ردیف و - غزلیں 143 تا 155

تفسیر نے 'غالبیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 29, 2006

  1. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088
    .
    صفحہ اول​


    فہرست تبصرہ غزلیات
    ردیف و - غزلیں 143 تا 155


    143 ۔ حسد سے دل اگر افسردہ ہے، گرمِ تماشا ہو
    144 ۔ کعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیں
    145 ۔ وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو
    146 ۔ ابر روتا ہے کہ بزمِ طرب آمادہ کرو
    147 ۔ ملی نہ وسعتِ جولان یک جنون ہم کو
    148 ۔ قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو
    149 ۔ واں اس کو ہولِ دل ہے تو یاں میں ہوں شرمسار
    150 ۔واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو
    ق
    لکھنؤ آنے کا باعث نہیں کھلتا یعنی
    151 ۔ تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
    152 ۔ گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو
    153 ۔ کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو
    154 ۔ رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
    155 ۔ بھولے سے کاش وہ ادھر آئیں تو شام ہو


    صفحہ اول​


    ردیف الف - غزل 1 تا 15

    ردیف الف ۔ غزل 16 تا 30

    ردیف الف ۔ غزل 31 تا 45

    ردیف الف ۔ غزل 46 تا 60

    ردیف ب تا چ - غزل 61 تا 69

    ردیف د تا ز - غزل 70 تا 87

    ردیف س تا گ - غزل 88 تا 97

    ردیف ل تا م - غزل 98 تا 102

    ردیف ن حصہ اول - غزل103 تا 118

    ردیف ن حصہ دوئم - غزل 119 تا 131

    ردیف ن حصہ سوئم - غزل 132 تا 142

    ردیف و - غزل 143 تا 155

    ردیف ھ - غزل 156 تا 160

    ردیف ے اول - غزل 161 تا 175

    ردیف ے دوئم - غزل 176 تا 190

    ردیف ے سوئم - غزل 191 تا 205

    ردیف ے چہارم - غزل 206 تا 220

    ردیف ے پنجم- غزل221 تا 235

    ردیف ے ششم ۔غزل 236 تا 250

    ردیف ے ہفتم - غزل 251 تا 265

    ردیف ے ہشتم - غزل 266 تا 274

    .
     

اس صفحے کی تشہیر