محسن نقوی روٹھا تو شہر خواب کو غارت بھی کرگیا

نظام الدین نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 6, 2015

  1. نظام الدین

    نظام الدین محفلین

    مراسلے:
    1,005
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    روٹھا تو شہر خواب کو غارت بھی کرگیا

    پھر مسکرا کے تازہ شرارت بھی کرگیا

    شاید اسے عزیز تھیں آنکھیں میری بہت

    وہ میرے نام اپنی بصارت بھی کرگیا

    منہ زور آندھیوں کی ہتھیلی پہ اک چراغ

    پیدا میرے لہو میں حرارت بھی کرگیا

    بوسیدہ بادبان کا ٹکڑا ہوا کے ساتھ

    طوفاں میں کشتیوں کی سفارش بھی کرگیا

    دل کا نگر اجاڑنے والا ہنر شناس

    تعمیر حوصلوں کی عمارت بھی کرگیا

    سب اہلِ شہر جس پہ اٹھاتے تھے انگلیاں

    وہ شہر بھر کو وجہ زیارت بھی کرگیا

    محسن یہ دل کہ اس سے بچھڑتا نہ تھا کبھی

    آج اس کو بھولنے کی جسارت بھی کرگیا

    (محسن نقوی)
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,934
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    بہت ہی اعلیٰ شراکت۔ شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. نظام الدین

    نظام الدین محفلین

    مراسلے:
    1,005
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    بہت شکریہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. ثقیل ساقی

    ثقیل ساقی محفلین

    مراسلے:
    25
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Mad
    محسن یہ دل کہ اس سے بچھڑتا نہ تھا کبھی

    آج اس کو بھولنے کی جسارت بھی کرگی
     

اس صفحے کی تشہیر