1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $418.00
    اعلان ختم کریں

احسان دانش رنگ تہذیب و تمدن کے شناسا ھم بھی ھیں (احسان دانش)

پیاسا صحرا نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 29, 2008

  1. پیاسا صحرا

    پیاسا صحرا محفلین

    مراسلے:
    704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    رنگ تہذیب و تمدن کے شناسا ھم بھی ھیں
    صورت آئینہ مرھون تماشا ھم بھی ھیں

    حال و مستقبل کا کیا ھم کو سبق دیتے ھیں
    اس قدر تو واقف امروز و فردا ھم بھی ھیں

    بادل نخواستہ ھنستے ھیں دنیا کیلیے
    ورنہ یہ سچ ھے پشیماں ھم بھی ھیں

    کچھ سفینے ھیں کہ طوفاں سے ھے جن کی ساز باز
    دیکھنے والوں میں اک بیرون دریا ھم بھی ھیں

    دیکھنا ھے تو دیکھ لو اٹھتی ھوئی محفل کا رنگ
    صبح کے بجھتے چراغوں کا سنبھالا ھم بھی ھیں

    کاگذی ملبوس میں ابھری ھے ہر شکل حیات
    ریت کی چادر پہ اک نقش کف پا ھم بھی ھیں

    جابجا بکھرے نظر آتے ھیں آثار قدیم
    پی گئیں جس کو گگزر گاھین وہ دریا ھم بھی ھیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,758
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    عمدہ انتخاب.
    مکمل غزل

    رنگِ تہذیب و تمدن کے شناسا ہم بھی ہیں
    صورتِ آئینہ مرہونِ تماشا ہم بھی ہیں

    حال و مستقبل کا کیا ہم کو سبق دیتے ہیں آپ
    اس قدر تو واقفِ امروز و فردا ہم بھی ہیں

    بادلِ نا خواستہ ہنستے ہیں دنیا کے لئے
    ورنہ سچ یہ ہے پشیمانِ تمنا ہم بھی ہیں

    کچھ سفینے ہیں کہ طوفاں سے ہے جن کا ساز باز
    دیکھنے والوں میں اک بیرونِ دریا ہم بھی ہیں

    دیکھنا ہے دیکھ لو اٹھتی ہوئی محفل کا رنگ
    صبح کے بجھتے چراغوں کا سنبھالا ہم بھی ہیں

    کاغذی ملبوس میں ابھری ہے ہر شکلِ حیات
    ریت کی چادر پہ اک نقشِ کفِ پا ہم بھی ہیں

    جا بہ جا بکھرے نظر آتے ہیں آثارِ قدیم
    پی گئیں جس کو گزر گاہیں وہ دریا ہم بھی ہیں

    اس حرم کی زیب و زینت کو خدا رکھے مگر
    مجرمانِ عہد و پیمانِ کلیسا ہم بھی ہیں

    ہم سے گونجا ہے عدم آباد کا دشتِ سکوت
    عالمِ ارواح کا پہلا دھماکا ہم بھی ہیں

    ہم جب اٹھ جائیں گے یہ عقدہ بھی حل ہو جائے گا
    رونقِ محفل چراغوں کے علاوہ ہم بھی ہیں

    خاک کیوں ہوتا نہیں جل کر حصارِ آب و گل
    یہ اگر سچ ہے ترے جلووں کا پردہ ہم بھی ہیں

    ہم پہ جانے کون سا طوفان تھوپا جائے گا
    جانے کس تعزیر کی خاطر گوارا ہم بھی ہیں

    یہ سرِ فہرست اور احسان دانشؔ شادباش
    مجرموں میں آپ کے نزدیک گویا ہم بھی ہیں

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر