رباعیات قلندربابا اولیاء

الف نظامی

لائبریرین
رباعیات قلندربابا اولیاء

محرم نہیں راز کا وگرنہ کہتا
اچھا تھا کہ اِک ذرہّ ہی آدم رہتا
ذرّہ سے چلا چل کے اَجل تک پہنچا
مٹی کی جفائیں یہ کہاں تک سہتا
-
اِک لفظ تھا اِک لفظ سے افسانہ ہوا
اک شہر تھا اک شہر سے ویرانہ ہوا
گردُوں نے ہزار عکس ڈالے ہیں عظیم
میں خاک ہوا خاک سے پیمانہ ہوا
-
معلوم نہیں کہاں سے آنا ہے مرا
معلوم نہیں کہاں پہ جانا ہے مرا
یہ علم کہ کچھ علم نہیں ہے مجھ کو
کیا علم کہ کھونا ہے کہ پانا ہے مرا
-
مٹی میں ہے دفن آدمی مٹی کا
پُتلا ہے وہ اک پیالہ بھری مٹی کا
مئے خار پیئں گے جس پیالہ میں شراب
وہ پیالہ بنے گا کل اِسی مٹی کا
-
نہروں کو مئے ناب کی ویراں چھوڑا
پھولوں مےں پرندوں کو غزل خواں چھوڑا
افتادِ طبیعت تھی عجب آدم کی
کچھ بس نہ چلا تو باغِ رضواں چھوڑا
-
اِک جُرعہ مئے ناب ہے ہر دم میرا
اِک جرُعہ مئے ناب ہے عالم میرا
مستی و قلندری و گمراہی کیا
اِک جُرعہ مئے ناب ہے مِحرم میرا
-
جس وقت کہ تن جاں سے جُدا ٹھیرے گا
دو گز ہی زمیں میں توُ جا ٹھیرے گا
دو چار ہی روز میں توُ ہوگا غائب
آکر کوئی اور اُس جگہ ٹھیرے گا
-
اِک آن کی دُنیا ہے فریبی دُنیا
اِک آن میں ہے قید یہ ساری دنیا
اِک آن ہی عاریت ملی ہے تجھ کو
یہ بھی جو گزر گئی تو گزری دُنیا
-
دُنیائے طلسمات ہے ساری دُنیا
کیا کہئے کہ ہے کیا یہ ہماری دُنیا
مٹی کا کھلونا ہے ہماری تخلیق
مٹی کا کھلونا ہے ساری دُنیا
--
اِک جرُعہ مئے ناب ہے کیا پائے گا
اِتنی سی کمی سے کیا فرق آئے گا
ساقی مجھے اب مفت پِلا کیا معلوم
یہ سانس جو آگیا ہے پھر آئے گا
--
تا چند کلیسا و کنشت و محراب
تا چند یہ واعِظ کے جہنّم کا عذاب
اے کاش جہاں پہ آج روشن ہوتی
استادِ ازل نے کل جو لکھی تھی کتاب
--
ماتھے پہ عیاں تھی رَوشنی کی محراب
رخسار و لب جِن کے تھے گوہرِ نایاب
مٹی نے اِنھیں بدل دیا مٹی میں
کتنے ہوئے دَفن آفتاب و مہتاب
--
دُنیا نے تو کر دیا مجھے خانہ خراب
ساقی نے کرم کیا دیا جامِ شراب
اِس جام میں آسماں زمیں دونوں ہیں
اِس جام میں دو جہاں ہیں طاق و محراب
--
مئے خانہ کے اندر ہیں سبھی مست و خراب
مٹی کی صُراحی بھی ہے غرقِ مئے ناب
مئے خوارَوں کے کیا دماغ ہیں مت پوچھو
جام سرِ جمشید میں پیتے ہیں شراب
--
مئے خانہ کے گوشے سے نمایاں مہتاب
سایہ میں خُم و سبُو کے میکش ہیں خراب
ساغر میں نظر آتا ہے سارا عالم
معلوم یہ ہوتا ہے کی ہستی ہے شراب
--
خانے ہیں دماغ کے وہ خالی ہیں سب
چیزیں جو نظر آتی ہیں جعلی ہیں سب
ہرَ لمحہ بدلتا ہے جہاں کا منظر
نظّارے بھی آنکھوں کے خیالی ہیں سب
--
ہر ذرّہ میں ہے لَوح کی تحریر کا باب
ہر ذرّہ ہے آئینہ ہستی کا جواب
پڑھ سکتے ہو صاف کل جو ہو گا انجام
ہر ذرّہ نے آج کھول رکھی ہے کتاب
--
دنیا تو یہ کہتی ہے کہ مستی ہے شراب
لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ ہستی ہے شراب
جنّت کے معاوضہ میں مل جاتی ہے
اِن داموں تو مہنگی نہیں سستی ہے شراب
--
یہ آج جو ہو رہا ہے ساقی لبِ کِشت
یہ یا تو ہے خواب یا ہے ایوانِ بہشت
پینے کے لیے عمر ہے جو باقی ہے
جی بھر کے پِلا پینا ہے آدم کی سرشت
--
ساقی ہے شب برات پانے کی رات
یہ رات ہے سوتوں کو جگانے کی رات
جو مانگے کا سائل وہ ملے گا بے شک
یہ رات تو ہے خاص پلانے کی رات
--
یوں کہنے کو کہتے ہیں مفّکر ہر بات
سمجھا نہ کوئی آج تلِک کیا ہے حیات
ٹوٹی ہوئی دیوار سے دَر سے شب و روز
ہر مرُغ پکارتا ہے ہیہات ہیہات
--
ہو جھونپڑی یا قلعہ تِری ملکیت
لیکن اَجل اِک دَم کی نہ دے گی مہلت
رکھ کے کسی گڑھے میں کہیں گے اَحباب
پائی ہے فَلاں ابنِ فَلاں نے رَحلت
--
