فارسی شاعری رسمِ زہد و شیوهٔ تقویٰ نمی‌دانیم ما - محمد فضولی بغدادی (مع اردو ترجمہ)

حسان خان

لائبریرین
رسمِ زهد و شیوهٔ تقویٰ نمی‌دانیم ما
عشق می‌دانیم و بس این‌ها نمی‌دانیم ما
نیست ما را در جهان با هیچ کاری احتیاج
هیچ کاری غیرِ استغنا نمی‌دانیم ما
ما نمی‌گوییم کاری نیست غیر از عاشقی
هست صد کاری دگر امّا نمی‌دانیم ما
شیوهٔ تقلید و رسمِ اعتبار از ما مجو
کار و بارِ مردمِ دنیا نمی‌دانیم ما
هر چه غیر از عشقِ یار و لذتِ دیدارِ اوست
زاهدا بالله مجو از ما نمی‌دانیم ما
مظهرِ سِرِّ حق و آیینهٔ گیتی‌نما
جز مَیِ صاف و رخِ زیبا ‌نمی‌دانیم ما
گفتم ای گل‌رخ فضولی مُرد در کویِ تو گفت
کیست او در کویِ ما او را نمی‌دانیم ما
(محمد فضولی بغدادی)


ترجمہ:
رسمِ زُہد و شیوهٔ تقویٰ ہم نہیں جانتے۔۔۔۔ ہم عشق جانتے ہیں اور بس، یہ چیزیں ہم نہیں جانتے۔
ہمیں دنیا میں کسی بھی کام کی حاجت نہیں ہے؛ ہم بے نیازی کے سوا کوئی کام نہیں جانتے۔
ہم نہیں کہتے کہ عاشقی کے سوا کوئی کام نہیں ہے۔۔۔ صدہا دیگر کام موجود ہیں، لیکن ہم نہیں جانتے۔
ہم سے شیوۂ تقلید اور رسمِ عبرت کی تلاش مت کرو؛ ہم مردُمِ دنیا کے کار و بار نہیں جانتے۔ ×
اے زاہد! باللہ! یار کے عشق اور اُس کے دیدار کی لذت کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ ہم سے مت تلاش کرو کہ ہم نہیں جانتے۔
مئے صاف اور رُخِ زیبا کے سوا ہم کسی چیز کو مظہرِ رازِ حق اور آئینۂ جہاں نُما نہیں جانتے۔ ×
میں نے کہا: "اے گُل رُخ! فضولی تمہارے کوچے میں مر گیا۔" اُس نے کہا: "ہمارے کوچے میں کون ہے وہ؟ ہم اُسے نہیں جانتے۔


× فرہنگوں میں 'اعتبار' کا معنی 'قدر و منزلت و آبرو' بھی درج ہے، اور 'عبرت حاصل کرنا' بھی۔ میں نے مصرعے میں اِس لفظ کے 'تقلید' کے ساتھ عَطْف کے باعث 'عبرت' کے معنی کو ترجیح دی ہے۔
× آئینۂ جہاں نُما = دنیا دِکھانے والا آئینہ
 

حسان خان

لائبریرین
ایرانی آذربائجان کے شہر خامنہ میں متولّد ہونے والے اور جمہوریۂ آذربائجان کے شہر باکو میں ۱۹۹۴ء میں وفات پانے والے شرق شناس، مترجم اور ادیب 'محمد مبارز علی‌زاده' نے اِس فارسی غزل کا ترکی زبان میں ترجمہ یوں کیا تھا:

