روایتی اردو شاعری اور جدید اردو شاعری

ایم اے راجا

محفلین
آجکل روایتی اور جدید اردو شاعری کے درمیان بلکہ لکھنے والوں کے درمیان ایک سرد جنگ کا ماحول دیکھنے کو ملتا ہے میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس حوالے سے ایک نیا دھاگہ کھولا جائےاور اساتذہ کرام کو یہاں دعوت دی جائے کہ وہ اس پر بھرپور روشنی ڈالیں۔
جیسا کہ اردو شاعری عشق و محبت کے زندانوں سے نکل آئی ہے اور آجکل اردو شاعری ( غزل ) معاشرے کی برائیوں، اچھائیوں اور ہر طرح کے مسائل کا احاطہ کر رہی ہے، شاعر اپنے آس پاس کے ماحول کو شاعری کی زبان میں قارئین تک پہنچا رہا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ طریقہ بہت ہی عمدہ ہے۔
آپ تمام سخنوروں سے گزارش ہیکہ آپ اس پر کھل کر رائے دیں۔
سب سے پہلے اعجاز صاحب اور وارث بھائی سے گزارش ہیکہ وہ روایتی اور جدید اردو شاعری ( خاص طور پرغزل ) پر مکمل روشنی ڈالیں تاکہ مبتدیوں کو پہلے یہ علم ہو سکے کہ جدید اور روایتی شاعری میں کیا فرق ہے۔
اور گزارش ہیکہ مندرجہ ذیل کے جوابات دے کر نئے شعرا کو روشناس کروائیں۔
کیا اردو شاعری ( جدید) شاعر کو یہ اجازت دیتی ہیکہ وہ بحر و عروض کا پابند رھ کر اپنی مرضی سے کوئی بات غزل میں کہہ سکے اور کیا روایتی شاعری میں بھی اسکی اجازت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ہر شخص کا اپنا خیال ہے اور اندازِ بیاں بھی، سو کیا ہر شاعر کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اپنے خیال کو اپنے انداز میں قارئین تک پہنچائے ( پابندیِ عروض میں رھ کر)۔
کیا روایتی طریقہ شاعر کو مشکلوں سے دوچار نہیں کرتا۔
کیا اردو شاعری کو جدید اور ماحول سے ہم آہنگ بنانا درست نہیں تا کہ وہ زیادہ توجہ حاصل کر سکے۔
کیا روایتی طریقہ آجکل کے جدید قاری کو متاثر کرتا ہے۔
کیا یہ درست نہیں کہ جدید قاری کو جدید شاعری کی ضرورت ہے جو اسکو درپیش حالات اور اسکے آس پاس کے ماحول سے مطابقت رکھتی ہو۔
کیا روایتی شاعری آجکل کے جدید معاشرے ( جو جدید مسائل کا بھی شکار ہے) کی عکاس ہے۔۔شکریہ۔
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
بہت خوب آمین بھائی بہت اچھا سلسلہ شروع کیا ہے اس سے ہمیں تو بہت فائدہ ہو گا سر جی آپ کی رائے اور آپ کے جوابات کا انتظار رہے گا
 

الف عین

لائبریرین
بڑا تفصیل طلب معاملہ اٹھایا ہے راجا۔ تفصیلی جواب کے لئے مہلت چاہیے۔ اور یہ عنقا ہے آج کل۔
 

ایم اے راجا

محفلین
جی حضور لیکن توجہ طلب بھی بہت ضروری ہے اردو ادب اور خاص طور پر مبتدیوں کے لیئے، امید ہیکہ بھرپور توجہ فرمائیں گے، ادب کی خدمت قرار پائے گا۔ شکریہ۔
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
ہمیں انتظار رہے گا اعجاز صاحب اور وارث صاحب سے بھی درخواست ہے وہ بھی کچھ لکھے اور اگر فاتح صاحب اور شاکرالقادری صاحب بھی کچھ فرما دے تو بہت بہتر ہو گا
 

ایم اے راجا

محفلین
وارث بھائی نے تو شکریہ ادا کر دیا ہے لیکن لگتا ہے وہ بھرپور جواب کی تیاری میں ہیں، ہم بھی انتظار کو مات دینے والوں میں سے ہیں دیکھتے ہیں وارث بھائی انتظار ہارتا ہے یا ہم:)
 

arifkarim

معطل
اردو شاعری کی موجودہ کشمکش دیکھ کر مجھے نارویجن شاعری یاد آرہی ہے، جب نارویجن شاعر آج سے 50 - 60 سال قبل ماڈرن طریقہ پر لکھتے تھے اور بعض کلاسیکل شاعر، انکی شاعری کا تمسخر اڑاتے تھے۔ لیکن آخر کار یہ ماڈرن شاعر اپنی تذلیل کا مقدمہ عدالت میں لے گئے اور وہاں سے با عزت ہو کر ماڈرن شاعری کا لوحہ منوایا! مجھے امید ہے اردو شاعری کیساتھ بھی آئیندہ وقتوں میں ایسا ہی ہوگا۔ :)
 