اہرام فراعین کا مَدفن ہیں آج
سیّاحوں سے تحسین کا لیتے ہیں خراج
رفتارِ زمیں کی ٹھوکریں کھا کھاکر
مل جائے گا کل تک اِن کا مٹی میں مزاج
--
ساقی کا لب لعل گہر بار ہے آج
رخسار رگِ جان سے دوچار ہے آج
اِک آگ ہی آگ ہے ہر اک جرعہ میں
ساغر میں شراب بھی شرربار ہے آج
--
جو شاہ کئی ملک سے لیتے تھے خراج
معلوم نہیں کہاں ہیں ان کے سَر و تاج
البتہ یہ افواہ ہے عالم میں عظیم
اب تک ہیں غبارِ زرَد ان کی افواج
--
تو آج خُدارا کل کے بارے میں نہ سوچ
آے گی اجل اجل کے بارے میں نہ سوچ
رشتہ تو ہمارا ہے اَزل سے لیکن
پی اور پِلا اَزل کے بارے میں نہ سوچ
--
کُل عُمر گزر گئی اس پر ناشاد
افلاک نے ہر سانس کیا ہے برباد
شاید کی وہاں خوشی میسر ہوعظیم
یہ زیرِ زمیں بھی اک دُنیا آباد
--
ہَر ذرّہ ہے ایک خاص نمو کا پابند
سبزہ ہو صنوبر ہو کہ ہو سروِ بلند
اِنسان کی مٹی کے ہر اِک ذرّہ سے
جب ملتا ہے موقع تو نکلتے ہیں پرند
--
آدم کو بنایا ہے لکیروں میں بند
آدم ہے اسی قید کے اندر خورسند
واضح رہے جس دم یہ لکیریں ٹوٹیں
روکے گی نہ اِک دم اسے مٹی کی کمند
--
ساقی وہی مئے لا جو ہمیں آئے پسند
ساقی وہی خُم کھول دے جو ہو سر بند
اِک آن میں یہ رات گزر جائے گی
ہو جائیں گے ہم صبح زمیں کے پیوند
--
ساقی ترے میکدہ میں اتنی بیداد
روزوں میں ہوا سارا مہینہ برَباد
اِس باب میں ہے پیرِ مُغاں کا اِرشاد
گر بادہ نہ ہاتھ آئے تو آتی ہے باد
--
اِس بات پہ سب غور کریں گے شاید
آہیں بھی وہ دو چار بھریں گے شاید
ہے ایک ہی بات اِ س میں پانی ہو کہ مئے
ہم ٹوٹ کے ساغر ہی بنیں گے شاید
--
یہ طاق یہ ٹوٹے ہوئے دَر اور دیوار
ذرّوں میں نظر آتے ہیں سارے آثار
ذرّوں میں گرم شاعروں کی محفل
ذرّوں میں ہیں بند شاعروں کے اشعار
--
کہتا ہے مجھے ایک زمانہ کافر
سچائی کا انجام ہوا یہ آخر
میں ایک کو تو دو نہ کہوں گا زنہار
گو سارے زمانہ کو ہو بارِ خاطر
--
میں کیا ہوں یہ عقدہ تو کُھلے گا آخر
پردہ جو پڑا ہے وہ اُ ٹھے گا آخر
ذرّے کو مرے کوئی تو صورت دیں گے
ساغر نہ بنا خُم تو بنے گا آخر
--
اب دیکھنا کیا ہے کربلا کے اندر
سب دیکھ لیا جو تھا بقا کے اندر
افلاک سے ہوتی ہیں بلائیں نازل
شاید کوئی دنیا ہو فنا کے اندر
--
یہ بات مگر بھول گیا ہے ساغر
انسان کی مٹی سے بنا ہے ساغر
سو بار بنا ہے، بَن کے ٹوٹا ہے عظیم
کتنی ہی شکستوں کی صَدا ہے ساغر
--
اچھّی ہے بُری ہے دَہر فریاد نہ کر
جو کچھ کہ گزر گیا اُسے یاد نہ کر
دو چار نفس عُمر ملی ہے تجھ کو
دو چار نفس عُمر کو بَرباد نہ کر
--
ساقی ترا مخمور پئے گا سو بار
گردش میں ساغر تو رہے گا سو بار
سو بار جو ٹوٹے تو مجھے کیا غم ہے
ساغر مری مٹی سے بنے گا سو بار
--
کل روزِ ازل لکھی تھی مری تقدیر
ممکن ہو تو پڑھ آج جبیں کی تحریر
معذور سمجھ واعظ ناداں سمجھ کر
ہیں بادہ و جام سب مشیّت کی لکیر
--
ساقی ترے قدموں میں گزرنی ہے عُمر
پینے کے سِوا کیا مجھے کرنی ہے عُمر
پانی کی طرح آج پلا دے بادہ
پانی کی طرح کل تو بِکھرنی ہے عمُر
--
آدم کا کوئی نقش نہیں ہے بیکار
اس خاک کی تخلیق میں جلوے ہیں ہزار
دستہ جو ہے کوزہ کو اٹھانے کے لئے
یہ ساعدِ سیمیں سے بناتا ہے کمہار
--
جب تک ہے چاندنی میں ٹھنڈک کی لکیر
جب تک کہ لکیر میں ہے غم کی تصویر
جب تک کہ شبِ مہ کا ورق ہے رَوشن
ساقی نے کیا مجھے ساغر میں اسیر
--
حق یہ ہے کہ بیخودی خودی سے بہتر
حق یہ ہے کہ موت زندگی سے بہتر
البتہ عدَم کے راز ہیں سربستہ
لیکن یہ کمی ہے ہر کمی سے بہتر
--
پتھّر کا زمانہ بھی ہے پتھّر میں اسیر
پتھّر میں ہے اس دَور کی زندہ تصویر
پتھّرکے زمانہ میں جو انسان تھا عظیم
وہ بھی تھا ہماری ہی طرح کا دیگر

