دو اشعار

فرخ منظور

لائبریرین
نشاطِ وصل کی جو آرزو تھی
اب اس سے بھی عداوت ہوگئی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صنم ہم بھی کبھی پوجا کئے تھے
سمٹ کر اب یہ وحدت ہوگئی ہے
 

فاتح

لائبریرین
بہت عمدہ فرخ صاحب! ماشاء اللہ
میری رائے میں چونکہ یہ دو اشعار بھی اسی غزل کی زمین میں ہیں تو انہیں اسی کا حصہ بنا دیجیے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
اچھے اشعار ہیں فرخ صاحب۔

فاتح صاحب نے جو ارشاد فرمایا کہ ان اشعار کو اپنی پہلی غزل کا حصہ بنا دیں تو میری ناچیز رائے میں یہ اشعار صرف اسی صورت میں غزل کا حصہ بن سکتے ہیں جب کہ اُس غزل کے مطلعے کے قوافی میں تبدیلی کی جائے، کیونکہ اس وقت آپ کی پہلی غزل کے مطلعے میں قافیہ کا حرفِ روی 'الف' ہے اور 'دت' قافیے کا مستقل حصہ ہے جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، یعنی 'قیادت، سیادت' اور باقی اشعار میں 'شہادت، عبادت، ارادت، سعادت' قوافی ہیں، اب اگر ان کے ساتھ 'وحدت اور عداوت' قافیے لائیں گے تو یہ ایطائے جلی ہو جائے گا جو کہ قافیے کا بہت بڑا عیب ہے۔

مطلع کا ایک مطلب اساتذہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ طلوع سے ہے، یعنی غزل کے پہلے شعر سے یہ کھلتا ہے کہ اس غزل کی بحر کیا ہے، قافیہ و ردیف کیا ہے۔ یوں فرخ صاحب کی غزل میں اگر مطلع میں قافیےمثلاً 'قیادت اور عداوت' ہوں یا اسی قسم کے کوئی اور قافیے ہوں توں پھر اس قافیے میں حرفِ روی 'ت' اور اس اسے پہلے کی حرکت 'زبر' یعنی 'اَت' قافیہ ہونگے، اور پھر 'ات' آواز والے کوئی بھی قوافی اس غزل میں آ سکتے ہیں، جیسے 'محبت، نفرت، وحدت، عبادت، قسمت، حزیمت، علّت، مخصامت، شدّت، بہت، لعنت' وغیرہ وغیرہ۔ لیکن موجودہ مطلے کے ساتھ شاید یہ ممکن نہیں۔

اور ہاں یاد آیا فرخ صاحب، پھر 'بدھ مَت' کا قافیہ بھی آ سکے گا۔ ;)
 

فرخ منظور

لائبریرین
بہت عمدہ فرخ صاحب! ماشاء اللہ
میری رائے میں چونکہ یہ دو اشعار بھی اسی غزل کی زمین میں ہیں تو انہیں اسی کا حصہ بنا دیجیے۔

قبلہ! وارث صاحب میرے استاد ہیں وہ جیسے حکم کریں‌گے وہی بجا لاؤں‌گا - انہوں نے کہا کہ یہ غزل میں‌نہیں‌ہونے چاہئے لہٰذا نکال دئیے اب اگر وہ یہ مجھے بتا دیں‌کہ مطلع میں کونسے دو قوافی آجائیں‌کہ یہ اشعار بھی شامل ہوجائیں‌تو مطلع تبدیل کردوں‌گا- باقی جیسے اساتذہ فرمائیں‌ گے - میں تو اب انکی غلامی میں‌ ہوں - :)
 

محمد وارث

لائبریرین
آپ شرمندہ کر رہے ہیں فرخ صاحب، اگر یہی 'استادی' ہے تو آگ لگے اس استادی کو اور بھاڑ میں جائے اسطرح کا فرمانا کہ 'دوستی' کے عرشِ معلٰی سے آپ نے اس 'یاری' کو زمین پر دے مارا۔ :)

اوپر ویسے میں نے قافیے لکھے تھے، مطلع کو تبدیل کرنا اب آپ کا کام ہے، ویسے میری ذاتی رائے میں آپکی پہلی غزل، 'اَدت' قافیے کے ساتھ بہت خوبصورت ہے، کہ قافیے کا سارا حسن تکرار میں ہوتا ہے اور جتنے زیادہ الفاظ کی تکرار اس میں آئے گی وہ زیادہ بھلی معلوم ہوگی۔

اگر ان اشعار کو 'قید' میں لانا ہی ہے تو ایک حل یہ بھی ہے کہ ایک نئی غزل کہیں، انہی اشعار کے ساتھ تا کہ قافیہ بھی نیا ہو جائے اور دیگر قافیے بھی استعمال میں آ جائیں۔ اور دوسری غزل بھی ہاتھ لگ جائے۔

ریاضت میری بدھ مَت ہو گئی ہے
سخنور سے محبت ہو گئی ہے

چلو شادی کریں اس بیوہ سے اب
کہ پوری اسکی عدّت ہو گئی ہے ;)
 

فرخ منظور

لائبریرین
آپ شرمندہ کر رہے ہیں فرخ صاحب، اگر یہی 'استادی' ہے تو آگ لگے اس استادی کو اور بھاڑ میں جائے اسطرح کا فرمانا کہ 'دوستی' کے عرشِ معلٰی سے آپ نے اس 'یاری' کو زمین پر دے مارا۔ :)

اوپر ویسے میں نے قافیے لکھے تھے، مطلع کو تبدیل کرنا اب آپ کا کام ہے، ویسے میری ذاتی رائے میں آپکی پہلی غزل، 'اَدت' قافیے کے ساتھ بہت خوبصورت ہے، کہ قافیے کا سارا حسن تکرار میں ہوتا ہے اور جتنے زیادہ الفاظ کی تکرار اس میں آئے گی وہ زیادہ بھلی معلوم ہوگی۔

اگر ان اشعار کو 'قید' میں لانا ہی ہے تو ایک حل یہ بھی ہے کہ ایک نئی غزل کہیں، انہی اشعار کے ساتھ تا کہ قافیہ بھی نیا ہو جائے اور دیگر قافیے بھی استعمال میں آ جائیں۔ اور دوسری غزل بھی ہاتھ لگ جائے۔

ریاضت میری بدھ مَت ہو گئی ہے
سخنور سے محبت ہو گئی ہے

چلو شادی کریں اس بیوہ سے اب
کہ پوری اسکی عدّت ہو گئی ہے ;)

واہ حضور خوب قافیے سجھائے آپ نے - :) اور آپ سے دوستی تو ہے ہی لیکن استادی کا بھی تعلق ہے - آپ تو ہیں ہی بہت استاد ;)
 
Top