ریلوے ٹریک پر آنے والے شعراء

شکیب جلالی:

شکیب جلالی ایک شعلہ نوا شاعر تھے۔
1934 میں پیدا ہوئے اور شاعری میں خوب نام کمایا۔
عین جوانی کے عالم میں عالم فانی سے دلبرداشتہ ہو کر صرف 32 سال کی عمر میں سرگودھا کے قریب چلتی ٹرین کے آگے کود گئے۔
 
شکیب جلالی:

شکیب جلالی ایک شعلہ نوا شاعر تھے۔
1934 میں پیدا ہوئے اور شاعری میں خوب نام کمایا۔
عین جوانی کے عالم میں عالم فانی سے دلبرداشتہ ہو کر صرف 32 سال کی عمر میں سرگودھا کے قریب چلتی ٹرین کے آگے کود گئے۔
کس وجہ سے دل برداشتہ ہوئے تھے؟
 
ان کی والدہ نے گھریلو مسائل سے تنگ آخودکشی کر لی تھی۔ انہی مسائل اور والدہ موت کی اذیت نے ان کواس جانب دھکیل دیا۔
میری نظر میں خودکشی انتہائی گھٹیا فعل ہے۔
جب بھی کسی خودکشی کرنے والے کے بارے میں سنتی ہوں تو یہ کلمات خود بخود نکل جاتے ہیں زبان سے۔
مر گیا مردود نا ختم نا درود
 
میری نظر میں خودکشی انتہائی گھٹیا فعل ہے
جب بھی کسی خودکشی کرنے والے کے بارے میں سنتی ہو کلمات خود بخود نکل جاتے ہیں زبان سے
مر گیا مردود نا ختم نا درود
جی اللہ سب کو بچائے اس سے۔

مر گیا مردود نا ختم نا درود
یہ جملہ تو کچھ مردودوں نے وہابیوں کے لئے گھڑا تھا آپ نے کہاں فٹ کر دیا ہے۔
 

arifkarim

معطل
میری نظر میں خودکشی انتہائی گھٹیا فعل ہے
جب بھی کسی خودکشی کرنے والے کے بارے میں سنتی ہو کلمات خود بخود نکل جاتے ہیں زبان سے
مر گیا مردود نا ختم نا درود
میرے خیال میں خودکشی کرنے والے انتہائی حد تک مجبور ہوتے ہیں۔ یہ شاید انسانی تہذیب کا ہی المیہ ہے جہاں ہرسال لاکھوں لوگ مختلف حالات کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ خودکش بمبار بھی اسی کیٹیگری میں آتے ہیں۔
 
میری نظر میں خودکشی انتہائی گھٹیا فعل ہے
جب بھی کسی خودکشی کرنے والے کے بارے میں سنتی ہو کلمات خود بخود نکل جاتے ہیں زبان سے
مر گیا مردود نا ختم نا درود
شکیب جلالی کا سن کر تو ویسے یقین بھی نہیں آتا۔
 
میرے خیال میں خودکشی کرنے والے انتہائی حد تک مجبور ہوتے ہیں۔ یہ شاید انسانی تہذیب کا ہی المیہ ہے جہاں ہرسال لاکھوں لوگ مختلف حالات کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ خودکش بمبار بھی اسی کیٹیگری میں آتے ہیں۔
ہاں بس انسانیت کا ہی المیہ ہے۔
امریکی فوجیوں نے بھی اس رسم کو زندہ رکھنے کی بڑی کوشش کی ہے۔
 

عباد اللہ

محفلین
صاحبو خودکشی کچھ ایسا سہل کام بھی نہیں ہے
ہمت وجرات اور مایوسی و یاسیت دونوں اپنی انتہا پر ہوتی ہیں جب انسان خود کشی کرتا ہے
موت کے پرندے میں اک کشش تو ہے ثروت
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خود کشی کے بارے میں
ثروت حسین
 

فرقان احمد

محفلین
صاحبو خودکشی کچھ ایسا سہل کام بھی نہیں ہے
ہمت وجرات اور مایوسی و یاسیت دونوں اپنی انتہا پر ہوتی ہیں جب انسان خود کشی کرتا ہے
موت کے پرندے میں اک کشش تو ہے ثروت
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خود کشی کے بارے میں
ثروت حسین

کیا غضب کا شاعر تھا! ثروت نے بھی خودکشی ہی کی تھی، جہاں تک میری یاداشت ساتھ دیتی ہے!
 

سید عمران

محفلین
اللہ ہم سب کو بچائے...
خودکشی کرنے سے...
حدیث پاک میں ہے کہ خودکشی کرنے والا جس طریقے سے اپنی جان لیتا یے قیامت تک اسی اذیت میں مبتلا رہے گا...
لیکن جو اس طریقے سے چلا گیا ہمیں اس پر رحم ہی آنا چاہئے...
نہ جانے بے چارے کی کیا مجبوری تھی جو اس حد تک چلا گیا..
 

فلک شیر

محفلین
صاحبو خودکشی کچھ ایسا سہل کام بھی نہیں ہے
ہمت وجرات اور مایوسی و یاسیت دونوں اپنی انتہا پر ہوتی ہیں جب انسان خود کشی کرتا ہے
موت کے پرندے میں اک کشش تو ہے ثروت
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خود کشی کے بارے میں
ثروت حسین
درندے
 

فرقان احمد

محفلین
ثروت حسین کا انتقال ٹرین حادثے میں ہوا تھا۔ خودکشی کا کبھی نہیں سنا۔

محترم نیرنگ خیال یہ بات تو طے شدہ ہے کہ انہوں نے خودکشی کی کوششیں پہلے بھی کی تھیں۔ ہاں، یہ ممکن ہے کہ آپ درست فرما رہے ہوں۔ دراصل اس حوالے سے ایک پی ایچ ڈی مقالے دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا جس میں کافی تحقیقی مواد شامل تھا۔ اور یہ بھی ہے کہ خودکشی کے حوالے سے ان کی سوچ سب پر عیاں تھی اور اس میں بھی کیا شبہ ہے کہ ان کے کلام کا ایک بڑا حصہ اس حوالے سے وقف تھا۔ ممکن ہے، ان کا انتقال سچ مچ کے ٹرین حادثے میں ہوا ہو، اس حوالے سے مزید تحقیق کے بعد ہی کچھ کہہ پاؤں گا۔
 
Top