--

مٹی سے نکلتے ہیں پرندے اُڑ کر
دُنیا کی فضا دیکھتے ہیں مُڑ مُڑ کر
مٹی کی کشش سے اب کہاں جائیں گے
مٹی نے انھیں دیکھ لیا ہے مُڑ کر

--

معلوم ہے تجھ کو زندگانی کا راز
مٹی سے یہاں بن کے اڑا ہے شہباز
اس کے پَر و پُرزے تو یہی ذرّے ہیں
البتہ کہ صنّاع ہے اس کا دَمساز

--

مٹی کی لکیریں ہیں جو لیتی ہیں سانس
جاگیر ہے پاس اُن کے فقط اک قیاس
ٹکڑے جو قیاس کے ہیں مفروضہ ہیں
ان ٹکڑوں کا نام ہم نے رکھا ہے حواس

--

ہر چیز خیالات کی ہے پیمائش
ہیں نام کی دنیا میں غم و آسائش
تبدیل ہوئی جو خاک گُورستاں میں
سب کوچہ و بازار کی تھی زیبائش

--

ساقی کا کرم ہے میں کہاں کا مئے نوش
مجھ ایسے ہزارہا کھڑے ہیں خاموش
مئے خوار عظیم برخیا حاضر ہے
افلاک سے آرہی ہے آوازِ سروش

--

یہ جانتی ہے کیوں ہیں فرشتے روپوش
یہ جانتی ہے کیا فرشتوں کا ہوش
یہ جانتی ہے ضرور قدرت کے راز
سوسن ہے زباں دَراز پھر ہے خاموش

--

بے بادہ رہوں اور میں واللہ غلط
ساقی کے سوا اور کی ہو چاہ غلط
ہے میکدہ محراب و پرستش میری
میں میکدہ چھوڑ دوں یہ افواہ غلط

--

مٹی کی بناوٹ کا ہے اک نام دماغ
انسان کے بدن میں اس سے جلتا ہے چراغ
جلتا ہے چراغِ زندگانی ہرَ دم
حتیٰ کوئی لمحہ نہیں رہتا بے داغ

--
اے کاسہ گر اک سر بھی ہے تیری املاک
ہشیار کہ اک دن تجھے ہونا ہے ہلاک
یہ کاسہ سر شاہ کی مٹی کا ہے
تو آگ میں ڈالتا ہے جس کو بے باک

--
جس پرَدے میں دیکھتا ہوں پرَدا ہے الگ
جس نقش میں دیکھتا ہوں نقشا ہے الگ
ہر ذرّہ میں جمشید و فریدوں ہیں ہزار
سُبحان اللہ کہ مری دُنیا ہے الگ

--

آنا مرے اختیار میں نہ جانا غافل
کھونا مرے اختیار میں نہ پانا غافل
کُل عُمر میں اک سانس نہیں ہے میرا
البتہ ہے اختیار کا بہانہ غافل

--
انسان ہے اِسی خاک کے نُقطوں کا جال
جس خاک سے بنتے ہیں زبرَجد و لعل
ذرّات کی مالا کے یہ سب دانے ہیں
مہتاب ہو اختر ہو کہ مٹی کا سفال

--
ہے چاندنی رات ٹوٹ گئے سارے اصول
ہے کوزہ سے منہ لگا کے پینا بھی قبول
ساقی کی نگاہیں بھی قیامت ہیں عظیم
ہر چیز نظر آتی ہے نشّہ کا نزول
--

افلاک سے تجھ کو یہ اُمیدیں ہیں فضول
زخموں کو کُریدنا ہے اِن کا معمول
ساقی کی طرف دیکھ طلب کر بادہ
جو بادہ نہیں ہے کچھ بھی زخموں کو قبول

--

مٹی سے چمٹنے کو چمٹتی ہے عظیم
فکر اس کی ہے پَیروں سے لپٹتی ہے عظیم
شاید ہو کسی فرشتہ خُو کی مٹی
دل میں مرے یہ بات کھٹکتی ہے عظیم

--

چہرہ جسے دیکھیں تو کہیں ماہِ تمام
چلنا جسے دیکھیں تو کہیں حشر تمام
ساقی میں بتاوں کیا جو اون پہ گزری
سو بار ہی خُم بنے ہیں سو بار ہی جام

--

اِک دَم جو ہے موجود غنیمت ہے عظیم
شاید یہی زندگی کی فرصت ہے عظیم
دوچار قدم کا راستہ باقی ہے
آئندہ جو ہے عدم کی رخصت ہے عظیم

--

کیا لَوح و قلم میں ہے تعلق باہم
کیا لَوح پہ تحریر ہے واللہ اعلم
البتہ ہے جام سے قلم کا رشتہ
ہے جام ہی نقّاش ازل کا محرم

--
یہ بود نبود کیا ہے کس کو معلوم
افلاک کی جو ادا ہے کس کو معلوم
سب راز ہیں کہکشاں کی گردش کے عظیم
خُورشید میں کیا چُھپا ہے کس معلوم

--

دانائی کے انداز نرالے ہیں عظیم
دانائی کے محراب و شوالے ہیں عظیم
دانائی کے بندے کلسیا و کنشت
دانائی نے سب پیچ یہ ڈالے ہیں عظیم

--

مئے خانہ میں ہیں ساقی و مینا باہم
روشن شب و مہتاب کا چہرہ باہم
جادو ہے عجب طرح کا آنکھوں کےلئے
خُم اور سبُو دونوں کا سایہ باہم

--

گُم ہو گیا بس اس کے سوا کیا معلوم
کس سمت سے وہ نکل گیا کیا معلوم
ممکن نہیں اوس تک ہو رسائی اپنی
جو وقت گیا کہاں گیا کیا معلوم

--

اِک آن میں اٹھیں گے ہم تم
کچھ پہلے سے کچھ بعد چلیں گے ہم تم
اب دیر نہیں ہے خاک ہونے میں یہاں
گر سرَو نہیں سبزہ بنیں گے ہم تم
--
آثارِ قدیمہ کی نہیں دیواریں
سبزہ ہے وہاں جہاں کہ تھیں دیواریں
جھونکوں کے ہوا کے یوں ہوائیں بدلیں
جھونکوں سے ہوا کے اُڑ گئیں دیواریں
--