ترکِ دنیالېق نه‌دیر، تقویٰ نه‌دیر؟ - بیز بیلمه‌ریک
عشق‌دن باشقا نه وار افسانه‌دیر، - بیز بیلمه‌ریک
عالَمین هئچ امرینه بیزلرده یۏخ‌دور احتیاج
خلق دئییر: وار احتیاج، امّا نه‌دیر - بیز بیلمه‌ریک
عشق‌دن باشقا گئنیش دنیا‌دا ایش‌لر یۏخ دئییل
باشقا ایش‌لر عاشقه بیگانه‌دیر، - بیز بیلمه‌ریک
سۏرما بیز‌دن شیوهٔ تقلید و رسمِ اعتبار
اهلِ دنیا سعی‌ینه معنا نه‌دیر؟ - بیز بیلمه‌ریک
یارېن عشقیله اونون دیدارې شوقۆندان سوای
سۏرما زاهد، لذتِ دنیا نه‌دیر؟ - بیز بیلمه‌ریک
سِرِّ حقّین مظهری، عالَم‌نُما آیینه‌میز
صاف مَی‌دیر، ساده اۆز، باشقا نه‌دیر؟ - بیز بیلمه‌ریک
سؤیله‌دیم: اؤلدۆ فضولی آستانېن‌دا سنین
سؤیله‌دی: کیم‌دیر اؤلن، هاردا، نه‌دیر؟ - بیز بیلمه‌ریک


لاطینی خط میں:
Tərki-dünyalıq nədir, təqva nədir? – biz bilmərik,
Eşqdən başqa nə var əfsanədir, – biz bilmərik.
Aləmin heç əmrinə bizlərdə yоxdur ehtiyac,
Xalq deyir: var ehtiyac, amma nədir – biz bilmərik.
Eşqdən başqa geniş dünyada işlər yоx deyil,
Başqa işlər aşiqə biganədir, – biz bilmərik.
Sоrma bizdən şiveyi-təqlidü rəsmi-etibar,
Əhli-dünya səyinə məna nədir? – biz bilmərik.
Yarın eşqilə оnun didarı şövqündən səvay,
Sоrma zahid, ləzzəti-dünya nədir? – biz bilmərik.
Sirri-həqqin məzhəri, aləmnüma ayinəmiz
Saf meydir, sadə üz, başqa nədir? – biz bilmərik.
Söylədim: öldü Füzuli asitanında sənin,
Söylədi: kimdir ölən, harda, nədir? – biz bilmərik.


فارسی غزل کے ترکی ترجمے کا اردو ترجمہ:
ترکِ دنیا کیا ہے؟ تقویٰ کیا ہے؟ - ہم نہیں جانتے؛ عشق کے سوا جو کچھ بھی ہے، افسانہ ہے - ہم نہیں جانتے۔
عالَم کے کسی بھی کام کی ہمیں احتیاج نہیں ہے؛ خلَق کہتی ہے: احتیاج ہے، لیکن کیا ہے؟ - ہم نہیں جانتے۔
ایسا نہیں ہے کہ [اِس] وسیع دنیا میں عشق کے سوا کوئی کام نہیں ہے۔ [لیکن] دیگر کام عاشق کے لیے بیگانہ ہیں - ہم نہیں جانتے۔
ہم سے شیوۂ تقلید و رسمِ اعتبار مت پوچھو؛ اہلِ دنیا کی کوشش کا معنی کیا ہے؟ - ہم نہیں جانتے۔
اے زاہد! مت پوچھو کہ یار کے عشق اور اُس کے دیدار کے شوق کے سوا لذتِ دنیا کیا ہے؟ - ہم نہیں جانتے۔
سِرِّ حق کا مظہر اور ہمارا عالَم نُما آئینہ، صاف شراب اور سادہ چہرہ ہیں۔ دیگر کیا ہے؟ - ہم نہیں جانتے۔
میں نے کہا: فضولی تمہارے آستانے میں مر گیا۔ اُس نے کہا: مرنے والا کون ہے؟ کہاں ہے؟ کیا ہے؟ - ہم نہیں جانتے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
bilmərik معاصر استانبولی ترکی میں bilmedik ہے؟
اگرچہ کئی اناطولیائی زبانچوں میں بھی 'بیلمه‌ریک' اور 'بیلمیریک' نظر آ جائیں گے - مشرقی اناطولیائی زبانچے آذربائجانی زبانچوں کے ساتھ یکسانیت رکھتے ہیں - لیکن مُعاصر استانبولی زبانچے میں وسیع زمانِ حال کے لیے 'بیلمه‌ییز' (ہم نہیں جانتے) استعمال ہوتا ہے۔
'بیلمه‌دیک' کا معنی 'ہم نے نہ جانا' ہے۔
 
Top