زبان کے محدود لامحدود ہونے کا قضیہ- انتظار حُسین

محمد وارث

لائبریرین
یہ انتظار حسین کا کالم ہے جو 10 نومبر 2014ء کے روزنامہ ایکسپریس، لاہور میں شائع ہوا۔ انتظار حسین نے اس کالم میں مستنصر حسین تاررڑ کو خوب سنائی ہیں جس پر تاررڑ کے مداحین بہت بے چین ہو رہے ہیں لیکن حق تو یہ ہے کہ انتظار حسین نے اردو سے اپنی محبت کا حق ادا کیا ہے۔
کالم کا ربط
کالم بشکریہ ایکسپریس
--------------------
1102517693-1.jpg


زبان کے محدود لامحدود ہونے کا قضیہ- انتظار حُسین

مستنصر حسین تارڑ کی کیا پوچھتے ہو۔ اب تو اس عزیز کے ہونٹوں سے نکلا فقرہ بھی بیسٹ سیلر بن جاتا ہے۔ ان کے ایک فقرے کی ان دنوں شہر میں بہت دھوم ہے۔ کتنے دوستوں نے ہمیں آ کر بتایا کہ تارڑ صاحب نے انگریزی میں انٹرویو دیتے ہوئے یہ بیان جاری کیا ہے کہ اردو بہت محدود زبان ہے۔

دوستوں کے کہے کو تو ہم نے ایک کان سنا‘ دوسرے کان اڑا دیا۔ مگر ایک بی بی نے بڑے غصے میں ہمیں فون کیا۔ کہا کہ میں نے تو اردو کے فروغ کے لیے تحریک چلا رکھی ہے مگر مستنصر تارڑ صاحب یہ کہہ رہے ہیں کہ اردو بہت محدود زبان ہے۔ آپ بتائیے۔ کیا یہ بات صحیح ہے۔ ہم نے تامل کیا۔ پھر کہا کہ بی بی ہم تارڑ صاحب کی تردید کیسے کریں۔ ان کی نگارشات سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اردو بہت محدود زبان ہے۔

ایک دوست نے آ کر یہ بتایا کہ تارڑ صاحب کہتے ہیں کہ اب وہ انگریزی میں لکھا کریں گے۔ اس پر ایک ستم ظریف نے ٹکڑا لگایا کہ یہ انگریزی کے لیے اچھا شگن نہیں ہے۔ وہ تو اچھی بھلی گلوبل زبان ہے۔ تارڑ کے قلم کی زد میں آ کر کہیں وہ بھی محدود زبان نہ بن جائے۔

خیر یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی۔ لیکن ہم اس پر حیران ہیں کہ اگر اردو زبان محدود زبان ہے تو یہ مسئلہ مستنصر تارڑ کو کس حساب سے پریشان کر رہا ہے۔ اس عزیز کو کونسی فلسفیانہ گتھیاں سلجھانی ہیں کہ اسے اس زبان کے ہی محدود ہونے کا احساس ہوا۔ انگریزی میں رواں حضرات جب اردو میں کسی عالمی مسئلہ پر قلم اٹھاتے ہیں تو ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کوئی فلسفیانہ نکتہ ہے تو اسے اردو میں کیسے بیان کریں۔ ان کی طرف سے یہ اعتراض آتا ہے کہ اردو محدود زبان ہے۔ اس میں نئے علمی مسائل بیان نہیں کیا جاسکتے مگر اس پر یہ بھی کہا جا سکتا ہے اور کہا گیا ہے کہ ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔

زبان سے آپ کو واقفیت نہیں ہے۔ چلے ہیں اس میں فلسفہ بگھارنے اپنی نااہلیت کا احساس نہیں۔ زبان کو الزام دیتے ہیں۔ مگر مستنصر تارڑ کے متعلق ہم ناچ نہ جاننے کا الزام نہیں لگا سکتے۔ ان کا قلم تو اردو میں خوب ناچتا ہے۔ زبان کیسی بھی لکھیں مگر رواں لکھتے ہیں جب ہی تو بیسٹ سیلر والوں کی صف میں آ گئے ہیں۔ وہ آنگن کو ٹیڑھا کیوں بتا رہے ہیں۔ کیا سفر نامے لکھتے لکھتے ان کی مٹھی میں کوئی فلسفہ آگیا ہے جو انھیں اپنے اظہار کی کوتاہی کا احساس ہو رہا ہے۔ ارے بھئی ایسی بات ہے تو اپنی زبان کی چولیں درست کر لیں۔ اس پر بھی بات نہ بنے تو پھر بیشک آنگن کو ٹیڑھا بتائیں۔ اور پھر بیشک انگریزی میں رواں ہو جائیں۔

ہم تو یہ جانتے ہیں کہ جو بھی لکھنے والا ہوتا ہے وہ شاعر ہو‘ ناول نگار ہو‘ تاریخ داں ہو‘ اسکالر ہو‘ فلسفی ہو وہ اگر صاحب ہنر ہے تو مروجہ اظہار کی کوتاہیوں کو دیکھ کر خود اپنے لیے نیا اظہار تراشتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو سب سے پہلے تو علامہ اقبال نے یہ شکایت کی ہوتی مگر انھوں نے اردو شاعری میں رائج اسالیب برتتے برتتے محسوس کیا کہ اردو شاعروں کے تراشے ہوئے یہ اسالیب جو زبان ان کے پاس جو تجربہ ہے اس کے بیان کے لیے موزوں نہیں ہے۔ تو دیکھ لیجیے ’بانگ درا‘ سے ’بال جبریل‘ تک پہنچتے پہنچتے لگتا ہے کہ اب ان کا شعری تجربہ ایک نئی زبان میں اظہار پا رہا ہے’ بانگ درا‘ میں ان کی جو غزلیں ہیں وہ تو داغ کی غزل والی زبان میں ہیں۔ ’بال جبریل‘ کی غزلوں میں لگتا ہے کہ یہاں کوئی نیا تغزل جنم لے رہا ہے۔ نئے استعارے نئی تلمیحیں‘ نئی ترکیبیں۔

مطلب یہ ہے کہ تخلیقی ذہن آنگن کے ٹیڑھا ہونے کی شکایت نہیں کرتا۔ وہ اپنے تخلیقی زور پر جو بھی آنگن اسے میسر ہے اس میں وسعتیں پیدا کرتا چلا جاتا ہے۔ باقی جو رواں لکھنے والے ہیں ان میں ہم نے یہ سمجھداری دیکھی ہے کہ وہ اونچا اڑنے کی کوشش نہیں کرتے۔ زبان جتنی بھی ان کی زد میں ہوتی ہے اسی سے کام چلاتے ہیں اور خوب چلاتے ہیں۔ باقی زبان کا معاملہ تو یہ ہے کہ ہر زبان اپنی جگہ علم دریائو ہوتی ہے۔ اپنی وسعتیں وہ ان پر آشکار کرتی ہے جو اس کے لیے کشٹ کھینچتے ہیں‘ لمبی شناوری کرتے ہیں۔ رواں لکھنے والا کسی چکر میں نہیں پڑتا۔ وہ اپنے محدود میدان ہی میں رواں رہتا ہے اور کامیابیاں حاصل کرتا ہے۔ پھر اونچا وہ کیوں اڑے۔

ایک دوست نے ذوالفقار بخاری کا ایک قصہ سنایا۔ وہ اپنی نئی کہی ہوئی ایک غزل کے سلسلہ میں بہت تردد میں تھے۔ کہہ رہے تھے کہ اس کے ایک شعر میں زبان کا ایک سقم ہے۔ بظاہر شعر ٹھیک ہے۔ مگر زباں داں اسے پکڑ لے گا۔ ایک دوست نے کہا کہ بخاری صاحب مشاعرے میں یہ شعر خوب چلے گا۔ زبان کے جس سقم پر آپ پریشان ہیں اس پر کس کی نظر جائے گی۔ سو میں سے کوئی ایک ہو گا جو اپنی باریک بینی سے اس عیب کو سمجھ پائے گا۔ بخاری صاحب بولے کہ اسی ایک سے تو میں ڈرتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ شعر میں کوئی خامی نہ رہ جائے۔