اِس کِنج خراب میں ہوا پیدا میں
اس کنج خراب میں ہوا شیدا میں
اس کِنج خراب نے کیا مجھ کو خراب
اس کِنج خراب میں ہوا رُسوا میں

--
زلفیں ہیں ہزار مُشک اور عنبر میں
ہیں سیکڑوں رخسار جو ہیں گوہر میں
اِس راہ میں رکھ پیر ذرا آہستہ
آنکھیں ہیں پرَی زادوں کی خاکستر میں

--

مٹی سے بنی ہوئی ہے سب کی گردن
ٹوٹی ہے بنی ہے پھر بھی کوئی گردن
عذرا کی ہو لیلیٰ کی ہو شیریں کی عظیم
گردن ہے صُراحی کی کسی کی گردن

--

مٹی میں کہیں اِن کے نشاں رکھے ہیں
ہے خاک ہی خاک وہ جہاں رکھے ہیں
قبروں پہ رُخ و زلف کو روتے ہیں دوست
قبروں میں رُخ و زلف کہاں رکھے ہیں

--

اک ملک سَما ہے کہ بلائیں ہیں جہاں
اک ملک بَقا ہے کہ جفائیں ہیں جہاں
اک ملک فنا زیرِ زمیں ہے آباد
اس ملک کے اندر نہ زمیں ہے نہ زماں

--

خاکستر دل کا آشیانہ ہوں میں
جینے کا فقط اِک بہانہ ہوں میں
کہتی ہے بُرا یا کہ بھلا کہنے دے
دنیا کے تواہم کا فسانہ ہوں میں

--

خوشبوئے رُخِ دوست ہے پیراہن میں
خوشبوئے بدن ہے حبیب اور دامن میں
ہے چار طرف سرو و سمن کی محفل
ہے حلقہ گیسوئے سیہ گردن میں

--

تو نے جو بنا دیا وہ بندہ ہوں میں
اک بے پرَ و بال کا پرَندہ ہوں میں
مرے تو نہیں لَوح و قلم تیرے ہیں
کونین کا کیا آفریندہ ہوں میں

--

بیداری میں کٹ جاتی ہیں اکثر راتیں
میں دل سے کیا کرتا ہوں یہ ہی باتیں
رخسارہ لیلیٰ سے لبِ عذرا تک
اندھیر ہے مٹی تھیں یہ کُل سوغاتیں

--

باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں
پانی میں جو مچھلیاں ہیں سب مٹی ہیں
آنکھوں کا فریب ہے یہ ساری دُنیا
پھولوں میں جو تتلیاں ہیں سب مٹی ہیں

--

معلوم نہیں اُڑ کے کدھر جاتے ہیں
پیچھا نہیں ممکِن یہ جدھر جاتے ہیں
ہاں اتنا تو اندازہ ہوا ہے مجھ کو
اَوراق ہیں عُمر کے بِکھر جاتے ہیں

--

یہ ماہ رُخوں کے وَلولے کتنے ہیں
یہ لالہ و گُل کے سلسلے کتنے ہیں
اوّل مٹی ہے اور آخر مٹی
رستہ میں اَجل کے مرحلے کتنے ہیں

--

اَپنوں کی طرف دیکھ کے رہ جاتا ہوں میں
کتنی ہی بڑی بات ہو سَہہ جاتا ہوں میں
اپنی ان ہی خشک آنکھوں سے عظیم
ویرانی کا اِک افسانہ کہہ جاتا ہوں

--

جو سلسلہ پینے کا ہے بالائے زمیں
ممکن ہے کہ یہ ختم بھی ہو جائے یہیں
ممکن ہے کہ قبروں میں بھی مئے خانے ہوں
پینے کا یہ سلسلہ وہاں بھی ہو کہیں

--

دُنیا وہ نگر ہے کہ جہاں کچھ بھی نہیں
انسان وہ گھر ہے کہ جہاں کچھ بھی نہیں
وہ وقت کہ سب جس کو اہم کہتے ہیں
وہ وقت صفر ہے کہ جہاں کچھ بھی ہیں

--

مٹی کے سبُو شراب کی محفل ہیں
نظّاروں سے دُنیا کے مگر بیدل ہیں
یہ دیکھتے سُنتے ہیں سمجھتے بھی ہیں
ذرّات میں ان کے چشم و گوش و دل ہیں

--

مٹی سے گلاب و یاسمیں بنتے ہیں
انسان بھی اِس کے بالیقیں بنتے ہین
مٹی تو ہے یہ مگر اسی مٹی سے
کتنے رُخ و زُلف نازنیں بنتے ہیں

--

دُنیا میں پریشان بہت دیکھے ہیں
اُجڑے ہوئے ویران بہت دیکھے ہیں
مُنہ دیکھ کے رَہ جاتے ہیں اپنوں کا عظیم
اس طرح کے حیران بہت دیکھے ہیں

--

مٹی کی لکیروں میں ہزاروں دَر ہیں
گر جھانکئے کتنے مَیکدے اَندر ہیں
مینا ہے شرابِ ناب ہے ساقی ہے
ذرّوں پہ جو غور کیجئے ساغر ہیں

--

اِک عُمر گزر گئی فراقِ دل میں
تنہائی کی دیوار تھی ہر منزل میں
ساقی نے کرم کیا جگہ دی مجھ کو
جام و قدح و صراحی کی محفل میں

--

اِک وہم ہے جِس کو کہکشاں کہتے ہیں
اِک وہم ہے جِس کو آسماں کہتے ہیں
اِک وہم ہے جِس کا نام آدم ہے عظیم
اِک وہم ہے جِس کو دو جہاں کہتے ہیں

