کرنا ایک فعل ہے اس سے اسم بنتا ہی نہیں۔ مصروفیت اس کا ایک اور ترجمہ ہے مگر یہ بھی مجھے نہیں لگتا کہ جچے۔
    تو اسکا حل کیا ہوگا۔ ایپلیکیشن ہی چلے۔ اور اسی طرح جس طرح لکھا ہے۔
    اور مزید یہ کہ میرا طریقہ کار یہ ہے کہ جب بھی کوئی مضمون لکھوں اس میں رائج انگریزی اصطلاح کی جگہ جب بھی اردو ترجمہ استعمال کرنے لگوں کم از کم ایک بار “یعنی“ کا لفظ ڈال کر انگریزی بھی لکھ دیتا ہوں بعد میں چاہے بیس بار استعمال کروں اردو ہی چلے گی۔ مگر قاری سمجھ جاتا ہے کہ بات کیا ہے اور اس کے بعد اسے عادی ہونے میں بھی دیر نہیں لگے گی۔
    تو عرض یہ ہے کہ ترجمہ کرنا اتنی بھی بری بات نہیں۔ مزید یہ کہ انگریزی اور اردو دو مختلف خطوں کی زبانیں ہیں۔ اردو فارسی عربی یہ زبانوں کے ایک ہی گروہ سے متعلق ہیں اس لیے ہم ان زبانوں کی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے یک گونہ اطمینان محسوس کرتے ہیں۔
    تاہم بات پھر وہی ہر چیز حد میں رہنی چاہیے۔ نا ترجمے کے لیے جناتی اصطلاحات تخلیق کریں اور نہ ہی سیدھا انگریزی کو ٹھونکنا شروع کردیں اردو میں۔ آخر لاکھوں الفاظ جو لغات میں پڑے سڑ رہے ہیں ان کا کوئی مصرف بھی تو ہونا چاہیے کہ اب انگریزی کو ہی اردو قواعد میں لکھ کر اردو کا نام دے دیں۔اور یہ جوالفاظ ہیں ان کا مقدر بس شاعری، نام نہاد ادب، ادب عالیہ اور کہانیاں ناول ہی ہیں؟؟؟
    امید ہے اور دوست بھی رائے دیں گے اس موضوع پر۔
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,645
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    شاکر میں تم سے متّفق ہوں۔ جو ترجمے ضروری ہوں وہ ضرور کئے جائیں۔ لیکن جو انگریزی میں مستعمل ہو چکے ہیں ان کو ضرور بخش دیا جائے۔ جیسے ماؤس، کلک کریں وغیرہ کا ترجمہ فرمانا بیوقوفی ہے۔
     

اس صفحے کی تشہیر