درد کی حد سے پرے۔۔۔ اختر الایمان

الف عین

لائبریرین
عہد وفا

یہی شاخ تم جس کے نیچے کسی کے لیے چشم نم ہو، یہاں اب سے کچھ سال پہلے مجھے ایک چھوٹی سی بچی ملی تھی جسے میں نے آغوش میں لے کے پوچھا تھا بیٹی: یہاں کیوں کھڑی رو رہی ہو، مجھے اپنے بوسیدہ آنچل میں پھولوں کے گہنے دکھا کر وہ کہنے لگی میرا ساتھی، ادھر، اس نے انگلی اٹھا کر بتایا، ادھر اس طرف ہی جدھر اونچے محلوں کے گنبد، ملوں کی سیہ چمنیاں، آسماں کی طرف سر اُٹھائے کھڑی ہیں، یہ کہہ کر گیا ہے کہ میں سونے چاندی کے گہنے ترے واسطے لینے جاتا ہوں رامی!
***
 

الف عین

لائبریرین
یہ دور

نہ وہ زمیں ہے، نہ وہ آسماں، نہ وہ شب و روز
کبھی سمٹتی کبھی پھیلتی ہیں غم کی حدود
ٹھہر گئی ہے اِک ایسے مقام پر دنیا
جہاں نہ رات نہ دن ہے نہ بے کلی نہ جمود
پکارتے ہیں ستارے سنبھالتی ہے زمیں
ہر ایک شئے سے گریزاں ابھی ہے میرا وجود
میں سوچتا ہوں کہیں زندگی نہ بن جائے
خزاں بدوش بہاریں، خمار زہر آلود!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں اسی طور سے گرداں ہوں زمانے میں، وہی
صبح ہے، شام ہے، گہنائی ہوئی راتیں ہیں
کوئی آغاز، نہ انجام، نہ منزل نہ سفر
سب وہی دوست ہیں، دہرائی ہوئی باتیں ہیں
چہرے اُترے ہوئے دن رات کی محنت کے سبب
سب وہی بغض و حسد، رشک و رقابت، شکوے
دام تزویر ہے، اُلجھاؤ کی سو گھاتیں ہیں
سب گلی کوچے وہی، لوگ وہی، موڑ وہی
یہ وہی سردی ہے، یہ گرمی، یہ برساتیں ہیں
زلف کی بات ہے یا زہر کہ سب ڈرتے ہیں
کوئی دل دار، نہ دل بر، نہ ملاقاتیں ہیں
کوئی بشاش ہنسی، جینے کی نوخیز اُمنگ
کچھ نہیں بس غم و اندوہ کی باراتیں ہیں
تنگ دامانی کا شکوہ ہے خدا سے ہر وقت
ہر مرض کے لیے نسخے میں مناجاتیں ہیں
جی اُلٹ جاتا ہے اس حبس مسلسل سے مرا
ذہن جاتا ہے کسی نازش خوبی کی طرف
یعنی وہ پرتو گل خانہ بر انداز چمن
ایک پروائی کا جھونکا سا گھنی بدلی سی
شاہد نکہت و انوار سحر، راحت من
رسم دلداری ہے اس سیم بدن کے دم سے
اور مرے دم سے ہے عشاق کا بے داغ چلن
۔۔۔۔۔۔۔

کس کے قدموں کی ہے یہ چاپ یقیناً ہے وہی
یہ یقیناً ہے وہی سرو چمن، بنت بہار
کوئی رُت آئے زمانہ نہیں بدلے گا اسے
جان من تم ہو؟ نہیں ! وہ لب و عارض وہ نکھار؟
نغمگی جسم کی، وہ لوچ سا نشہ سا مدام
ایک چلتا ہوا جادو سا نگاہوں کا قرار؟
سچ کہو تم ہی ہو؟ آتا نہیں آنکھوں کو یقیں؟
***
 