--
کہتی ہے یہ مٹی بھی بہت سی باتیں
باتوں میں گُزر گئی ہیں اکثر راتیں
مٹی کے یہ ذرّات کبھی انساں تھے
تھیں کبھی اُن کی شیخ و برہمن ذاتیں

--

کیا علم کہ کب جہاں سے ہم اٹھتے ہیں
پیر اپنے مگر سوئے عدم رکھتے ہیں
ممکن نہیں عمر کو پلٹ کر دیکھے
انسان کے آگے ہی قدم اٹھتے ہیں

--

ذرّات جبینِ ذَرفشاں بنتے ہیں
ذرّات ہی روئے مہو شاں بنتے ہیں
ذرّات ہی باعث ہیں کفِ سیمیں کا
ذرّات ہی پائے گُل فشاں بنتے ہیں

--

کیا یوں ہی یہ خدمت سبُو کرتے ہیں
انساں ملے یہ جستجو کرتے ہیں
ہم سُن نہیں سکتے یہ خطا ہے مگر
یہ کُوزہ و خُم بھی گُفتگو کرتے ہیں

--

مئے خانہ ہے یہ ساقی کا سایہ ہے یہاں
جام و قدح و شیشہ و مینا ہے یہاں
پیتا ہے شرابِ ناب جو آتا ہے
لفظوں کی نہیں عمل کی دُنیا ہے یہاں

--

اَب ذِکر زمین و آسماں کیونکر ہو
یہ عُمر ہے کیا اِس کا بیاں کیونکر ہو
جس لمحہ کے آسماں زمیں ٹکڑے ہوں
وہ لمحہ پیچیدہ عیاں کیونکر ہو

--

انجان ہی جسم میں بَسایا مجھ کو
انجان ہی دنیا میں بُلایا مجھ کو
انجان جہاں سے ہی مجھے بھیجا تھا
انجان جہاں میں ہی اُٹھایا مجھ کو

--

جِن قبروں میں ہیں شاہ و گَدا ہم پہلو
جِن قبروں میں مٹی ہوئے چشم و اَبرو
اُن قبروں کا ہرَ ذرّہ لرزتا ہے عظیم
جب فاختہ کہتی ہے کوکو، کوکو

--

وہ کاخِ بلند آج شکستہ ہے جو
مٹی کی طرف جُھکا ہے خَستہ ہے جو
جِس میں کہ رُخ و زُلف کی مٹی ہے سب
مٹی کی طرف آخری رَستہ ہے جو

---

دُنیا سے ہے اُمید وَفا کی تجھ کو
کھائے گی قسم فریب دے گی تجھ کو
دے قرض متاعِ زیست کر نادانی
لَوٹاکے یہ کوڑی بھی نہ دے گی تجھ کو

---

بَرسات کا موسم آ گیا ہے لبِ جُو
اے پیرِ مُغاں کھول دے منہ خام سبُو
باغوں میں بہار کی فرَاوانی ہے
کوئل بھی پکارتی ہے کوکو کوکو

---

یہ ریت کی دُنیا ہے عَجب افسانہ
بُت ریت کے ہیں ریت کا بُت خانہ
گھنٹے کی صَدا ریت کے اَندر گُم ہے
گویا کہ ہوئی صَدا بھی اِک ویرانہ

---

ذرّات میں شاہوں کا سرَاپا ہے یہ
اک معرکہ اجل کی دُنیا ہے یہ
اُڑتی ہے جو گرد پاوں کی ٹھوکر سے
خاکستر سکندر و دارا ہے یہ

---
ساقی نے پلائی ہے مجھے وہ بادہ
ہر بھید نظر آتا ہے بالکل سادہ
ہر چیز ہے چند مرحلے مٹی کے
یہ خشتِ سرِ خم ہے سرِ شہزادہ

---

اجزائے صُراحی سے بنا مئے خانہ
اجزائے شراب سے بنا پیمانہ
مئے خانہ تو انسانوں کی آبادی ہے
باقی تو ہیں کٹ پُتلیاں اور ویرانہ

---
یا خاک کا ساغر ہی رہوں گا ساقی
یا کوزہ مئے کوزہ ہی بنَوں گا ساقی
آزاد نہ چھوڑیں گے مری مٹی کو
میں پھر کسی قالب میں ڈھلوں گا ساقی
---