ایم اے راجا

محفلین
عارف صاحب کلاسیکی شاعری کی بات نہیں بات ہے بحر اور فنِ شاعری کی ( پیرامیٹرز آف پوئٹری ) جب تک شاعری خاص طور پر غزل میں ان کو اپنایا نہ جائے تو شاعری بے مقصد اور بے ربط ہو جاتی ہے یہ تو بہت ضروری ہیکہ شاعر علمِ عروض سے اس حد تک واقف ہو کہ وہ اس کے اصولوں اور قاعدوں کیمطابق لکھے، مگر بات ہے اندازِ بیاں کی، کیا شعر کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہئیے کہ وہ اپنی بات کو اپنے مخصوص انداز میں بیان کر سکے اور اپنے طریقے سے اپنے خیال کو پیش کر سکے۔
میرا ایک اور مقصد بھی ہے کہ بہت زیادہ لوگوں بلکہ شاعروں کو روایتی شاعری اور جدید شاعری کا فرق معلوم ہی نہیں ( میں بھی ان میں شامل ہوں) ہم اس بحث کے ذریعے ان تک یہ علم پہنچا سکیں، بڑے شاعر مبتدیوں تک اس علم کی رہا میں ہزاروں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور عروض کو ایک مشکل ترین علم بتاتے ہیں لیکن ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چائیے کہ وہ استاد بھی ہم سے انسان ہیں نہ کہ فرشتے جو ہم یہ علم سیکھ نہیں سکتے۔
 

الف عین

لائبریرین
شاید بہت تفصیلی تو نہیں۔ مختصراً عرض ہے:
میں اکثر یہی کہتا ہوں کہ شاعری یا تو سچی شاعری ہوتی ہے یا سرے سے شاعری ہی نہیں ہوتی۔ اس کو روایتی، ترقی پسند، جدید یا ما بعد جدید کے زمروں میں زبردستی تقسیم کرنا غلط ہے۔
البتہ عملی طور پر دیکھیں تو حال کی شاعری میں لفظیات کافی مختلف ہو گئی ہیں۔ ترقی پسندی کے دور میں بھی تشبہیات و استعارات بلکہ علامات بھی وہی تھیں جو فارسی شاعری میں شروع سے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔ گل و بلبل یا قفس، جنوں اور گریباں دریدگی۔۔ یہ سب علامات تھیں۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ اس دور کے شعراء نے ان کو علامات کے طور پر سمجھنے کی کوشش نہ کی ہو اور اپنے اشعار کو محض معنی آفرینی تک محدود سمجھا ہو۔ ترقی پسندوں نے ان میں نئے معانی کی جہتیں تلاش کیں اور اس کے بعد کے دور میں، جیسا کہ ہر دور اپنے ساتھ اپنے مسائل اور عوامل لاتا ہے، تو ان علامات کے مفہوم بدلتے رہتے ہیں۔
اب دیکھو، شاد کا کیا پیارا شعر ہے:
فصلِ گل آئی یا اجل آئی کیوں درِ زنداں کھلتا ہے
کیا کوئی وحشی اور آ پہنچا، یا کوئی وحشی چھوٹ گیا
کیا اس کا مطلب محض یہی ہے کہ شاعر پاگل ہے اور اس کے جنوں کی وجہ سے اسے قید خانے یا جیل خانے میں ڈال دیا گیا ہے؟ پھر یہ جنوں کیا محض عشق کا ہے؟ ممکن ہے کہ شاعر کے ذہن میں اس وقت انگریزوں سے ہندوستان آزاد کرانے کا جنوں سوار ہو۔ اور کہنا یہ چاہ رہا ہے کہ دیوانوں کی کمی نہیں، آتے جاتے ہی رہتے ہیں۔ آج ایک دیوانہ کم ہو گیا،۔ اجل کے باعث، تو کل ایک اور آ جائے گا۔ سلسلہ چلتا رہے گا۔ یہ تسلسل ہی اس طرف دھیان لے جاتا ہے کہ کوئی خاص تحریک کی طرف اشارہ ہے جو مسلسل جاری ہے۔

اور یہ بندہ اب کہتا ہے
ہوائے فصلِ گل باہر سے چھو کر بھی اگر گزرے
کہ ہم اپنے جنوں کی چار دیواری میں رہتے ہیں
تو یہاں شاعر کو اس کا احساس نہیں ہے کہ بہار آئی یا نہیں، وہ اپنے جنوں میں ہی سرشار ہے۔ اور یہاں صاف ظاہر ہے کہ یہ اجتماعی جنوں کا ذکر نہیں، انفرادی جنوں کی بات ہے۔
کہنا چاہ رہا ہوں کہ زمانوں کے بعد میں مفاہیم میں تو یقیناً فرق ہوگا ہی۔ لیکن لفظیات ضروری نہیں کہ بدلیں ہی۔ ہاں یہ شعر اب سے تیس چالیس سال پہلے بھی کوئی نہیں کہہ سکتا تھا۔
کیا بھول گئے سارے اماوس کے پرستار
کرتا ہے ہر اِک رات کا پیچھا کوئی سورج (افتخار راغب)

تو یہ لفظیات اور خیال دونوں کا نیا پن ہے۔
 
Top