مومن دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھ۔مومن خاں مومنؔ

دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھ
پالا پڑا ہے ہم کو خدا کس بلا کے ساتھ

کب تک نبھائیے بت ناآشنا کے ساتھ
کیجے وفا کہاں تلک اس بے وفا کے ساتھ

یاد ہوائے یار نے کیا کیا نہ گل کھلائے
آئی چمن سے نکہت گل جب صبا کے ساتھ

مانگا کریں گے اب سے دعا ہجر یار کی
آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ

ہے کس کا انتظار کہ خواب عدم سے بھی
ہر بار چونک پڑتے ہیں آوازِ پا کے ساتھ

یا رب وصال یار میں کیونکر ہو زندگی
نکلی ہی جان جاتی ہے ہر ہر ادا کے ساتھ

اللہ رے سوز آتش غم بعد مرگ بھی
اٹھتے ہیں میری خاک سے شعلے ہوا کے ساتھ

سو زندگی نثار کروں ایسی موت پر
یوں روئے زار زار تو اہل عزا کے ساتھ

ہر دم عرق عرق نگہ بے حجاب ہے
کس نے نگاہ گرم سے دیکھا حیا کے ساتھ

مرنے کے بعد بھی وہی آوارگی رہی
افسوس جاں گئی نفس نارسا کے ساتھ

دست جنوں نے میرا گریباں سمجھ لیا
الجھا ہے ان سے شوخ کے بند قبا کے ساتھ

آتے ہی تیرے چل دیئے سب ورنہ یاس کا
کیسا ہجوم تھا دل حسرت فزا کے ساتھ

میں کینے سے بھی خوش ہوں کہ سب یہ تو کہتے ہیں
اس فتنہ گر کو لاگ ہے اس مبتلا کے ساتھ

اللہ ری گمرہی بت و بت خانہ چھوڑ کر
مومنؔ چلا ہے کعبے کو اک پارسا کے ساتھ

مومنؔ وہی غزل پڑھو شب جس سے بزم میں
آتی تھی لب پہ جان زہ و حبذا کے ساتھ
 

فرخ منظور

لائبریرین
بہت خوب انتخاب جوگی صاحب۔ مقطع کے دوسرے مصرع میں کچھ مسئلہ ہے۔ ہو سکے تو اسے دوبارہ دیکھ لیں۔ شکریہ!
 
انتخاب سراہنے کے لیے بہت شکریہ .

محترم !مصرع صحیح ہے لفظ ‛‛حبٌذا ‛‛کی تقطیع یوں ہو گی ۔
حب + ب + ذا ۔

یہ لفظ اردو میں بہت کم مستعمل ہے ۔
 
آخری تدوین:
میرے خیال سے فرخ بھائی کی مراد " جاں زدہ " لکھے جانے سے ہے۔
اردو میں فارسی کے برخلاف نون اور نون غنہ کی قراءت اور کتابت کی روش ذرا الگ ہے۔
 
Top