دنیا کا سب سے تنہا درخت

زیف سید نے 'رپورتاژ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 12, 2007

  1. زیف سید

    زیف سید محفلین

    مراسلے:
    224
    دنیا کا سب سے تنہا درخت

    اردو کے درویش صفت شاعر مجید امجدنے کہاتھا:

    اس جلتی دھوپ میں یہ گھنے سایہ دار پیڑ
    میں اپنی زندگی انہیں دے دوں جو بن پڑے

    لیکن شاید مجید امجد کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ دنیا میں اس شعر کا سب سے زیادہ حق دار افریقہ کے صحرائے اعظم میں واقع کیکر کا ایک درخت تھا۔

    یوں تو دنیا میں اور بھی مشہور درخت گزرے ہیں لیکن افریقہ کے لق و دق صحارا کے بیچوں بیچ ایستادہ اس کیکر کی وجہٴشہرت بڑی مختلف ہے۔ اور وہ یوں کہ اس درخت کوایک منفرد اعزاز حاصل تھا جو دنیا کے کسی اور درخت کے حصے میں نہیں آیا۔

    یہ درخت دنیا کا سب سےتنہا درخت تھا۔

    اس کے اردگرد چار سوکلومیٹر کے دائرے میں کوئی اور درخت واقع نہیں تھا، اور ہوتا بھی کیسے، کہ یہ خطہٴ زمین کسی بھی قسم کی زندگی کے لیے دنیا کےبے رحم ترین منطقوں میں سے ایک ہے۔ یہاں ساراسال سفّاک سورج کی کرنیں نیزے کی انّی کی طرح ریت کو نشانہ بناتی رہتی ہیں۔ اگر اس علاقے میں ہونے والی بارش کا پوچھیں تواس کی مقدار فارسی کے محاورے کے مطابق، بلبل کے ایک آنسوکے برابر ہے،یعنی سال میں ایک انچ کے لگ بھگ۔

    لیکن ایسی بات بھی نہیں ہے کہ یہ علاقہ ہمیشہ ہی سے زندگی کا بیری رہاہو۔ سینکڑوں سال قبل یہاں زرد پھولوں والےخاردارکیکر وں کاایک جھنڈپایاجاتاتھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین پانی اپنا دامن سمیٹتاچلا گیا، اور درخت ایک ایک کرکے سوکھتے چلے گئے۔

    سوائے اِس ایک سخت جان کے۔

    صحاراکے بے کراں ریتلے سمندر میں یہ چھتنارروشنی کے مینارکی طرح صحراسے گزرتے ہوئے عضالائی کاروانوں کوراستا دکھایا کرتا تھا۔ اس کی شفیق چھاؤں میں جھلسے ہوئے مسافرگھڑی دوگھڑی قیام کرتے تھے اور پھرآغادیز یا بِلما کی راہ لیتے تھے۔ ریت کے اس بے خدوخال آسمان پر یہ درخت قطبی ستارے کی مانند بھٹکے ہوئے راہیوں کو سمتوں کا تعین کروایا کرتاتھا۔

    اور رات کے وقت اس کے تنے سے ٹیک لگاکر طوراق قبیلے کے نمک کے سوداگر قہوے کی چسکیاں لیتے ہوئے صحراکے سینے پر پھیلے ہوئے آسیبوں کی کہانیاں سنایا کرتے تھے۔

    21مئی 1939ء کو فرانسیسی کمانڈر مشل لیسورد نے اس درخت کو دیکھ کر لکھا:

    ’’اس درخت کو دیکھ کر مشکل ہی سے یقین آتا ہے۔ آخر اس کے وجود کا راز کیاہے؟ اب تک یہ یہاں سے گزرنے والے اونٹوں کے لاتعداد کاروانوں کے قدموں تلے روندا کیوں نہیں گیا، آخراب تک کوئی بھٹکا ہوا اونٹ اس کے پتے کیوں نہیں چر گیا، اب تک کسی بدّو نے اس کی شاخیں کاٹ کر رات کی صحرائی خنکی سے بچنے کے لیے ہاتھ کیوں نہیں تاپے؟

    ’’اور اس سوال کا جواب یہ ہےکہ یہاں سے گزرنے والے کاروانوں کے دلوں میں اس کا احترام پایا جاتا ہے۔ وہ اسے متبرک درخت مانتے ہیں اس لیے کوئی اسے نقصان پہنچانے کا تصوربھی نہیں کرسکتا۔‘‘

    لیکن رفتہ رفتہ صحارابھی نئی ٹیکنالوجی سے روشناس ہونے لگا اور وہ وقت آگیا جب یہاں گھنٹیاں بجاتے اونٹوں کے قافلے کی جگہ گھرگھراتے ٹرکوں نے لے لی۔ اونٹ توخیر زیادہ سے زیادہ درخت کےپتے چرسکتے تھے، لیکن 1973ء میں ان ٹرکوں میں سے ایک نے درخت تو ٹکر مار دی۔

    کہا جاتا ہے کہ ڈرائیور اس وقت نشے میں دھت ہوگا۔ عین ممکن ہے، کیوں کہ چار سو کلومیٹر کے احاطے میں ٹرک کے گزرنے کے لیے اس درخت کے علاوہ بھی کافی گنجائش موجود تھی۔

    سخت جان درخت ماحول کی صعوبتیں توسالہاسال تک جھیلتا رہا تھا لیکن اس کی ستم آشنا جڑیں اس بے ہنگم حادثے کی تاب نہ لاسکیں اور یہ زمین پر آرہا۔

