تبسم رخسار و لب کی بات نہ زلف و کمر کی بات ۔ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 6, 2015

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,872
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    رخسار و لب کی بات نہ زلف و کمر کی بات
    رنگینیِ جمال ہے حسنِ نظر کی بات

    کیا کیا فسانہ ہائے تمنّا ہوئے دراز
    کیا کیا بڑھی ہے زندگیِ مختصر کی بات

    صبحِ شبِ وصال ہو یا شامِ انتظار
    آخر وہی ہے گردشِ شام و سحر کی بات

    سایوں میں سو گئے ہیں شبستان کے خیال
    اِک خواب سی ہے جلوہ گہِ بام و در کی بات

    رہ رہ کے دردِ عشق کی آسودگی بڑھی
    رہ رہ کے یاد آئی ہمیں چارہ گر کی بات

    کیا پوچھتے ہو رہروِ منزل کی سرگزشت
    کچھ راہزن کی بات ہے کچھ راہبر کی بات

    ہم اپنے دل کی بات تبسم نہ کہہ سکے
    ہوتی رہی ہے یوں تو نظر سے نظر کی بات

    (صوفی تبسم)​
     

اس صفحے کی تشہیر