الف عین

لائبریرین
کوزہ گر

کہیں قومیت ہے کہیں ملک و ملّت کی زنجیر ہے
کہیں مذہبیت، کہیں حریت، ہر قدم پر عناں گیر ہے
اگر میں یہ پردہ ہٹا دوں جسے لفظ ماضی سے تعبیر کرتے رہے ہیں
اگر میں حدود زماں و مکاں سب مٹا دوں
اگر میں یہ دیواریں جتنی کھڑی ہیں گرا دوں
تو ہر قید اُٹھ جائے، یہ زندگی جو قفس ہے
یوں ہی دیکھتے دیکھتے تیلیاں سب بکھیر جائیں اس کی
اور انسان اپنے صحیح رُوپ میں ہر جگہ دے دکھائی
کسی غار کے منہ پہ بیٹھا، کسی سخت اُلجھن میں غلطاں
کہیں شعلہ دریافت کر نے کی خواہش میں پیچاں
کہیں زندگی کو نظام و تسلسل میں لانے کا خواہاں
جہاں کو حسیں دیکھنے کی تمنّا میں کوشاں
زمیں دور تک ایسے پھیلی ہوئی ہے
کشادہ کوئی خوانِ نعمت ہے جیسے
جہاں کوئی پہرہ نہیں کوئی تخصیص و تفریق انساں
یہ سب کی ہے سب کے لیے ہے یہاں سب ہیں مدعو!
میں اس شخص کو ڈھونڈتا ہوں جو بانیِ شر ہے
جو رشیوں، رسولوں کی محنت کو برباد کرتا رہا ہے
میں اس شخص کو ڈھونڈتا ہوں جو ہر دور میں بے محابا
نئے بھیس میں سامری بن کے آتا ہے اور موہتا ہے دلوں کو
اسے ڈھونڈتا ہوں میں جس نے ہر اِک خوان نعمت یہ پہرے لگائے
زمیں کو زمیں سے الگ کر دیا سیکڑوں نام دے کر
اجارہ کی بنیاد ڈالی، کیا جاری پروانۂ راہ داری
بجائے حسیں اعلیٰ قدروں کے تاسیس عالم
رکھی مصلحت پر، مفادات پر، خود پرستی پہ ساری
اور انسان کو خام اشیا میں تبدیل کر کے
بہت پہلے اس سے کہ انسان انسان بنتا
اسے ایک شطرنج کا چوبی مہرہ بنا کر
مقابل کھڑا کر دیا ایک کو دوسرے کے
کہاں ہے وہ قوت وہ ہستی جو یوں عصر کی روح بن کر
فضاؤں کو مسموم کرتی ہے لاشوں سے بھر دیتی ہے خندقوں کو
میں للکارتا ہوں اسے وہ اگر اتنا ہی جادو گر ہے
تو سورج کو مشرق کے بدلے نکالے کبھی آ کے مغرب سے اِک لمحہ بھر کو
ہواؤں کی تاثیر بدلے پہاڑوں کو لاوے میں تبدیل کر دے
سمندر سکھا دے، ہر اِک جلتے صحرا کو زرخیز میداں بنا دے
اصول مشیت بدل دے، زمین آسمانوں کے سب سلسلے توڑ ڈالے
مگر میں اسے کیسے للکار سکتا ہوں، یہ تو خدا ہے

حیات و نمو کی وہ قوت، تغیر جو خود سامری ہے
یہ وہ کوزہ گر ہے جو خود مسخ کرتا ہے چہرے بنا کر
یہ وہ کوزہ گر ہے اسی ایک مٹّی کو ہر بار متھ کر
بنا کر نئے ظرف رکھتا ہے کچھ دیر شیشیوں کے پیچھے سجا کر
انھیں خود ہی پھر توڑ دیتا ہے سب ظرف کوزے قوانین اخلاق سارے
جہاں اتنی شکلیں بنائی بگاڑی ہیں یہ زندگی کا نیا بت بھی اِک دن
فراموش گاری کے اس ڈھیر میں پھینک دے گا جہاں ایسی کتنی ہی چیزیں پڑی ہیں
کہ یہ چاک تو چل رہا ہے یوں ہی آفرینش سے گردش میں ہے اور رہے گا!
***
 

الف عین

لائبریرین
بے تعلقی
شام ہوتی ہے سحر ہوتی ہے یہ وقت رواں
جو کبھی سنگ گراں بن کے مرے سر پہ گرا
راہ میں آیا کبھی میری ہمالہ بن کر
جو کبھی عقدہ بنا ایسا کہ حل ہی نہ ہوا
اشک بن کر مری آنکھوں سے کبھی ٹپکا ہے
جو کبھی خونِ جگر بن کے مژہ پر آیا
آج بے واسطہ یوں گزرا چلا جاتا ہے
جیسے میں کشمکش زیست میں شامل ہی نہیں!
***
 

الف عین

لائبریرین
بلاوا
نگر نگر کے دیس دیس کے پربت، ٹیلے اور بیاباں
ڈھونڈ رہے ہیں اب تک مجھ کو، کھیل رہے ہیں میرے ارماں
میرے سپنے، میرے آنسو، ان کی چھینر چھاؤں میں جیسے
دھول میں بیٹھے کھیل رہے ہوں بالک باپ سے روٹھے روٹھے

دن کے اُجالے، سانجھ کی لالی، رات کے اندھیارے سے کوئی
مجھ کو آوازیں دیتا ہے، آؤ، آؤ، آؤ، آؤ
میری روح کی جوالا مجھ کو پھونک رہی ہے دھیرے دھیرے
میری آگ بھڑک اُٹھی ہے، کوئی بجھاؤ، کوئی بجھاؤ

