در سے غلام آپ کے سر کو اٹھائے کس طرح ادیب رائے پوری

در سے غلام آپ کے سر کو اٹھائے کس طرح​
چھوڑ کے آپ کا دیار جائیں تو جائیں کس طرح​
آنکھ کو گر منا لیا ، دل کو منائیں کس طرح
فصل بہار لٹ چکی پھول کھلائیں کس طرح
چوم کے خاک طیبہ ہم بھول گئے تھے سارے غم​
پھر سے غم حیات میں دل کو پھسائیں کس طرح​
آپ کے در کی حاضری اہل جنوں کی عید تھی
کعبہ دل کو چھوڑ کر عید منائیں کس طرح
لوٹ کے اب چلے غلام لیجیئےآخری سلام​
پھر یہ غلام آپ کے لوٹ کے آئیں کس طرح​
گمبند سبز دیکھ کر روح میں کیف سر بسر
صبروقرار اے ادیب روح میں لائیں کس طرح
 

مہ جبین

محفلین
آنکھ کو گر منا لیا ، دل کو منائیں کس طرح
فصل بہار لٹ چکی پھول کھلائیں کس طرح
میری پسندیدہ نعت شریف
ماشاءاللہ
سبحان اللہ بہت خوبصورت کلام ہے
جزاک اللہ عبدالحمید
 
Top