رو میں ہے رخشِ عمر ( فلیش بیک ) ۔

مہ جبین

محفلین
میری یاداشت اتنی بھی کمزور نہیں ، لیکن اس کے باوجود مجھے یاد نہیں کہ مجھ سے اس دنیا میں بھیجنے کا پوچھا گیا تھا یا نہیں۔ بالفرض اگر پوچھا گیا تھا تو یقیناً میرا جواب نفی میں تھا۔ پھر بھی میں اس دنیا میں" یوسف بقیمت اول خریدہ "کی ایک اور مثال بنا "قدر سنگ سر راہ رکھتا ہوں "کا راگ الاپ رہا ہوں تو ظاہر ہے میری حیثیت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں۔ میں محض اس ڈرامے کا ایک ایکسٹرا اداکار ہوں جو دنیا کے سٹیج پر پیش کیا جا رہا ہے ۔
میں کسی کے ذوقِ تماشا کی بھینٹ ہوں ۔
وہ 21 جنوری کی ایک صبح صادق تھی ۔ہفتہ کا دن اور زحل کی ساعت ۔ یعنی کہ کہا جا سکتا ہے کہ قِرآن النحسین کے گارڈ آف آنر کے ساتھ فدوی کو دنیا کے گھاٹ اتارا گیا ، اور زندگی دے کے مارا گیا۔ہو سکتا ہے 21 شیطانوں نے سلامی بھی دی ہو مگر اس وقت یہ سب دیکھنے کا ہوش کہاں تھا ۔ میں نے تو چیک چیک کر عرش ہلانے کی پوری کوشش کی لیکن کیا پدی اور کیا پدی کا شور شرابہ ۔ نقار خانے میں طوطی کی کب سنی گئی تھی جو میری کوئی سنتا ۔کوئی ہمزباں نہ پاکر میں نے چپ کا ایسا روزہ رکھا کہ تین سال گزار دئیے ۔
ان دنوں خوب فراغت تھی ۔ اس لیے دماغ پر خوب زور دے دے کر وجہ ڈھونڈتا رہا کہ آخر مجھ سے کونسا گناہ سر زد ہو ا جو "بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے"۔ ابلیس کا تو سمجھ میں آتا ہے کہ اس نے بڑے ابا جی کو سجدہ نہ کیا تھا ۔ بڑے ابا جی اور بڑی اماں صاحبہ نے بھی "لا تقربو ہذہ الشجرۃ" پہ کان نہ دھرنے کا نتیجہ دیکھا۔ سانپ نکال دیا گیا کہ ابلیس کو منہ میں بٹھا کے جنت میں لے گیا تھا ۔ اور مور نے بھی اپنے کیے کی سزا پائی ۔ عود اور انجیر بھی نکال دئیے گئے کہ آدم اور حوا کو ستر پوشی کیلئے اپنے پتے دئیے ۔
مگر میرا ان سب قصوں میں کیا کردار ۔۔۔ میں نے تو ان سب کا ساتھ دینا دور کسی کو مشورہ بھی نہ دیا تھا ۔ مگر زبردست کا ٹھینگا سر پر ۔۔۔۔ ہے جرم ِضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات ۔۔۔ چلی تو آخر زور آور کی اور جوگی میاں یہاں آکے دنیا کو طلاقیں دیتے پھر رہے ہیں۔ اس سے بھلا کسی کو کیا فرق پڑنے والا ہے۔قہرِدرویش بر جانِ درویش۔۔۔
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پہ ناحق
حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے تو کدو کی بیل نے چھپا لیا تھا ۔ میں نے کتابوں میں جا پناہ لی ۔ خوب دنیا تھی ۔ اس کتابوں کی دنیا میں بھی اُس عالم کی طرح سب اچھا تھا ۔ سانچ کو آنچ نہیں تھی ۔ غرور کا سر نیچا تھا ۔ ایمانداری پسندیدہ ترین صفت تھی ۔ جھوٹوں اور شرپسندوں کی کوئی عزت نہیں تھی۔ ہر انسان رشتوں کی ڈور سے بندھا تھا ۔ ہر رشتہ احساس کی بنیاد پر پیار محبت کے سیمنٹ سے استوار تھا ۔ جیت صرف سچائی کی تھی ۔ ہر کوئی ہنسی خوشی رہتا تھا۔ ہر کوئی زبان کا سچا اور وعدے کا پکا تھا ۔المختصر کہ سب اچھا تھا ۔
سوچااب جبکہ ڈھول گلے پڑا ہے تو بجا لیتے ہیں ایک شغل ہی سہی ۔۔۔اگر دنیا کتابوں سےہوبہو نہ سہی کم از کم 50 فیصد بھی ملتی جلتی ہے تو پھر بھی گوارہ کی جا سکتی ہے ۔ لیکن کتابوں کے سائے سے حقیقت کی کڑی دھوپ میں نکلا تو دانتوں پسینہ آ گیا ۔ سانچ کو آنچ نہیں والا خواب کسی دیوانے نے دیکھاتھا ۔ حقیقت میں تو آنچ تھی ہی سانچ کو ۔غرور کی گردن میں سریا فٹ تھا اور سر پہ علم و فضل کا اتنا بڑا پگڑ بندھا تھا کہ سجدے میں جھکے تب بھی برج الخلیفہ سے اونچا رہے ۔ ہاں اگر کوئی سر نیچا تھا بھی تو وہ شرافت اور انکسار کا تھا۔ بے ایمانی درفشِ کاویانی کی طرح لہرا رہی تھی اور ایمانداری خاک چاٹ رہی تھی ۔ جو جتنا بڑا جھوٹا اور جتنا بڑا شر پسند تھا وہ اتنا ہی بڑا معزز اور قابلِ احترام تھا ۔ ہر انسان صرف اپنے نفس کا غلام تھا ۔ رشتے ناتے انا کے اندھے کنویں میں الٹے لٹکے تھے ۔ پیار محبت کی جگہ طمع اور مطلب پرستی نے لے لی تھی ۔ سچ کا مقدر ہر جگہ اور ہر حال میں ہار ہو چکی تھی ۔سچائی عیب تھی ۔ ایمانداری گناہ تھی ۔ جاہ پرستی اور دولت کے حرص کی ٹاپوں تلے خوشی کچلی جا چکی تھی ۔ کوئی خوش نہیں تھا ۔ ہر شخص ایک قبر تھا جس میں بے چاری روح زندہ مدفون تھی ۔ چہرے نہ تھے قبروں کے کتبے تھے جن پر برسہا برس کی دکھ بھری داستانیں رقم تھیں۔
جوگی چلا اٹھا ۔۔۔۔
جھوٹ ہے ۔۔۔ جھوٹ ہے ۔۔۔۔ جھوٹ ہے ۔۔۔۔
ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ!!!
سب بکواس ہے ۔۔۔۔ سب فریب ہے۔۔۔۔
ہمہ ناامیدی ، ہمہ بدگمانی
فینٹاسی کے مارے کتابیں لکھ کے مر گئے اور مجھ جیسے چغد ان کو حقیقت سمجھ کر ان پہ بیٹھے سر دھنتے ہیں۔
عالم تمام حلقہ ِٔ دام ِخیال ہے ۔۔۔۔۔
اس قدر دھاندلی دیکھ کر جوگی نے دنیا کو تیسری طلاق دے دی "خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں" اور یہاں کی گھٹن سے تنگ آکر بھاگ جانے کی سوچی ۔ غم ِ ہستی کا اسدؔکس ہو جز مرگ علاج ۔ ۔۔۔پھانسی پہ لٹک گیا ۔ ۔۔مگر ہائے ری پھوٹی قسمت کہ موت شرمیلی محبوبہ کی طرح دور سے منہ چڑا کر بھاگ گئی ۔
اجل مر رہی تو کہاں آتے آتے۔۔۔۔۔
اندر "کیوں " نامی اژدہا ڈنک پہ ڈنک مارے جا رہا تھا جس کا تریاق کسی نیم حکیم کے پاس تھا نہ کسی نیم ملا کے پاس ۔ نیم حکیموں نے پاگل قرار دیا اور نیم ملاؤں نے کہا کہ کافر ہو گیا ہے ۔
سوال ہی عجیب وغریب تھے ۔۔۔
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟
قمری کف خاکستر ، بلبل قفس رنگ
اے نالہ نشان جگر سوختہ کیا ہے ؟
مانعِ وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہے؟
خانہ ِٔ مجنونِ صحرا گرد بے دروازہ تھا
اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے۔۔۔۔
حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں؟؟
یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں؟؟
عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو؟؟؟
اندر لگی آگ بھڑکتی ہی گئی اور جواب کی کاربن ڈائی آکسائیڈ کہیں میسر نہ آئی ۔شوریدگی کے ہاتھ سے تھا سر وبالِ دوش اور صحرا میں کوئی دیوار جب مرزا نوشہ کو بھی ڈھونڈے سے نہ ملی مجھے کیونکر ملتی ۔احباب کسی بھی طرح چارہ سازی ِٔ وحشت نہ کر سکے تو خیال آیا لوہے کو اگر لوہا کاٹ سکتا ہے تو ہو سکتا ہے آگ کو بھی آگ ہی ٹھنڈا کرے ۔ اندر کی آگ سے چھٹکارے کیلئے مٹی کا تیل چھڑک کر باہر بھی آگ لگا لی ۔ موت سے آنکھیں ملانے کا جو مزہ آیا وہ کمال کا تھا ۔
کس سے محرومی ِٔ قسمت کی شکایت کیجئے ؟
ہم نے چاہا تھا مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا
موت تو ہاتھ نہ آئی البتہ کچھ حقائق منکشف ہو گئے ۔
زخم کے بھرنے تلک ناخن پھر بڑھ آئے اور زنداں میں بھی خیال ِ بیاباں نورد تھا تو بزرگوں نے کہا یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے اور خاندان کا داغ ہے ۔خیرشریکے میں تو یہ سب ہوتا ہے ۔باغی کا باپ کہلانے سے والد صاحب کو بھی عار محسوس ہوئی ۔ ہر سوال کا جواب "دفع ہو جاؤ ہماری زندگی سے "تھا۔
اہلِ تدبیر کی واماندگیاں ۔۔۔۔
آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں
جب اندازِ جنون ووحشت کسی طور بھی چھٹ نہ پائے اور بات خون خرابے تک پہنچ گئی تو اماں نے بھی حدکر دی:۔ " عزت سے دفع ہو جا بیٹا اس سے پہلے کہ پولیس آکے نکالے ۔"بس ایک ہچکی آئی اور اویس قرنی چپ چاپ مر گیا ۔
مرگیا صدمہ ِٔ یک جنبشِ لب سے غالب ۔۔۔۔۔
جوگی نے اویس قرنی کی لاش کندھے پہ لادی اور دفع ہو گیا ۔نہ تو زمین پھٹی نہ ہی آسمان گرا ۔یہ تماشے صرف تھرڈ کلاس فلموں میں ہوا کرتے ہیں۔
نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ دیوانِ غالب
تو ٹھکرائے ہوئے انسان خدا جانے کہاں جاتے
خدا تو عرش پہ رہتا ہے اس لیے دنیا میں ٹھکرائے ہوئے ، دھتکارے ہوئے ، پھٹکارے ہوئے گناہگاروں جنہیں موت بھی قبول کرنے سے انکاری ہو ، کیلئے جائے پناہ دیوانِ غالب ہی ہے ۔ استاد محترم خان بہادر مرزا اسد اللہ خان غالب ؔ مل گئے۔ اور چھاپ تلک چھین لیے موسے نیناں ملائی کے ۔نہ صرف سر پہ ہاتھ پھیرا ، بلکہ سر اٹھا کے جینا سکھایا۔ دیوانِ غالبؔ سے نہ صرف نئی زندگی ملی بلکہ نیا ایقان وایمان بھی حقیقت میں یہیں سے پایا۔غالب نے فرمایا
" شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک"۔
بیٹا زندگی کو ایک چیلنج سمجھ کر جیو، اور درد سے مت گھبراؤ بلکہ یقین کر لو کہ حد سے گزر کے درد خود دوا ہو جاتا ہے، رنج سے خو گر ہو انسان تو مٹ جاتا ہے رنج، نہ ستائش کی تمنا رکھو ، نہ صلے کی پرواہ کرو ، اشعار میں معنیٰ نہیں ہے تو نہ سہی۔ہر چند کہ عمر ہے برق خرام ، مگر اسے دل کے خون کرنے کیلئے غنیمت موقع جانو۔
بیا کہ قاعدہ آسماں بگردانیم
(آ ، کہ ہم آسمان کا دستور بدل ڈالیں)۔
اب تک زندگی سے نفرت تھی ، اور دنیا سے نفرت تھی ۔ دیوانِ غالب کاآئینہ دیکھا تو اپنے آپ سے بھی نفرت ہو گئی ۔ استاد جی نے فرمایا :۔ " سنو چھوٹے میاں ! عالم دو ہیں ۔ عالمِ ارواح اور عالمِ اجسام۔ خالق دونوں عالموں کا وہی ہے جو رب العالمین ہے ۔ قاعدہ یہ ہے کہ اس عالم کے گناہگار ، اُس عالم میں سزا پانے جاتے ہیں ۔ اور اُس عالم کے گناہگار اِس عالم میں سزا بھگتنے کو بھیجے جاتے ہیں"۔
ڈبویا مجھ کو ہونے نے ، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
تارے گننا عاشقوں کو مبارک رہے ۔ جوگی نے سانس شماری کا شغل اپنا لیا ۔ لوگ زندگی گزارتے ہیں، لیکن زندگی جوگی کو گزار رہی ہے بے چاری ۔۔۔۔۔
نظرمیں ہے ہماری جادہ ِٔ راہِ فنا غالب
رہائی کی امید میں جوگی نے تیس سال گزار دئیے ہیں ۔ دیکھئے کب رہائی کا حکم ہو اور جوگی کندھے پہ لدی لاش مٹی کے حوالے کر کے یہاں سے دفع ہو جائے ۔ خس کم جہاں پاک۔
رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھئے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

از ۔ چھوٹا غالب
 

مہ جبین

محفلین
صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے
اس تحریر سے سب اپنے اپنے ظرف کے مطابق سبق لے سکتے ہیں
 

ابن رضا

لائبریرین
:praying: شکر ہے آپ نے نکتہ داں کو بلایا مجھے اس مشکل میں نہیں ڈالا۔
یہ نکتہ تو نکتہ داں کے اٹھانے والا تھا کہ یہاں نکتہ داں کو کسی نے نہیں بلایا بلکہ یارانِ نکتہ داں گویا نکتہ ور کو بلایا گیا ہے۔ اس لیے آپ یارِ نکتہ داں کی حیثیت سے کلام فرما سکتے ہیں:)
 
Top