دنیا کی سب سے جھوٹی عورت

نیرنگ خیال

لائبریرین
گرمیوں کی لُو سے بھری ایک دوپہر تھی جب وہ اسکول سے گھر لوٹا، گھر میں داخل ہوتے ہی اسے محسوس ہوا جیسے ماں کے چہرے کا رنگ ایکدم تبدیل ہو گیا۔
ماں اسے دیکھ کر مسکرائی اور کہا، جلدی سے کپڑے بدل لو میں کھانا لاتی ہوں۔
جب وہ بے دلی سے کپڑے بدل کر آیا تو سامنے سبزی یا دال کی جگہ کچھ اسکی پسندیدہ ڈش، ایک پیالی میں میٹھا اور گلاس میں ستّو موجود تھا۔
اُس نے پوچھا امی آج اتنا کچھ؟ خیریت تو ہے؟
ماں نے کہا، ہاں مہمان آئے تھے اس لئے یہ سب بنایا۔
اُس نے کہا، آپ بھی آ جائیں۔
ماں بولی،"میں نے مہمانوں کے ساتھ کھا لیا تھا اب تو پانی پینے کی جگہ بھی نہیں، تم کھاؤ نا ٹھنڈا ہو جائے گا" یہ کہہ کر ماں پھر سے کچن میں چلی گئی۔
وہ روز منہ بنا کر کھانا کھاتا تھا لیکن آج پسند کا کھانا دیکھ کر جلدی جلدی سب چٹ کر گیا۔ برتن اٹھا کر وہ جیسے ہی کچن میں داخل ہوا تو اُس نے دیکھا کہ "دُنیا کی سب سے زیادہ جھوٹی عورت فرش پر بیٹھی کئی دنوں کے بھوکوں کی طرح باسی روٹی کو پانی میں ڈبو کر کھا رہی تھی۔"

ایک بڑے آدمی کی ڈائری سے چند سطریں، جسے دنیا تو چھوٹا آدمی کہتی ہے لیکن اسکی ماں تو ۔۔۔۔

بشکریہ فیس بک
 

ماہا عطا

محفلین
والدین کا کوئی نعم البدل نہیں۔۔۔اور ماں ہی ایک ایسی چھاں ہے جس کے مہرابان اور شفیق سائے تلے آکر ایسا لگتا ہےجیسے تپتی دوپہر میں سایہ مل گیا ہو۔۔۔
اور ماں کی دعائیں ہی انسان کو کامیاب بناتی ہیں۔۔۔
 
والدین کا کوئی نعم البدل نہیں۔۔۔ اور ماں ہی ایک ایسی چھاں ہے جس کے مہرابان اور شفیق سائے تلے آکر ایسا لگتا ہےجیسے تپتی دوپہر میں سایہ مل گیا ہو۔۔۔
اور ماں کی دعائیں ہی انسان کو کامیاب بناتی ہیں۔۔۔
صحیح کہا آپ نے
 

فرحت کیانی

لائبریرین
میری ماں دنیا کی سب سے عظیم عورت ہے مگر میرے بچوں کی ماں ؟
سید زبیر انکل ، واقعی یہ ایک حقیقت ہے کہ عموماً 'میری ماں' تو سب سے عظیم اور ایک بہترین خاتون ہوتی ہے لیکن 'میرے بچوں کی ماں' صرف اپنے بچوں کے نزدیک بہترین عورت ہے۔ اس کی باقی خوبیاں اکثر دوسروں کی نظروں سے اوجھل ہی رہتی ہیں۔
 

شوکت پرویز

محفلین
اک خوشی اولاد کی اور ماں کا دل قربان ہے
اک خوشی اولاد کی جینے کا ساماں ہو گئی
گود میں آغوش میں دامن میں ماں کے چھپ گیا
جب بھی کوئی مشکل آئی مجھ پہ، آساں ہو گئی
ہر گھڑی تکلیف کی ہنس کر گزاری اس طرح
اُس کے ذوقِ صبر کی دنیا ثنا خواں ہو گئی
والدہ نے اس طرح کی ہے ہماری پرورش
چشم بیناؤں کی ہر اک چشم حیراں ہو گئی
جب کبھی اولاد کو پایا کسی تکلیف میں
چشمِ مشفق اُمِّ شوکت اشک ریزاں ہو گئی
 

سید زبیر

محفلین
سید زبیر انکل ، واقعی یہ ایک حقیقت ہے کہ عموماً 'میری ماں' تو سب سے عظیم اور ایک بہترین خاتون ہوتی ہے لیکن 'میرے بچوں کی ماں' صرف اپنے بچوں کے نزدیک بہترین عورت ہے۔ اس کی باقی خوبیاں اکثر دوسروں کی نظروں سے اوجھل ہی رہتی ہیں۔
ارے میری بہن ! اس کو تو ہم شائد انسان ہی نہیں سمجھتے حتیٰ کہ وہ بیٹا بھی جس کی ہنسی پہ وہ ہنستی ہے اور جس کےچہرے کی پریشانی دیکھ کر وہ بے چین ہو جاتی ہے ۔ افسوس کہ جیدیت عورت سے امومت ہی چھین رہی ہے ۔ کتنا بڑا المیہ ہے اللہ ہمیں ہدائت عطا فرمائے (آمین)
 

نایاب

لائبریرین
یہ سچے جذبے آنکھیں نم کیوں کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
ماں تپتی دھوپ میں گھنی چھاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



