فارسی شاعری رباعیاتِ خیام

خیامؔ کو بہت لوگ جانتے ہیں۔ مگر بہت کم جانتے ہیں۔
وہ اپنی زندگی میں شاعر کے طور پر معروف نہیں تھا۔ یہ آگ تو اس نے اپنی موت کے مدتوں بعد لگائی ہے۔ زندگی میں البتہ خود سلگتا رہا ہو گا۔ مجھے ایسا اس کی رباعیات پڑھ کر لگتا ہے۔ زندگی کی بے‌ثباتی اور انسان کی بے‌بضاعتی کا جیسا دردمندانہ نقشہ وہ کھینچ گیا ہے شاید دنیا میں پھر نہ کھنچ سکے۔
ایک مسلمان ہونے کے ناتے میں پوری ایمان‌داری سے سمجھتا ہوں کہ خیامؔ کے افکار اسلامی تعلیمات سے اکثر ٹکراتے ہیں۔ مگر اسی ایمان‌داری کا تقاضا مجھے یہ تسلیم کرنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ یہ آدمی کو خدا کے قریب لے آتے ہیں۔ اس کے افکار صحت‌مندانہ البتہ نہیں ہیں۔ ان میں فنا کا ایسا ہیبت‌ناک جلوہ ہے جو بڑے‌بڑوں کا پتا پانی کر دینے کو کافی ہے۔ نتیجتاً ایک ایسی بے‌لگام فراریت بھی ایسی اس کے ہاں پیدا ہو گئی ہے جس کے آگے آنے والی ہر اخلاقی دلیل اپنی آبرو کھو بیٹھتی ہے۔
خیامؔ کے سوانح مشکوک ہیں۔ اس کے عقائد متنازع ہیں۔ اکثر رباعیات کی اس سے نسبت بھی مشتبہ ہے۔
مگر باایں‌ہمہ ہومر کی طرح خیامؔ بھی ایک واہمے کی سی لطافت اور قوت کے ساتھ زمانے کے اعصاب پر سوار ہے۔ میں خیامؔ کی ذات کو اتنا ہی جانتا ہوں اور یہ مجھے کافی ہے۔ مجھے کوئی اعتراض نہ ہو گا اگر کوئی محقق کل ثابت کر دے کہ تمام رباعیاتِ خیامؔ دراصل ایران کی لوک‌دانش کا شہ‌کار ہیں اور خیامؔ نے ایک رباعی بھی نہیں کہہ رکھی۔
خیامؔ کی رباعیات انسان کا کائنات اور ربِ کائنات کے خلاف عاجزانہ احتجاج ہیں۔ خیامؔ سرکش ہے مگر اپنی اوقات پہچانتا ہے۔ وہ چیختا ہے مگر توڑپھوڑ نہیں کرتا۔ روتا ہے مگر آنسوؤں کو شراب کی طرح پی لینے کا ذوق بھی رکھتا ہے۔ ماتم کرتا ہے مگر زنجیرزنی نہیں کرتا۔ طنز کرتا ہے مگر آنکھیں نہیں ملاتا۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے خیامؔ ابلیس کا اوتار تھا۔ کم‌بخت عارف بھی بلا کا تھا اور سرکش بھی۔
میری خواہش ہو گی کہ میں اس دھاگے میں خیامؔ کی چیدہ چیدہ رباعیات مع تراجم و تفہیم کے پیش کروں۔ ترجمے میرے اپنے ہوں گے۔ بلکہ ممکن ہے یہ خیامؔ بھی میرا اپنا ہی ہو۔ اپنی تمام تر لسانی اور علمی بےبضاعتی کا مجھے اعتراف ہے۔ مگر دراصل یہ افکار کم اور احساسات زیادہ ہیں جن کے اظہار کا بیڑا میں اٹھانے جا رہا ہوں۔ اس لیے عذرخواہی ضروری نہیں سمجھتا۔
ملاحظہ ہو پہلی رباعی۔
جامے‌ست کہ عقل آفریں می زندش
ایک جام ہے کہ عقل اس پر عش‌عش کر اٹھتی ہے
صد بوسہ ز مہر بر جبیں می زندش
اس کے ماتھے پہ محبت سے سیکڑوں بوسے دیتی ہے

ایں کوزہ‌گرِ دہر چنیں جامِ لطیف
یہ دنیا کا کوزہ گر ایسے لطیف جام کو
می سازد و باز بر زمیں می زندش
بناتا ہے اور پھر زمین پر دے مارتا ہے
مفہوم:
خدا کی قہاری اور انسان سے اس کے قادرانہ رشتے کا بیان ہے۔ جام سے مراد انسان ہے اور کوزہ‌گر سے خدا۔
فرماتے ہیں کہ ایک جام یعنی بشر ہے کہ عقل اس کی نزاکت و لطافت پر آفریں پکار اٹھتی ہے۔ عقل والے جب انسان کی ذات پر غور کرتے ہیں تو حیرت میں ڈوب جاتے ہیں کہ کیا شے قادرِ مطلق نے بنائی ہے۔ اس کے بدن کی ساخت سے لے کر ذہن و قلب کی گہرائیوں تک جدھر جدھر نگاہ جاتی ہے آفریں آفریں کا شور اٹھتا ہے۔ دوسرے مصرع میں یہ بیان ہے کہ عقل کو گویا خدا کے اس شہ‌کار پہ اتنا پیار آتا ہے کہ وہ اس کے بوسے لینے لگتی ہے۔ یعنی عالمِ بشریت کی نیرنگیوں پر غور کرنے سے ہمیں انسان سے محبت ہو جاتی ہے۔
پھر خیامؔ پینترا بدلتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس جام کو بنانے والے کوزہ‌گر کے رنگ بھی ذرا ملاحظہ ہوں۔ وہ ایسے لطیف اور خوب‌صورت جام کو بناتا ہے اور بنا چکنے کے بعد، عقل کو انگشت‌بدنداں کر دینے کے بعد۔۔۔۔ اسے نہایت بے‌دردی سے زمین پر دے مارتا ہے!
ان دو مصرعوں میں انسان کے انجام کا بیان ہے۔ یعنی خدا اپنی اس قدر خوب‌صورت اور حیران‌کن تخلیق جسے ہم انسان کے نام سے جانتے ہیں کی تمام‌تر رعنائی اور دل‌کشی سے اس قدر بے‌نیاز ہے کہ جب وہ اسے کامل کر چکتا ہے تو اٹھا زمین پر پٹخ دیتا ہے۔ زمین پر دے مارنے سے مراد سے مراد موت بھی ہو سکتی ہے اور گردشِ روزگار بھی۔ ہر دو صورت میں انسان پر رحم آتا ہے اور خدا سے خوف۔
(جاری ہے)
 

امان زرگر

محفلین
کتنا اعلی، آفاقی اور لافانی خیال ہے. کتنے لطیف پیرائے میں بیان کردہ، جیسے لفظ دل میں اتر گئے ہوں
 
اے آمدہ از عالمِ روحانی تفت
اے روحوں کے جہان سے تازہ تازہ آئے ہوئے
حیراں شدہ در پنج و چہار و شش و ہفت
اور پانچ چار چھ سات کے چکر میں حیران ہونے والے (شخص)
مے نوش ندانی ز‌کجا آمدہ‌ای
شراب پی۔ تو نہیں جانتا کہ تو کہاں سے آیا ہے
خوش باش ندانی بکجا خواہی رفت
خوش رہ۔ تو نہیں جانتا کہ تو کہاں جائے گا
مفہوم:
انسان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ تو روحوں کے عالم سے تازہ تازہ یہاں تشریف لایا ہے۔ تفت کے معانی گرما‌گرم یا بعجلت کے ہیں۔ گویا جہانِ ارواح ایک بھٹی ہے جس میں تجھے بنا کر فوراً ہی یہاں نکال پھینکا گیا ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ انسان اس دنیا میں اجنبی ہے اور اس کی زندگی دنیا کو کماحقہٗ جاننے کے لیے کفایت بھی نہیں کرتی۔
دوسرے مصرع میں اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انسان کو چار پانچ چھے سات کے چکر میں گرفتار و متحیر قرار دیتے ہیں۔ اس سے مختلف معانی مراد لیے جا سکتے ہیں مگر میری رائے میں آسان ترین مطلب یہ ہے کہ انسان دنیا کو ریاضی کے قاعدوں کی طرح سمجھنے کی کوشش میں سرگرداں رہتا ہے اور منہ کی کھاتا ہے۔
انسان کی پیدائش اور اس دنیا سے اس کے تعلق کا یہ بلیغ خاکہ کھینچنے کے بعد اسے مشورہ دے رہے ہیں کہ شراب پی۔ تو نہیں جانتا کہ تو کہاں سے آیا ہے۔ اور خوش رہ۔ کیونکہ تجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ تو آگے کہاں جائے گا۔
یہ وہ فراریت ہے جس کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں۔ انھی دو مصرعوں میں ہمیں خیامؔ کی تشکیک بھی عروج پر نظر آتی ہے۔ وہ انسان کے آغاز و انجام اور مقصدِ حیات کے بارے میں مذہب کے بیانات کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔ ان کے نزدیک انسان کا حال جھٹپٹے میں ہے اور اس کا ماضی و مستقبل اندھیرے میں۔ اسے نہیں معلوم کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جائے گا۔ لہٰذا لمحۂِ موجود کے جھٹپٹے میں سے رہی سہی روشنی کشید کر لینا ہی عقل‌مندی معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے وہ شراب سے غم غلط کرنے اور ہر حال میں خوش رہنے کا مشورہ بڑے خلوص سے دیتے نظر آتے ہیں۔
(جاری ہے)
 

امان زرگر

محفلین
وہ شراب سے غم غلط کرنے
کیا مے سے مراد صرف یہی شراب ہے جس کا بیان آپ نے کیا۔۔۔۔۔ مجھے نہیں لگتا، اور "تو نہیں جانتا" سے کیا محض یہی مراد لی جا سکتی ہے کہ شاعر عالم ارواح اور آخرت کا منکر ہے، حالانکہ شاعر انسان کے عالم ارواح سے دنیا میں آنے کو بیان کر چکا تو اب "تو نہیں جانتا" کچھ اور سوچنے اور سمجھنے کا متقاضی ہے فقط لاعلمی جس کا بیان آپ نے کیا ناکافی محسوس ہو رہی ہے
 

امان زرگر

محفلین
اسرارِ خودی کی ابتدا میں اقبال یوں گویا ہیں:
ساقیا بر خیز و مے در جام کن
محو از دل کاوشِ ایام کن
می کند اندیشہ را ہشیار تر
دیدۂ بیدار را بیدار تر

اعتبار کوہ بخشد کاہ را
قوت شیراں دہد روباہ را
خاک او اوجِ ثریا میدہد
قطرہ را پہنائے دریا میدبد
خامشی را شورشِ محشر کنند
پائے کبک از خونِ باز احمر کند
’’اے ساقی! اٹھ اور میرے پیالے میں وہ شراب انڈیل دے جو دل سے زمانے کی تکالیف کو دور کر دے۔
ایسی شراب فکر میں اور تیزی پیدا کر دیتی ہے اور جو آنکھ پہلے ہی بیدار ہو، اُس میں مزید بیداری پیدا کر دیتی ہے۔
یہ تنکوں کو پہاڑ کا وقار عطا کرتی ہے اور لومڑی کو شیروں کی طاقت بخشتی ہے۔
اس کی خاک کو ثریا کی بلندی بخشتی ہے اور قطرے کو سمندر کی وسعت دیتی ہے۔
یہ خاموشی کو قیامت کے شور میں بدل دیتی ہے اور چکور کے پنجے کو باز سے لڑا دیتی ہے‘‘۔
 
Top