جو عُمر تھی مئے خانہ میں گزری ساقی
خاکسترِ دل کا مرحلہ ہے باقی
خاکسترِ دل سے خمُ بناتا ہے کمہار
چکر یہی چلتا ہے برابر ساقی
---
مٹی کا پیالہ ہے عجب اے ساقی
پیالہ میں ہے دُنیائے طرب اے ساقی
وہ شمع کی رَوشنی میں پینا مئے ناب
یاد آتی ہے گُزری ہوئی شب اے ساقی
---
ہے عُمر تمام تلخ کام اے ساقی
ہے اِس کا علاج اِک جام اے ساقی
مئے خانہ کے اندر ہیں مہ و مہر و فلک
باہر نہیں، جُز خیالِ خام اے ساقی
---
رہنے دے یہیں مست و خراب اے ساقی
مئے خانہ کے باہر ہے عذاب اے ساقی
تاریک ہوا ہے خمُ کا سایہ لیکن
رَوشن ہے چراغِ مہتاب اے ساقی
---
یا مثلِ حباب ٹوٹنا ہے ساقی
یا آبلہ بَن کے پھوٹنا ہے ساقی
اِک سانس کا اعتبار کیا پینے دے
اِک سانس کے غم سے چھوٹنا ہے ساقی
---
دو چار نفس کا ہے زمانہ ساقی
پینا ہے بس اِک مرا فسانہ ساقی
سو سال یہاں کے ہیں بہانہ ساقی
کُل عُمر ہے اک تازیانہ ساقی
---
مٹی کی یہ مورت ہے یہ سب ٹوٹے گی
معلوم نہیں کسی کو کب ٹوٹے گی
ذرّوں میں بِکھر جائیں گے رَنج و راحت
آواز ذرا نہ ہو گی جب ٹوٹے گی
---
یہ سرو ہیں سب سرو قدوں کی مٹی
یہ لالے ہیں سب لالہ رُخوں کی مٹی
یہ سبزہ ہے سب زُہرہ وِشوں کی مٹی
جگنو ہیں تمام سیم برَوں کی مٹی
---
جلوہ نہ سہی وادی ایمن ہی سہی
ساقی نہ سہی ساقی کا نشیمن ہی سہی
مقصود ہمارا تو پرستش ہے عظیم
خرَقہ نہیں زنّارِ برہمن ہی سہی
---
معلوم ہے تجھ کو ماحصل اے ساقی
ہر دَم چلی آتی ہے اَجل اے ساقی
ہر دَم ہے رَواں دَواں فنا کی دنیا
آئے نہ پلانے میں خلل اے ساقی
---
پیتا ہی رہوں گا تا اجل اے ساقی
پینے میں نہ آے گا خلل اے ساقی
دعویٰ ہے مرا اور یہ پورا ہو گا
دعویٰ اگر چہ بے محل اے ساقی
---
وا ہو نہ سکا کسی پہ رازِ ہستی
ویرنہ ہے آج کل جہاں تھی بستی
کچھ بھید کُھلے جو میکشوں کے اوپر
معلوم ہوا کہ سب وہ تھے سر مستی
---
ہے ظرفِ مکاں ظرفِ زماں اے ساقی
ہرنقش ہَوا میں ہے یہاں اے ساقی
یہ جام و شیشہ یہ قدح و مینا
یہ سب ہیں مگر یہ ہیں کہاں اے ساقی
---
اِک آن ہے کُل عُمرِ جہاں اے ساقی
اِک آن میں وقفہ ہی کہاں اے ساقی
اِک آن کا ہے فائدہ پینا اپنا
پینے کے سِوا سب ہے زیاں اے ساقی
---
ہے زیرِ زمین بھی شہر کی آبادی
مٹی کے صنم سے ہے وہاں آزادی
ہے موت کا سایہ بھی وہاں ہر ممنوع
ممکن ہی نہیں حیات کی برَبادی
---
ہر لفظ کا مشرق ہے نہ مغرب ساقی
ہر لفظ کا کوئی نہیں نائب ساقی
چُپ چاپ ہیں شیشہ و جام و مینا
ہر لفظ ہے سامنے سے غائب ساقی
---
انسان ہے ایک صیدِزبوں اے ساقی
مٹی کو چلاتا ہے فسوں اے ساقی
بہتر ہے یہ میخانہ اندر ہی رہے
باہر اسے ہوتا ہے جنوں اے ساقی
---
دس لاکھ برس جو چل چکا وہ بھی
کل جس نے کہ آغاز کیا ہے وہ بھی
یہ راہِ فنا ہے سب ہیں اس میں ہمراہ
پہلے جو چلا ہے اب جو چلا ہے وہ بھی
---