    درخت کی شفیق چھاؤں کے عادی قافلوں کے لیےدرخت کا سقوط ایک جاں کاہ سانحے سے کم نہیں تھا۔ انہوں نے اس کا شکستہ تنا اور سوکھی ہوئی شاخیں اٹھا کر نائجیریا کے قومی عجائب گھر میں رکھوادیں۔

    کچھ عرصے بعد ایک گمنام فن کار نے اسی مقام پر زنگ خوردہ پائپوں، ایندھن کے ڈبوں اور گاڑیوں کے بے کار پرزوں کو جوڑ کر ایک مجسمہ تعمیر کیا جووہاں سے گزرنے والوں کو صحارا کےاس یکتا درخت کی یاد دلاتا ہے۔

    ظاہر ہے کہ اس درخت کی موت کا خلا تو بھرنا ممکن نہیں ہے، تاہم یہ درخت ہمیں عالمی تناظرمیں ماحولیات کے سنگین بحران کی طرف سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے مطابق پچھلے دس برسوں میں ناعاقبت اندیش انسان اتنے درخت کاٹ چکا ہے کہ اگلے چودہ سال تک ہر برس کم ازکم ایک ارب درخت لگائے جائیں تب ہی اس نقصان کا کسی حد تک ازالہ ہوسکے گا۔

    اوردنیا کے ہر ہوش مند انسان کو یہ ازالہ کرنے پر بھرپورتوجہ دینی چاہیئے، ورنہ صحرا پھیلتا چلا جائے گا اور ایک دن یہ سرسبز و شاداب دنیا تمام کی تمام ریگستان بن جائے گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
    • زبردست زبردست × 6
  2. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,701
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    دلچسپ ۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بہت عمدہ زیف

    زبردست مضمون لکھا ہے اور بہت ہی اہم نکتہ کی طرف شاندار مضمون سے توجہ دلائی ہے۔ یہ مضمون شاید مجھے کبھی نہ بھولے۔

    اس مضمون کو وکیپیڈیا پر شامل کرنے کے بارے میں سوچا ہے کیونکہ یہ وہاں ضرور ہونا چاہیے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  4. زینب

    زینب محفلین

    مراسلے:
    11,211
    بہت دلچسپ۔۔۔۔۔
     
  5. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    بہت ہی عمدہ !
     
  6. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    بہت اچھا مضمون ملا :)
     
  7. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت خوب، لا جواب۔

    ۔
     
  8. زیف سید

    زیف سید محفلین

    مراسلے:
    224
    بہت شکریہ دوستو یہ مضمون پسند فرمانے کا۔

    فی الوقت غالباً دنیا کا سب سے اہم مسئلہ ماحولیات کا ہے۔ اگرچہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہمیں پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے، تاہم پھر بھی تمام دنیا کے انسان اجتماعی طور پر کوشش کریں تو شاید اس سیارے کی ڈوبتی ہوئی نیا کو بچایا جا سکے۔

    محب بھائی: بہت کم لوگوں نے اس مضمون کو پڑھا ہے، کیا اس کی وجہ مضمون کا سامنے کے صفحے پر نہ ہونا ہے؟

    آداب عرض ہے،

    زیف
     
  9. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جی بالکل صحیح سمجھے ہیں آپ ، مضمون جب تک پہلے صفحہ پر رہے گا تب تک لوگ اسے پڑھتے رہیں گے مگر جیسے ہی پہلے صفحہ سے اوجھل ہوگا لوگوں کے دماغ سے بھی اوجھل ہو جائے گا ورنہ اتنا دلچسپ مضمون کئی لوگ پڑھتے۔
     
  10. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,411
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    خوبصورت تحریر ہے۔
     
  11. حاتم راجپوت

    حاتم راجپوت لائبریرین

    مراسلے:
    1,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ٹینیرے کا تنہا درخت۔ ایک تصویر
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  12. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    18,068
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    دلچسپ اور معلوماتی۔ اعلیٰ
     
  13. حاتم راجپوت

    حاتم راجپوت لائبریرین

    مراسلے:
    1,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ٹینیرے کا درخت۔1939 میں
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  14. حاتم راجپوت

    حاتم راجپوت لائبریرین

    مراسلے:
    1,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ٹینیرے کا درخت 1967 میں۔
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  15. حاتم راجپوت

    حاتم راجپوت لائبریرین

    مراسلے:
    1,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ٹینیرے کا درخت 1970 میں۔
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  16. حاتم راجپوت

    حاتم راجپوت لائبریرین

    مراسلے:
    1,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ٹینیرے کا درخت 1973 میں سقوط کے وقت۔
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  17. حاتم راجپوت

    حاتم راجپوت لائبریرین

    مراسلے:
    1,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    1974 میں گورنمنٹ نے اس تنہا درخت کی یاد میں ایک یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا۔
    [​IMG]
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. حاتم راجپوت

    حاتم راجپوت لائبریرین

    مراسلے:
    1,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    نائجیریا کے عجائب گھر میں مردہ درخت کا باقی ماندہ وجود۔
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  19. حاتم راجپوت

    حاتم راجپوت لائبریرین

    مراسلے:
    1,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ٹینیرے کے اس تنہا درخت کے مقام پر اس کا یادگاری مجسمہ جو آج بھی اسی طرح موجود ہے۔
    [​IMG]
     
    • زبردست زبردست × 3
  20. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر