دل لگا لیتے ہیں اہلِ دل، وطن کوئی بھی ہو

نیرنگ خیال

لائبریرین
دل لگا لیتے ہیں اہلِ دل، وطن کوئی بھی ہو
پھول کو کھلنے سے مطلب ہے، چمن کوئی بھی ہو

صورتِ حالات ہی پر بات کرنی ہے اگر
پھر مخاطب ہو کوئی بھی، انجمن کوئی بھی ہو

ہے وہی لاحاصلی دستِ ہنر کی منتظر
آخرش سر پھوڑتا ہے، کوہکن کوئی بھی ہو

شاعری میں آج بھی ملتا ہے ناصؔر کا نشاں
ڈھونڈتے ہیں ہم اسے، بزمِ سخن کوئی بھی ہو

عادتیں اور حاجتیں باصؔر بدلتی ہیں کہاں
رقص بِن رہتا نہیں طاؤس، بَن کوئی بھی ہو

باصؔر سلطان کاظمی​
 

عمراعظم

محفلین
ہے وہی لاحاصلی دستِ ہنر کی منتظر
آخرش سر پھوڑتا ہے، کوہکن کوئی بھی ہو
واہ ! کیا بات ہے جناب نیرنگ خیال صاحب۔ بلکل ٹھیک جگہ ٹیگ کیا ہے آپ نے ۔ شراکت اور ٹیگنے کے لئے شکریہ۔
البتہ شاعر سے متفق ہوتے ہوئے بھی متفق نہیں ہو سکتا۔ شاید میرا معاملہ مختلف ہے۔ زندگی کا بڑا حصہ پردیس میں گزارنے کے بعد بھی دیس ہی سب سے پیارا رہا - تبدیلی (عمران خان والی نہیں) صرف اتنی ہوئی ہے:

میں نے اعصاب کو پتھر کا بنا رکھا ہے
ایک دل ہے جو بنتا نہیں پتھر جیسا

والسلام
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
ہے وہی لاحاصلی دستِ ہنر کی منتظر
آخرش سر پھوڑتا ہے، کوہکن کوئی بھی ہو
واہ ! کیا بات ہے جناب نیرنگ خیال صاحب۔ بلکل ٹھیک جگہ ٹیگ کیا ہے آپ نے ۔ شراکت اور ٹیگنے کے لئے شکریہ۔
البتہ شاعر سے متفق ہوتے ہوئے بھی متفق نہیں ہو سکتا۔ شاید میرا معاملہ مختلف ہے۔ زندگی کا بڑا حصہ پردیس میں گزارنے کے بعد بھی دیس ہی سب سے پیارا رہا - تبدیلی (عمران خان والی نہیں) صرف اتنی ہوئی ہے:

میں نے اعصاب کو پتھر کا بنا رکھا ہے
ایک دل ہے جو بنتا نہیں پتھر جیسا

والسلام
کیا کہنے سر۔۔۔۔ زبردست
بقول محسن بھوپالی
آئے دن آتش و آہن سے گزرتا ہے مگر
دل وہ کافر ہے کہ پتھر نہیں ہونے پاتا
 
Top