رواں لکھنے والا ایسی باریک بینیوں میں نہیں پڑتا۔ رواں لکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ میرے قلم کی روانی میں زبان کے سارے عیب چھپ جائیں گے۔ یعنی اس مثل پر عمل کرتا ہے کہ آم کھانے سے مطلب رکھو۔ پیڑ گننے میں کیا رکھا ہے۔ اس کے اسی رویے میں اس کی کامیابی کا راز پنہاں ہے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
شاید تارڑ صاحب نے ہسپانوی یا ترکی زبان کے کسی نوبل انعام یافتہ مصنف کی تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے اردو کو "نسبتاً محدود" کہا تھا۔ تاہم یہ محض یاداشت کے سہارے لکھ رہا ہوں :)
 

صائمہ شاہ

محفلین
کوئی بھی زبان اسوقت تک ہی محدود ہوتی ہے جب تک آپ اس میں روانی نہ حاصل کر لیں گو کہ مستنصر حسین کتابیں لکھ سکتے ہیں اور مارننگ شوز میں کافی مقبول بھی رہے ہیں مگر ان کے آڈئینس وہی لوگ ہیں جو عام فہم اردو سمجھ اور بول سکتے ہیں اہل زبان والی اردو نہ مستنصر حسین کے بس کی بات ہے نہ ہی ان کے سامعین کی شائد اسی لئے انکی زبان محدود ہے
 

قیصرانی

لائبریرین
شاید تارڑ صاحب نے ہسپانوی یا ترکی زبان کے کسی نوبل انعام یافتہ مصنف کی تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے اردو کو "نسبتاً محدود" کہا تھا۔ تاہم یہ محض یاداشت کے سہارے لکھ رہا ہوں :)
جب تک اصل اقتباس نہ ملے، تب تک اسی پر گذارا کیجئے۔ اقتباس یہ رہا
اقبال: مستقبل میں اردو قارئین کو، بہ ذریعہ ترجمہ بیرونی ادیبوں سے، اپنے پسندیدہ تخلیق کاروں سے متعارف کروانے کا ارادہ ہے؟
تارڑ: نہیں، میرے پاس اتنا وقت نہیں۔ مجھے بہت سے لوگوں نے کہا کہ اپنے کسی ناول کا انگریزی میں ترجمہ کریں۔ میں یہی کہتا ہوں کہ اپنے ناولوں کے ترجمے کے لیے جو ادبی زبان اور وقت درکار ہے، وہ میرے پاس نہیں۔ ”بہاﺅ“ یا ”راکھ“ کا فقط ترجمہ نہیں کرنا، بلکہ ادبی ترجمہ کرنا ہے۔ کچھ برس پہلے عارف وقار نے بی بی سی نیوز کے لیے میرے متعلق رائٹ اپ لکھا۔ اُس وقت انھوں نے کہا؛ رپورٹ انگریزی میں ہے، اِس مناسبت سے ”اے غزال شب“ کے کچھ حصوں کا انگریزی میں ترجمہ کر دیں۔ اُن کے اصرار پر میں نے ترجمہ کیا۔ وہ اتنا پُراثر تجربہ رہا کہ مجھے شدت سے احساس ہونے لگا، اردو زبان میں بڑے ناول کی سکت نہیں ہے۔ وہ Expression نہیں ہے، جو انگریزی میں ہے۔ خیر، اس رائے کو آپ میری کم مائیگی بھی کہہ سکتے ہیں۔
اور یہ بھی اوپر والے لنک سے ہے
اقبال: کیا یہ دُرست نہیں کہ ہم نے ترجمے کے معاملے میں غفلت برتی؟
تارڑ: بالکل۔ ہم نے اِس کام کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ دنیا کی مختلف زبانوں کے ادب کا انگریزی میں ترجمہ ہوا، مگر ہم اردو ادب کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں ناکام رہے۔ ہم کہتے ہیں، سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے، یہ بات بالکل غلط ہے۔ آخر دنیا کے کتنے ممالک کی یونیورسٹیوں میں اردو چیئر ہے، اور دیگر زبانیں کہاں کہاں پڑھائی جارہی ہیں۔ گذشتہ برس کراچی فیسٹول میں مَیں نے کہا تھا؛ ہمارے ابتدائی زمانے کے جو ناول تھے، امراﺅ جان ادا اور توبة النصوح وغیرہ، معاف کیے جائیے گا، وہ بڑے ناول نہیں تھے، بلکہ انتہائی معمولی ناول تھے۔ اُسی زمانے میں ”وار اینڈ پیس“، ”برادرز کرامازوف“، ”مادام بواری“ اور نہ جانے کیا کیا لکھا جارہا تھا۔ تو میں کہتا ہوں کہ اردو کے ناول نگار نے بڑا سفر طے کیا ہے۔ وہ بہت آگے گیا ہے۔ اُس کا آغاز تو انتہائی معمولی تھا۔ اب اگر اردو ناولوں کا انگریزی میں ترجمہ ہو، تو چاہے ان کا شمار بین الاقوامی ادب میں نہ کیا جائے، مگر اُن کا نوٹس ضرور لیا جائے گا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
تاررڑ صاحب نہ جانے اردو زبان سے اور کیا چاہتے ہیں، یہی اردو زبان ہے جس نے انہیں بیسٹ سیلر بنایا، انہوں نے اس زبان میں مزے دار اور چٹخارے دار سفر نامے لکھے، ناول لکھے، ڈرامے لکھے، کالم لکھے، اسی اردو زبان کی وجہ سے وہ ایک عرصہٴ دراز تک ٹی وی پر چھائے رہے اور حد یہاں تک کہ آخر آخر ٹی وی پر لوگوں کی شادیاں کروانے لگے اور دلہے دلہن کو پرکھنے لگے، لوگوں نے انکی پذیرائی کی اور انہوں نے اس سے دھن دولت بھی کمایا لیکن اس کے باوجود زبان سے نالاں ہیں۔

اور ذرا تاررڑ صاحب کا زمانی کانسپٹ نوٹ کیجیے، فرماتے ہیں کہ جس زمانے میں یہاں توبة النصوح لکھا جا رہا تھا وہاں وار اینڈ پیس اور دیگر لکھے جا رہے تھے، حالانکہ جس زمانے کا یہ موازنہ فرما رہے ہیں وہ اردو کی پیدایش کا زمانہ ہے اور ریشین، فرینچ، انگلش وغیرہ اس زمانے تک صدیوں کے استعمال کے بعد منجھ چکی تھیں۔

اردو زبان محدود ہوگی مان لیا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ جس زبان کی بدولت آپ اس مقام و مرتبہ پر فائز ہوئے اور جس نے آپ کو ایک بڑا مصنف بنایا، اس کو لامحدود بنانے کے لیے آپ نے کیا کردار ادا کیا۔
 

تلمیذ

لائبریرین
انتظار حسین صاحب کے کالم کو پڑھنے کے بعد میں خود سوچ رہا تھا کہ میں اس کالم کو اردو محفل میں لاؤں اور ا ردو زبان کی وسعت یا محدودیت کے بارے میں احباب کے خیالات سے آگاہی حاصل ہو۔ لیکن میں جناب @ محمد وارث, صاحب کا ممنون ہوں کہ انہوں نے یہ کام پہلے ہی کردیا ہے۔ جزاک اللہ۔