یہ حال نہیں تجھ پہ نمایاں ساقی
کر غور جو مٹی میں ہے پنہاں ساقی
کوزہ ہو پیالہ ہو سبُو ہو کہ خُم ہو
ہے ٹوٹ کے بننا انہیں انساں ساقی
---
گزرا جو گزر گیا ہے اب اے ساقی
آنا ہے جسے رُکے گا کب اے ساقی
آج اِس کے سبب اُوس کے سبب کو مت دیکھ
پینے دے تو آج بے سبب اے ساقی
---
اَب عُمر ضعیفی کی ہے میری ساقی
اب کچھ نہیں اعصاب کے اندر ساقی
اب خود مری مٹی کا بنے گا ساغر
ساغر مرے ہاتھ سے نہ چھین اے ساقی
---
اِک چاندنی رات کا ہے پینا ساقی
اِک چاندنی رات کا ہے جینا ساقی
ہے آج ہی زندگی کا اوّل آخر
کل زیرِ زمیں ماہ نہ مینا ساقی
---
یہ دورِ جہاں کیا ہے بَتا اے ساقی
اس راز کو ہم سے نہ چُھپا اے ساقی
یہ دَور پیالہ سے ہے مِلتا جُلتا
اس دَور کو توڑ کر دِکھا اے ساقی
---
مئے خانہ میں چاندنی بھی ہے سایہ بھی
مٹی کے سفال کا ہے سرمایہ بھی
اِس نُور کی دنیا میں بھلا ہوش کسے
اِک آن کو آیا ہے جو ہوش آیا بھی
---
ہے وقتِ سحر شراب ِ ناب اے ساقی
مہتاب کے بعد آفتاب اے ساقی
مئے خوار ترے منتظر حاضر ہیں
ہے تیری عطا اِن کا ثواب اے ساقی
---
اٹھی ہیں شبِ غم کی گٹھائیں اے ساقی
افلاک سے اُتری ہیں بلائیں ساقی
ان میں ہی اگر موت چھپی ہے اپنی
پیاسے ترے میخوار نہ جائیں ساقی
---
جتنی بھی پلا سکے پلا دے ساقی
اِک آن کی عُمر ہے ہماری ساقی
اِک آن گزر گئی تو گزرے ہم تم
اِک آن کے بعد کیا رہے گا باقی
---
اِک آن ہے ہستی کا بہانہ ساقی
اِک آن کا قیدی ہے زمانہ ساقی
میخانہ ہے چاندنی ہے خُم ہے لیکن
اِک آن میں ہے ختم فسانہ ساقی
---
کٹ پُتلی ہے یہ نوع ہماری ساقی
حرکت ہے اشارات یہ ساری ساقی
ہوتی ہے جو تحریک تو پیتے ہیں ہم
وَرنہ ہے بساط کیا ہماری ساقی
---
یہ عُمر کی منزل ہی کڑی ہے ساقی
ہر گام پہ سختی ہی پڑی ہے ساقی
کل آئے نہ آئے آج تو دِل بھر دے
مشہور ہے کل سے آج بڑی ہے ساقی
---
یہ ساغر و کوزہ و سبُو اے ساقی
یہ سارے ہیں مٹی کی نمو اے ساقی
اک روز ہمیں اِن ہی میں آنا ہو گا
اس میں نہیں شک کی گفتگو اے ساقی
---
کچھ گھاس کے پتوں میں اُگی ہے مٹی
کچھ باغ کے پوَدوں میں ڈَھلی ہے مٹی
کچھ رنگ برنگ پھول ہوئی ہے مٹی
کچھ تتلیاں بَن بَن کے اُڑی ہے مٹی
---
محمود ہو حامد ہو کہ زید اے ساقی
ہیں آخر کار اجل کی صید اے ساقی
کل عُمر رہا مئے سے گریباں گُلرنگ
البتہ کفن تو ہو سفید اے ساقی
---
شاہوں کا رہا نہ سرَ نہ تاج اے ساقی
ہے چار طرف اَجل کا راج اے ساقی
ہے طولِ کلام کس نے دیکھی ہے کل
جتنی بھی پیوں پینے دے آج اے ساقی
---
جلدی میں ہے عُمر اپنی یہاں ساقی
وہ روکے سے رُکتی ہے کہاں اے ساقی
اِک رات ملی ہے ترے مئے خواروں کو
ہو جائیں گے کل خاک جہاں اے ساقی
---
اِک آن ہے میخانہ کی عُمر اے ساقی
اِک آن کے بعد کیا رہے گا باقی
اِک آن میں ہوگی کہکشاں خاکستر
اِک آن کا فائدہ اٹھا لے ساقی
---
میخانہ میں آ ملکِ سلیماں یہ ہے
شیشہ ہے پیالہ ہے شبستاں یہ ہے
معلوم نہیں سَبا کی ملکہ کیا تھی
ساقی پہ نگاہ رَکھ چراغاں یہ ہے
---
کہتا ہے کوئی غم زدگی اچھی ہے
کہتا ہے کوئی کہ بیخودی اچھی ہے
اِک آن میں کر دیتی ہے کُل قصے پاک
میں کہتا ہوں سب سے موت ہی اچھی ہے
---
جو ہونا ہے بے جا کہ بجا ہونا ہے
اس غم میں فضول مبتلا ہونا ہے
اندھیر ہے دن کی روشنی میں اتنا
معلوم نہیں کہ دَم میں کیا ہونا ہے
---
مٹی کا ہے سینہ مٹی کا شانہ ہے
مٹی کی گرفت میں تجھے آنا ہے
کچھ دیر پہنچنے میں لگے گی شاید
مٹی کی طرف چند قدم جانا ہے
---
واعظ نے بنا لئے ہیں چند افسانے
ان پر جو یقیں کریں وہ ہیں فرزانے
میخانہ کو چھوڑیں دوزخی ہو جائیں
دیوانے ہیں اتنے تو نہیں دیوانے
---
دنیا میں تو اِک یہ ہی مقام اپنا ہے
مینا ہے جہاں وہیں قیام اپنا ہے
ہر سِمت اندھیرا ہی اندھیرا ہے عظیم
روشن جو یہاں ہے اِک جام اپنا ہے
---
اک روز میں ہم ضعیف ہو جائیں گے
اک روز میں ہم جاں ہی کھو جائیں گے
یہ عُمر طبیعی ہے مگر ہے کتنی
جاگے تھے صبح شام کو سو جائیں گے
---
راہ گیروں کے پیروں میں لگیں گے کانٹے
جو ہاتھ انھیں چھیڑے گاچُبھیں گے کانٹے
مٹی مری بَرباد نہ ہو جائے گی عظیم
سبزہ نہ اُگا اگر اُگیں گے کانٹے
---
جب تیری مشیّت ہے سِتم سہنے دے
اک حرف شکایت کا مگر کہنے دے
کُل عُمر میں اِک نَفس نہیں ہے اپنا
دو چار نَفس تو عاریت رہنے دے
---
مٹی ہی میں دالان ہیں محرابوں کے
مٹی ہی میں بازار ہیں مہتابوں کے
اس خاک میں لالہ رُخوں کی خوُشبو
ہیں زیرِ زمیں شہر مرے خوابوں کے
---
عُنوانِ مشیّت کہیں ٹل سکتا ہے
تو لَوح کی تحریر بدل سکتا ہے
استاذِ قلم نے لکھ دیا ہے جو لکھا
کیا اُس کے خلاف بھی کوئی چل سکتا ہے
