جاسمن

لائبریرین
یہ راز کھلنے، چھپی بات سامنے آنے کے معنوں میں مستعمل ہے۔ استعمال کی مثال غلط دی ہے۔
شکر ہے۔
کل میں نے ایمی کو بتایا کہ یہ آپ کی استانی نے غلط جملہ لکھوایا ہے۔ اس محاورہ کا مطلب راز کا کھلنا، یا چھپی بات کا سامنے آنا تو ہوتا ہے لیکن لوگوں کا یا کسی اور چیز کا سامنے آنا نہیں۔
بڑی مشکل سے اُسے دوسرا جملہ لکھوایا۔
اب جب میں مراسلہ لکھ چکی تو سوچا کہ اُستانی ساحبہ نے تو اردو میں ماسٹرز کیا ہوا ہے اور ایک بڑے اسکول میں پڑھاتی ہیں جبکہ میں ایف اے اردو ہوں۔
اس لیے پوچھا کہ کیا یہ جملہ درست ہے۔
 
حیرت ہے کہ اردو پڑھانے والے اچھی اردو نہیں پڑھا رہے۔ مجھے اردو کے اچھے اساتذہ خال خال ہی نظر آتے ہیں۔
بچوں کو کچھ بتاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ان کے استاد نے انہیں کچھ اور بتایا ہے۔ مثال ملاحظہ ہو۔
محاورہ: طشت از بام ہونا
مطلب: سامنے آنا ۔ راز کا سامنے آنا
جملہ: 1965 میں ہندوستان کے لوگ پاکستانی فوج کے طشت از بام ہوگئے۔
:rollingonthefloor:
بے ساختہ ہنسی :)
 

ام اویس

محفلین
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
اردو:
اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو(الله) مجھے شفا بخشتا ہے۔
الشعراء۔

دنیا کا کوئی ایسا شخص نہیں جو زندگی میں کبھی نہ کبھی بیمار نہ ہوا ہو ۔ بیماری کا سبب کچھ بھی ہو سکتا ہے ایک ہی فضا میں رہنے والے ایک ہی غذا کھانے والے اور ایک ہی ماحول میں پروان چڑھنے والے مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں ۔ اگرچہ بیماری بھی الله کی مشیت سے ہوتی ہے اور جس کی قسمت میں مرض ہوتا وہی بیمار ہوتا خواہ اس کا سبب کچھ بھی ہو اسی طرح شفا بھی الله سبحانہ تعالٰی کے ہاتھ میں ہے ۔ کبھی سپیشلسٹ کی دوا کا اثر ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا سائنسی تجربات کی کسوٹی پر پرکھ کر اور آزما کر دوا بنانے والے بھی اپنے عزیز ترین کو نہ تو بیماری سے بچا سکتے ہیں نہ شفا دے سکتے ہیں ۔
جس طریقہ علاج میں جس کے لیے الله کریم نے شفا رکھی ہے اسے وہیں سے ملے گی اب وہ ایلو پیتھی ہو ہومیو ہو ، طب ہو یا مٹی کی پھکی
اور جب دوا کا اثر نہیں ہونا تو دنیا کا کون سا سائنسدان یا ڈاکٹر ہے جو اس دوا میں اثر ڈال سکے ۔ اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو وہ بیماری و موت کا شکارنہ ہوتے اور نہ ہی ان کے عزیز و اقارب بیمار پڑتے
بیماری کا علاج ضرور کرنا چاہیے جہاں جس کی پہنچ ہے اور جس کا جتنا اختیار ہے لیکن شفا من جانب الله ہونے کا یقین رکھنا بھی ضروری ہے ۔ کیونکہ شفا دینا الله کا اختیار ہے
 

لاریب مرزا

محفلین
حیرت ہے کہ اردو پڑھانے والے اچھی اردو نہیں پڑھا رہے۔ مجھے اردو کے اچھے اساتذہ خال خال ہی نظر آتے ہیں۔
بچوں کو کچھ بتاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ان کے استاد نے انہیں کچھ اور بتایا ہے۔ مثال ملاحظہ ہو۔
محاورہ: طشت از بام ہونا
مطلب: سامنے آنا ۔ راز کا سامنے آنا
جملہ: 1965 میں ہندوستان کے لوگ پاکستانی فوج کے طشت از بام ہوگئے۔
طالب علم اساتذہ کی بات سے ایک انچ ہٹنے کو تیار نہیں ہوتے۔ ایسے میں اساتذہ کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ ویسے یہاں غلطی تو معلمہ کی ہے لیکن بعض اوقات طالب علم بھی اپنی فہم کو استعمال کرتے ہوئے بے حد دلچسپ اور بعض اوقات مضحکہ خیز جملے بناتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہفتم جماعت سے محاورات کا ایک جائزہ لیا تھا۔ اس میں ایک محاورہ تھا۔ "آبرو خاک میں ملانا" کیا ہی شاندار جملے پڑھنے کو ملے تھے۔ :)
 

جاسمن

لائبریرین
طالب علم اساتذہ کی بات سے ایک انچ ہٹنے کو تیار نہیں ہوتے۔ ایسے میں اساتذہ کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ ویسے یہاں غلطی تو معلمہ کی ہے لیکن بعض اوقات طالب علم بھی اپنی فہم کو استعمال کرتے ہوئے بے حد دلچسپ اور بعض اوقات مضحکہ خیز جملے بناتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہفتم جماعت سے محاورات کا ایک جائزہ لیا تھا۔ اس میں ایک محاورہ تھا۔ "آبرو خاک میں ملانا" کیا ہی شاندار جملے پڑھنے کو ملے تھے۔ :)

لاریب۔
ضرور بتائیں۔
 
Top