عدم دن گزر جاینگے سرکار کوئی بات نہیں - عبدالحمید عدم

دن گزر جاینگے سرکار کوئی بات نہیں
زخم بھر جاینگے سرکار کوئی بات نہیں

آپ کا شہر اگر بار سمجھتا ہے ہمیں
کوچ کر جاینگے سرکار کوئی بات نہیں

آپ کے جور کا جب ذکر چھڑا محشر میں
ہم مکر جاینگے ، سرکار کوئی بات نہیں

رو کے جینے میں بھلا کون سی شیرینی ہے
ہنس کے مر جاینگے سرکار کوئی بات نہیں

نکل آئے ہیں عدم سے تو ججھکنا کیسا
در بدر جاینگے سرکار کوئی بات نہیں

عبدالحمید عدم
 

طارق شاہ

محفلین
وقاص معاویہ صاحب !
عدم صاحب کی لمبی ردیف میں
فرمانبرداری یا صلح پسندی نے مزہ دیا
ان کی یہ اچھی غزل شیئر کرنے کے لئے تشکّر
بہت خوش رہیں
 

فرقان احمد

محفلین
اُستادِ محترم کا شعر دستخط میں موجود ہے، کیا ہی بات ہے غزل کی اور کیا ہی بات ہے اس شعر کی!

ہمارے بعد کوئی آنکھ نم ہوئی کہ نہیں
جو ہو سکے تو یہ منظر بھی دیکھ کر جائیں

توصیف تبسم
 
Top