رات نے کوئلوں کو پھانک لیا!

سہیل: یہ پھر کس نے دستک دی؟
انور: کوئی بھٹک گیا ہوگا
سہیل: ہمارے کوئی ختم ہونے کو ہیں
انور: ہمارا احساس گرم ہے
سہیل: تم نے ٹھنڈی محبت کا نام سنا ہے؟
انور: تم دن بہ دن شاعر ہوتے جا رہے ہو
سہیل: شاعروں کی انگلیاں پتھر کی ہوتی ہیں
انور: پتھر کی انگلیوں پر تم نے ایک نظم لکھی تھی!
سہیل: ٹھیک کہتے ہو، کوئلے ختم ہوئے تو اسے آگ میں جھونک دیں گے
انور: یہ دروازہ بھی لکڑی کا ہے
سہیل: ہاں، دیکھو کوئی مسلسل اس پر دستک دے رہا ہے
انور: اس آواز میں عجیب اک ترنم ہے
سہیل: تم بھی تو میز، دروازوں، کتابوں پر طبلہ نوازی کرتے ہو!
انور: میرے طبلے پچھلے دسمبر نذرِ آتش ہو گئے تھے
سہیل: دسمبر کی راتیں 'نورا' کے کرتوتوں سے بھی زیادہ کالی ہیں
انور: راکھ میں آخری چنگاری کو دیکھو
سہیل: میرے احساس کی طرح فنا ہو گئی
انور: میں دروازہ کھول آتا ہوں

ثمینہ: سہیل تم کوئلے کا بندوبست کرو، میری ٹانگیں جم رہی ہیں
سہیل: تمہاری ٹانگیں بہت خوبصورت ہیں
ثمینہ: تم گستاخ ہو!
سہیل: 'انور' کہاں ہے؟
ثمینہ: باہر بھیڑیے بھوکے تھے
سہیل: مجھے تمہارے اندر کے جانور سے دلچسپی ہے
ثمینہ: میری کمر پر سانپ کا نیلا نشان ہے
سہیل: سچ؟ لیکن وہ نشان تو عین میں سینے پر ہے!
ثمینہ: دیکھو آگ بالکل بجھ گئی ہے
سہیل: تمہاری آنکھوں میں ابھی چنگاریاں ہیں
ثمینہ: تم بھوکے کتے ہو، جو رات ہونے کا انتظار کرتا ہے۔
سہیل: کاش میں تمہیں اپنے دانتوں سے کاٹ سکتا
ثمینہ: تمہارے منہ سے جیسے پانی ٹپک رہا ہو
سہیل: تمہارا سینہ سمندر کی طرح موجیں مار رہا ہے
ثمینہ: کیا تم اس کی ٹھنڈی گہرائی محسوس کرنا چاہتے ہو؟
سہیل: میری گرم سانسیں تمہیں اور ٹھنڈا کر دیں گی
ثمینہ: تم جوان ہو اور مضبوط
سہیل: تم عورت بالکل نہیں
ثمینہ: تمہارے بالوں میں میری انگلیاں الجھ رہی ہیں
سہیل: اور تمہارے بالوں سے میرے گناہ
ثمینہ: تمہاری گردن پر یہ تل تمہارے گناہوں کی طرح کالا ہے
سہیل: اس میں خون گرم ہے
ثمینہ: تمہارے اندر سے خون کی لپٹ آ رہی ہے!
سہیل: یہ خنجر تیس سال پرانا ہے
ثمینہ: تمہارا پیار اس سے زیادہ تیز ہے
سہیل: اسے اپنے سینے کی گہرائی میں اتار دو، تمہارا خون گرم ہے!
ثمینہ: میں تم سے محبت کرتی ہوں
سہیل: مجھے زندہ رہنا ہے
ثمینہ: تمہارا تھوک بھی تلخ ہے
سہیل: تمہارے ہونٹ شیرین!
ثمینہ: بھیڑیے اب بھی بھوکے ہیں
سہیل: آگ مکمل بجھ چکی ہے!

(تاثر یافتہ از "کوئلے" سعادت حسن منٹو)
(مہدی نقوی حجازؔ)
 
آخری تدوین:

قیصرانی

لائبریرین
بہت عمدہ اور رواں کلام
پتہ نہیں کیوں، مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ کلام کسی حد تک انسپائرڈ ہے۔ تاہم یہ محض میری جاہلانہ رائے ہے، براہ کرم دل پر مت لیجئے گا :)
 
بہت عمدہ اور رواں کلام
پتہ نہیں کیوں، مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ کلام کسی حد تک انسپائرڈ ہے۔ تاہم یہ محض میری جاہلانہ رائے ہے، براہ کرم دل پر مت لیجئے گا :)
جناب کسی حد تک نہیں یہ پورا انسپائرڈ ہے! ؛) محض جملوں کو اسی ڈھنگ میں رکھ کر نیا جامہِ معنی پہنانے کی کوششیں ہیں! :) :)
 

قیصرانی

لائبریرین
جناب کسی حد تک نہیں یہ پورا انسپائرڈ ہے! ؛) محض جملوں کو اسی ڈھنگ میں رکھ کر نیا جامہِ معنی پہنانے کی کوششیں ہیں! :) :)
"کسی حد تک" میں نے اس لئے لکھا کہ اگر میں غلط ثابت ہوا بھی تو بات کو دل پہ نہ لے لیا جائے :) دوستانہ :)
 

نایاب

لائبریرین
بہت پر تاثر قاری کو خود میں محو کر دینے والی اک بہترین نظم
زندگی کی بنیاد میں شامل کھرے جذبوں میں اٹھتے طوفان کو بہت خوب بیان کیا۔
 
Top