"راہِ مضمونِ تازہ بند نہیں" ۔ از ۔ محمد احمد

محمداحمد

لائبریرین
کچھ عرصے پہلے ایک تضمین "تاقیامت کھلا ہے بابِ سخن" کے نام سے یہاں پیش کی تھی۔ اُس کے کچھ دنوں بعد اس شعر کا مصرعہ اولیٰ بھی مشقِ ستم کا نشانہ بن گیا سو شاملِ محفل کر رہا ہوں۔

وہ جو شادی سے پہلے کہتا تھا
اُس کو یکسانیت پسند نہیں
اُس کی بیوی نے کر دیا ثابت
"راہِ مضمونِ تازہ بند نہیں"

 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
کل کمنٹ کرنے لگا تو انٹرنیٹ چلا گیا اور بعد میں۔۔۔

احمد بھائی تو کمال لکھتے ہیں۔ چاہے نثر ہو، نظم ہوں۔ کوئی بھی صنفِ سخن ہو۔ آپ ماسٹر ہیں۔
لاجواب قطعہ ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
کل کمنٹ کرنے لگا تو انٹرنیٹ چلا گیا اور بعد میں۔۔۔

احمد بھائی تو کمال لکھتے ہیں۔ چاہے نثر ہو، نظم ہوں۔ کوئی بھی صنفِ سخن ہو۔ آپ ماسٹر ہیں۔
لاجواب قطعہ ہے۔

بہت شکریہ بلال۔۔۔!

بہت محبت ہے آپ کی۔

احمد بھائی بہت خوب ۔۔ ۔ ۔ ۔ اعلیٰ

بڑی نوازش فرید صاحب۔۔۔۔!
 
Top