---
اک وَرقہ کتاب ہے یہ دُنیا کیا ہے
دو صفحہ کا باب ہے یہ دُنیا کیا ہے
ہر شخص کتاب و باب کو روتا ہے
اک چشمِ پُر آب ہے یہ دُنیا کیا ہے
---
مٹی کا بنا ہوا لبِ احمر ہے
مٹی کی بناوٹ آنکھ کا گوہر ہے
مٹی کے بنے ہوئے ہیں سب ٹوٹیں گے
وہ کوزہ ہے وہ کمہار وہ ساغر ہے
---
آنا ہو مرا کہ جانا جلدی میں ہے
کھونا ہو مرا کہ پانا جلدی میں ہے
اک دم بھی جو مل جائے غنیمت ہے یہاں
ساقی مئے ناب لا زمانہ جلدی میں ہے
---
جام و قدح و سبُو یہاں میرا ہے
مئے خانہ میں ہوں اب یہ جہاں میرا ہے
جب تک کہ شراب ہے میرے ساغر میں
جو کچھ بھی زیر ِآسماں میرا ہے
---
تھوڑے سے ہیں ان میں شہر کے پیمانے
آگے جو چلو ہیں دہر کے ویرانے
جس خاک کو دیکھو وہ ہے خاکسترِ دل
مٹی کے ہزار بَن گے افسانے
---
جب آنکھ شُبہ کرے شُبہ کس کا ہے
انسان جو نہ سمجھے تو گِلہ کس کا ہے
اک نُور کی دُنیا ہے کہیں پر آباد
کچھ علم نہیں ہے وہ صِلہ کس کا ہے
---
کتنے ہی خُم و سبُو و میخانہ بنے
کتنے ہی کف ساقی و پیمانہ بنے
کتنے ہی تھے بہروپ زمانہ کے عظیم
کتنے ہی وہ لمحے تھے جو افسانہ بنے
---
سو سال ہوں سو دَم ہوں گُزر جائیں گے
ہم سب ہی یہاں سے بے خبر جائیں گے
ساقی ہمیں اس فکر سے غافل کر دے
معلوم نہیں ہمیں کدھر جائیں گے
---
یہ مٹی یہ کوزہ ہے یہ کوزہ گر ہے
یہ مٹی ہزار شکل کا محور ہے
یہ مٹی ہی انگور ہے اور مئے خانہ
یہ مٹی ہی ساقی کا رخِ انور ہے
---
شاید کہ اَجل کو بھی اَجل آ جائے
شاید کہ اَبد اور اَزل آ جائے
شاید کہ ہو وہ وقت کہ جب وقت نہ ہو
شاید کہ قیامت کو خلل آ جائے
---
یہ کون بتائے کہ وہاں جاتا ہے
کیا عِلم کسی کو وہ جہاں جاتا ہے
مانا کہ ہر ایک لفظ زبان پر ہے عظیم
جب مُنہ سے نکلتا ہے کہاں جاتا ہے
---
افلاک کا ہے ستم سِتم بھی کیا ہے
اک لمحہ کا جو غم ہے وہ غم بھی کیا ہے
پی اور بہت پی کہ ترا دَم نہ رہے
اِک دَم کی زندگی وہ دَم بھی کیا ہے
---
مٹی کے لباس میں چھپایا ہے مجھے
مٹی کی کشش سے آزمایا ہے مجھے
معلوم نہیں غُبار سے مٹی کے
نقاشِ اَزل نے کیوں بنایا ہے مجھے
---
بے بادہ تو آرام کہاں رکھا ہے
وہ جام میں ہے جام کہاں رکھا ہے
اب نام بھی مجھ سے پوچھتا ہے ساقی
بے نام ہوں میں نام کہاں رکھا ہے
---
مرنے جینے میں فاصلہ کتنا ہے
اک آن کا وقفہ بھی نہیں اتنا ہے
اک آن گر وقت کبھی رُک جائے
معلوم یہ ہو جائے کہ یہ جتنا ہے
---
دو چار قدم عدم سے آنا ہے مجھے
دو چار قدم عدم کو جانا ہے مجھے
پانی کی طرح سے پائے ساقی میں عظیم
اس باقی عُمر کو بہانا ہے مجھے
---
آنا ہے ترا عالم روحانی سے
حالت تری بہتر نہیں زندانی سے
واقف نہیں میں وہاں کی حالت سے عظیم
واقف ہوں مگر یہاں کی ویرانی سے
---
پامال ہوئے ہیں اس قدر میخانے
دل اور جگر کے بن گے پیمانے
آدم کی جگہ ملے ہیں مٹی کے ڈھیر
خاک اُڑتی ہے دیکھے ہیں بہت ویرانے
---
انسان کا غرور اقتدار و زَر ہے
گر یہ بھی نہیں تو مذہب و منبر ہے
دیکھا جو اسے بعد فنا ہونے کے
معلوم ہوا یہ خاک مٹھی بھر ہے
---
آدم تو بس اک حالِ زبُوں دیا ہے
آدم نے تو بس فریب ہی کھایا ہے
مہ خانہ میں دو وقت تو ملتی ہے شراب
دُنیا میں تو کھویا ہے نہ کچھ پایا ہے
---
اک آتشِ سوزاں ہے جہاں دیکھو گے
جلتے ہوئے دِن رات وہاں دیکھو گے
آتش نے جلے داغ جو چھوڑے ہیں کہیں
ان داغوں میں تم کون و مکاں دیکھو گے
---
مئے خانہ پہ ہر سمت گھٹا چھائی ہے
ساقی ترے دامن پہ بَہار آئی ہے
رُخ بھی ترا گُلرنگ ہے پیراہن بھی
خود بھی مئے گُلرنگ تماشائی ہے
---
مجھ پہ عجب احسان کیا ساقی نے
دی میری بصارت کو جِلا ساقی نے
جس جرعہ میں تا عرش نظر آتا ہے
وہ جرعہ شراب کا دیا ساقی نے
---
انساں نے کھویا ہے نہ کچھ پایا ہے
اک وہم ہے جو سُود و زیاں لایا ہے
کوئی نہ مفکّر نہ مدبّر ہے یہاں
البتہ دماغ میں خلل آیا ہے
---
مٹی میں کسی روز مجھے ملنا ہے
ترُبت کو گُلِ تر کی طرح کِھلنا ہے
گر موت نے اِک آن کی مہلت دیدی
خُم اور صُراحی سے گلے ملنا
---
اندھیر شبِ غم کا جہاں ہوتا ہے
دردِ دل عاشق بھی وہاں ہوتا ہے
فرہاد کے بَدخواہ یہ لکھ لیں دِل پر
جگنو بھی چراغِ آشیاں ہوتا ہے
---
دُنیا میں ہی یہ نشو و نما پاتا ہے
دُنیا ہی میں یہ آب و ہوا پاتا ہے
مٹھی میں غُبار خاطر اوّل آخر
انسان جہاں میں اور کیا پاتا ہے
---
واللہ کہ یہ خود کو نہیں پہچانے
افسانہ و افسوں میں رہے فرزانے
قدرت کا عطیّہ خود ہی قدرت ہے عظیم
یہ بات سمجھتے ہیں فقط دیوانے
---
کیا بات ہے کہ تلوار نہیں کر سکتے
سرَمد کو سردار نہیں کر سکتے
مُنہ رکھتا ہے انسان جو چاہے کہہ دے
الفاظ تو انکار نہیں کر سکتے
 
Top