***رات***

علی صہیب

محفلین
وقت گزرا ہے عجب سرعتِ رفتار کے ساتھ
رات پھر آئی ہے تاریکیِ آثار کے ساتھ
وحشت و سوزش و آزاریِ افکار کے ساتھ
آئی ہے میری تمناؤں کی قاتل بن کر
لائی یادوں کا دھواں میری جوانی کی فغاں
ہر طرف خوف کے قدموں کی وہی چاپ اٹھے
جس سے پھر جسم مرا روح مری کانپ اٹھے
ٹمٹماتے ہوئے کچھ آس کے بے خوف چراغ
اور کچھ امید کی جلتی ہوئی قندیلیں ہیں
جو مقابل ہیں شبِ خوف کے اس لشکر کے
دیکھیے معرکہ اب کون یہاں جیتے گا
آس جیتے گی کہ پھر وہم و گماں جیتے گا
ہائے تقدیر سے کب کون کہاں جیتے گا
علی صہیب
 
آخری تدوین:

علی صہیب

محفلین
خوب نظم ہے حافظ صاحب، لاجواب!
شکریہ جناب! ❤
بہت اعلیٰ جناب۔ کی کہنے۔
شکریہ! ❤
ٹائپو درست کر لیں۔
جی درست کر لیا ہے!
ماشاء اللہ بہت خوب
نوازش! ❤
 

الف عین

لائبریرین
خوب ماشاءاللہ۔کئی مصرعوں میں قوافی استعمال کئے گئے ہیں اور اس وجہ سے کانپ اور چاپ کے 'غیر قوافی' پسند نہیں آئے
 

علی صہیب

محفلین
بہت شکریہ محترمہ!
بہت عمدہ، کیا کہنے!
بہت شکریہ محترم!
خوب ماشاءاللہ۔کئی مصرعوں میں قوافی استعمال کئے گئے ہیں اور اس وجہ سے کانپ اور چاپ کے 'غیر قوافی' پسند نہیں آئے
ذرہ نوازی محترم! ❤
کچھ متبادل سوچتا ہوں اور آئندہ اس سے پرہیز برتوں گا!
 
Top