فراز دشتِ افسُردہ میں اک پھول کھلا ہے سو کہاں

نیرنگ خیال

لائبریرین
دشتِ افسُردہ میں اک پھول کھلا ہے سو کہاں
وہ کسی خوابِ گریزاں میں مِلا ہے سو کہاں

ہم نے مدت سے کوئی ہجو نہ واسوخت کہی
وہ سمجھتے ہیں ہمیں اُن سے گلہ ہے سو کہاں

ہم تیری بزم سے اُٹھے بھی تو خالی دامن
لوگ کہتے ہیں کہ ہر دُ کھ کا صلہ ہے سو کہاں

آنکھ اسی طور برستی ہے تو دل رستا ہے
یوں تو ہر زخم قرینے سے سِلا ہے سو کہاں

بارہا کوچۂ جاناں سے بھی ہو آئے ہیں
ہم نے مانا کہیں جنت بھی دلا ہے سو کہاں

جلوۂ دوست بھی دُھندلا گیا آخر کو فراؔز
ورنہ کہنے کو تو غم، دل کی جلا ہے سو کہاں​
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
دشتِ افسُردہ میں اک پھول کھلا ہے سو کہاں
وہ کسی خوابِ گریزاں میں مِلا ہے سو کہاں

ہم تیری بزم سے اُٹھے بھی تو خالی دامن
لوگ کہتے ہیں کہ ہر دُ کھ کا صلہ ہے سو کہاں

واہ
خوب انتخاب ہے
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
دشتِ افسُردہ میں اک پھول کھلا ہے سو کہاں
وہ کسی خوابِ گریزاں میں مِلا ہے سو کہاں

ہم تیری بزم سے اُٹھے بھی تو خالی دامن
لوگ کہتے ہیں کہ ہر دُ کھ کا صلہ ہے سو کہاں

واہ
خوب انتخاب ہے
شکریہ منے :)

واہ ۔۔۔
ہم تیری بزم سے اٹھے بھی تو خالی دامن ۔۔۔ واہ ۔۔۔
شکریہ عمر بھائی :)
 
Top