بلاشبہ یہ ایک متنازعہ موضوع ہے۔ اور اس کی حمایت یا مخالفت میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔ محفل کے ارکان میں بڑے بڑے ماہرین لسانیات شامل ہیں اوران کی آراء یقیناً بے حد وزن رکھتی ہیں۔ ناچیز کے پاس کہنے کو کچھ زیادہ نہیں ہے۔صرف اتنا کہوں گا کہ ذخیرہ الفاظ اور فصاحت کے لحاظ سے اردو ابھی تک اس مقام تک نہیں پہنچی جس پر آج ہم انگریزی، عربی، فارسی، چینی اور دیگر اہم زبانوں کو دیکھتے ہیں۔انگریزی کے کئی الفاظ جو مختلف معانی یا کیفیات ظاہر کرنےکے لئے استعمال ہوتے ہیں ان کے لئے اکثر اردو میں ایک ہی لفظ ہوتا ہے۔ایک مترجم کی حیثیت سے میں خود اکثر اوقات ایسی گھمبیر صورت حال سے دوچار ہوجاتا ہوں کہ مختلف قدیم و جدید لغات سے رجوع کرنے کے باوجودمجھےکسی انگریزی لفظ کی اصل ماہیت اور کیفیت ظاہر کرنے کے لئے اس کا درست مترادف تلاش کرنے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کسی ملتے جلتے لفظ یا الفاظ کا سہارا لینا پڑتا ہے جس سے تسلی نہیں ہوتی۔یہ بات عربی پر بھی صادق آتی ہے کیوں کہ یہ بھی اتنی ہی فصیح زبان ہے کہ اس میں ایک ہی کیفیت یا چیز (مثلاً اونٹ کو ہی لے لیں) کے لئے متعدد الفاط موجود ہیں۔
اس صورت میں مجھے تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ ہماری زبان میں تحریرو تقریر میں آزادانہ استعمال کے لئےدیگر زبانوں کی طرح الفاظ کا اتنا وسیع ذخیرہ موجودنہیں۔ یہ اس عاجز کی اپنی ناقص رائے ہے جو ہو سکتا ہےمیری کم علمی بھی ظاہر کرتی ہو۔ اس لئے گمان غالب ہے کہ بیشتر اہل علم میری اس بات سے متفق نہ ہوں گے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
تاررڑ صاحب نہ جانے اردو زبان سے اور کیا چاہتے ہیں، یہی اردو زبان ہے جس نے انہیں بیسٹ سیلر بنایا، انہوں نے اس زبان میں مزے دار اور چٹخارے دار سفر نامے لکھے، ناول لکھے، ڈرامے لکھے، کالم لکھے، اسی اردو زبان کی وجہ سے وہ ایک عرصہٴ دراز تک ٹی وی پر چھائے رہے اور حد یہاں تک کہ آخر آخر ٹی وی پر لوگوں کی شادیاں کروانے لگے اور دلہے دلہن کو پرکھنے لگے، لوگوں نے انکی پذیرائی کی اور انہوں نے اس سے دھن دولت بھی کمایا لیکن اس کے باوجود زبان سے نالاں ہیں۔

اور ذرا تاررڑ صاحب کا زمانی کانسپٹ نوٹ کیجیے، فرماتے ہیں کہ جس زمانے میں یہاں توبة النصوح لکھا جا رہا تھا وہاں وار اینڈ پیس اور دیگر لکھے جا رہے تھے، حالانکہ جس زمانے کا یہ موازنہ فرما رہے ہیں وہ اردو کی پیدایش کا زمانہ ہے اور ریشین، فرینچ، انگلش وغیرہ اس زمانے تک صدیوں کے استعمال کے بعد منجھ چکی تھیں۔

اردو زبان محدود ہوگی مان لیا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ جس زبان کی بدولت آپ اس مقام و مرتبہ پر فائز ہوئے اور جس نے آپ کو ایک بڑا مصنف بنایا، اس کو لامحدود بنانے کے لیے آپ نے کیا کردار ادا کیا۔
بجا۔ میرا خیال ہے کہ تارڑ صاحب اردو زبان اور اردو لکھاریوں کی صلاحیتوں کو مکس کر رہے ہیں :)
 
Top