میری ماں دنیا کی سب سے عظیم عورت ہے مگر میرے بچوں کی ماں ؟


جیسے میں اپنی ماں کو ٹھنڈی چھاؤں مانتے اس کی عظمت بیان کرنا فرض مانتا ہوں ۔۔
ویسے ہی میرے بچے اپنی ماں کو " ماواں ٹھنڈیاں چھاواں " قرار دیتے " ماں " کی عظمت کو سلام پیش کرتے رہیں گے ۔
ماں کی ممتا کو کبھی فنا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

mfdarvesh

محفلین
گرمیوں کی لُو سے بھری ایک دوپہر تھی جب وہ اسکول سے گھر لوٹا، گھر میں داخل ہوتے ہی اسے محسوس ہوا جیسے ماں کے چہرے کا رنگ ایکدم تبدیل ہو گیا۔
ماں اسے دیکھ کر مسکرائی اور کہا، جلدی سے کپڑے بدل لو میں کھانا لاتی ہوں۔
جب وہ بے دلی سے کپڑے بدل کر آیا تو سامنے سبزی یا دال کی جگہ کچھ اسکی پسندیدہ ڈش، ایک پیالی میں میٹھا اور گلاس میں ستّو موجود تھا۔
اُس نے پوچھا امی آج اتنا کچھ؟ خیریت تو ہے؟
ماں نے کہا، ہاں مہمان آئے تھے اس لئے یہ سب بنایا۔
اُس نے کہا، آپ بھی آ جائیں۔
ماں بولی،"میں نے مہمانوں کے ساتھ کھا لیا تھا اب تو پانی پینے کی جگہ بھی نہیں، تم کھاؤ نا ٹھنڈا ہو جائے گا" یہ کہہ کر ماں پھر سے کچن میں چلی گئی۔
وہ روز منہ بنا کر کھانا کھاتا تھا لیکن آج پسند کا کھانا دیکھ کر جلدی جلدی سب چٹ کر گیا۔ برتن اٹھا کر وہ جیسے ہی کچن میں داخل ہوا تو اُس نے دیکھا کہ "دُنیا کی سب سے زیادہ جھوٹی عورت فرش پر بیٹھی کئی دنوں کے بھوکوں کی طرح باسی روٹی کو پانی میں ڈبو کر کھا رہی تھی۔"

ایک بڑے آدمی کی ڈائری سے چند سطریں، جسے دنیا تو چھوٹا آدمی کہتی ہے لیکن اسکی ماں تو ۔۔۔ ۔

بشکریہ فیس بک

واہ واہ
میری ماں میری جنت
 

پردیسی

محفلین
زندہ ہے تو گاں ۔۔۔ مر گئی تو ماں
آسان تشریح ۔۔ 95 فیصد سے زائد لوگوں کو ماں کے مرنے بعد احساس ہوتا ہے کہ ہم ًاس کی خدمت نہ کرسکے۔بعد از مرگ (ماں کے) وہ چانگریں مار مار کر ماں کا رونا روتے ہیں
اور جب ماں زندہ ہوتی ہے تو کئی لوگوں کو اسے گالیاں دیتے بھی سنا گیا ہے ۔۔۔ میں اس کا چشم دید گواہ بھی ہوں
نوٹ ۔ گاں پنجابی زبان میں گائے کو کہتے ہیں ۔۔
 

S. H. Naqvi

محفلین
اور جب ماں زندہ ہوتی ہے تو کئی لوگوں کو اسے گالیاں دیتے بھی سنا گیا ہے ۔۔۔ میں اس کا چشم دید گواہ بھی ہوں
نوٹ ۔ گاں پنجابی زبان میں گائے کو کہتے ہیں ۔۔
ایسی مائیں بھی دیکھی ہیں جو اپنی اولاد کو وہ اہمیت نہیں دیتی جو دینی چاہیے، کبھی اسے کھلونا بنا کر (بچپن) اس سے دل بھر کر کھیلیں گی، کبھی اسے ہتھیا ر (نوجوانی)بنا کر خاوند اور دوسروں کے خلاف استعمال کریں گی اور کبھی اسے کمائی (جوانی)کا ایک نادر ذریعہ سمجھیں گی، ایسی ماؤں کے نزدیک اپنی ذات کے علاوہ کسی بھی چیز کی اہمیت تو ہوتی ہی نہیں ساری زندگی یہی ڈرامے چلتے ہیں اور بات چلے تو ماں کی ممتا، حقوق اور ماں کی عظمت کے للکارے شروع ہوجاتے ہیں۔:cool:
 
ایک نعتیہ شعر یاد آ رہا ہے کہ
پیار کرتا ہے نیازی یہ زمانہ تجھ سے
یہ میری ماں کی دعاؤں کا اثر لگتا ہے۔
اس خوبصورت تحریر کو دیکھ کر ہمیں ایک انگریزی نظم میری ماں یاد آگئی ۔۔جسکا مفہوم کچھ اس طرح تھا کہ جب میری ماں بوڑھی کمزور ہو جائے گی تو میں اپنے مضبوط،توانا بازؤں میں اسے سہارا دوں گی جسطرح اس نے بچپن میں مجھے آسرا دیا تھا ۔۔۔!
اللہ میاں سبکی ماؤں کو سلامت رکھیں انکی خدمت کر کے صحیح معنوں میں جنت حاصل کرنے کا موقع فراہم فرمائیں ۔آمین۔اثر پزیر تحریر پیش کرنے کا شکریہ نیرنگ خیال ۔جیتے رہیں ۔
 
Top