میں بھٹکا بھٹکا پھرتا ہوں کھوج میں تیری جس نے مجھ کو
کتنی بار پکارا لیکن ڈھونڈ نہ پایا اب تک تجھ کو
میرے سنگی میرے ساتھی تیرے کارن چھوٹ گئے ہیں
تیرے کارن جگ سے میرے کتنے ناتے ٹوٹ گئے ہیں
میں ہوں ایسا پات ہوا میں پیڑ سے جو ٹوٹے اور سوچے
دھرتی میری گور ہے یا گھر، یہ نیلا آکاش جو سرپر
پھیلا پھیلا ہے اور اس کے سورج چاند ستارے مل کر
میرا دیپ جلا بھی دیں گے، یا سب کے سب رُوپ دکھا کر
ایک اِک کر کے کھو جائیں گے، جیسے میرے آنسو اکثر
پلکوں پر تھرتھرا کر تاریکی میں کھو جاتے ہیں
جیسے بالک مانگ مانگ کر نئے کھلونے سو جاتے ہیں!

***
 

الف عین

لائبریرین
بنتِ لمحات

تمھارے لہجے میں جو گرمی و حلاوت ہے
اسے بھلا سا کوئی نام دو وفا کی جگہ
غنیم نور کا حملہ کہو اندھیروں پر
دیار درد میں آمد کہو مسیحا کی
رواں دواں ہوئے خوشبو کے قافلے ہر سو
خلائے صبح میں گونجی سحر کی شہنائی
یہ ایک کہرہ سا، یہ دھند سی جو چھائی ہے
اس التہاب میں، اس سرمگیں اُجالے میں
سوا تمھارے مجھے کچھ نظر نہیں آتا
حیات نام ہے یادوں کا، تلخ اور شیریں
بھلا کسی نے کبھی رنگ و بو کو پکڑا ہے
شفق کو قید میں رکھا،صبا کو بند کیا
ہر ایک لمحہ گریزاں ہے جیسے دشمن ہے
نہ تم ملو گی نہ میں، ہم بھی دونوں لمحے ہیں
وہ لمحے جا کے جو واپس کبھی نہیں آتے!
***
 

الف عین

لائبریرین
اذیت پرست

میں بظاہر جو بہت سادہ ہوں بے حس نظر آتا ہوں تمھیں
ایسا دریا ہوں جہاں سطح کے نچےہ چپ چاپ
موجیں شوریدہ ہیں، طوفان اٹھا کرتے ہیں
ٹھہرا پانی ہوں، مگر اس میں بھنور پڑتے ہیں
زخم سب اپنے چھپائے ہیں، ہنسی کے پیچھے
صرف اس واسطے شانوں پہ ردائے تہذیب
ڈالے رہتا ہوں کہ حیواں نہ کہے کوئی مجھے
وہ ثقافت جسے کہتے ہیں، اثاثہ، ورنہ
سالہا سال کی محنت ہے جو انسانوں کی
میرے اِک فعل سے غارت نہ کہیں ہو جائے
ورنہ تم سامنے آتی ہو تو سر سے پا تک
دوڑ جاتی ہے کبھی آگ سی تیزاب سا اک شعلہ سا
تم کو معلوم ہے اس دور میں میرے دن رات
صرف اس واسطے با معنی ہیں تم سامنے ہو
تم کو معلوم ہے یہ گردش ایام مجھے
کیوں بھلی لگتی ہے، کیوں دیکھ کے تم کو آنکھیں
مسکرا اٹھتی ہیں، میں شاد نظر آتا ہوں
میں جو اس پھیلی ہوئی دنیا میں یوں جیتا تھا
جیسے یہ بستی نہیں، شہر ہے اک لاشوں کا
جس میں انسان نہیں مردے ہیں کفن پہنے ہوئے
اور ان مردوں میں لب سوختہ، میں بھی ہوں کہیں
تم نے احساس دلایا نہیں، میں لاش نہیں
اپنی گفتار کی گرمی سے حرارت بخشی
منجمد خون کو دوڑا دیا شریانوں میں
کھینچ لائیں مجھے، تنہائی کی دنیا سے یہاں
میں الف لیلیٰ کا کردار نہیں ہوں کوئی
تم بھی افسانوی محبوبہ نہیں اور نہ تھیں
پھر روایاتی ستم کیوں کیا تم نے مجھ پر؟
خود ہی وارفتہ ہوئیں، کھینچ گئیں خود ہی ایسے
جیسے میں واقعی اِک لاش ہوں چلتی پھرتی
اب تمھیں دیکھ کے میں دل سے دعا کرتا ہوں
لاش بن جاؤں میں، سچ مچ ہی، یہ بیگانہ روی
یہ نیا طرزِ وفا، تم نے جو سیکھا ہے ابھی
کچے شیشے کی طرح ٹوٹ کے ریزہ ہو جائے
اور تم مجھ سے ہر اک خوف کو ٹھکراتے ہوئے
چیخ کر ایسے لپٹ جاؤ، کلیجہ پھٹ جائے!
***
 

الف عین

لائبریرین
باز آمد
۔۔۔ ایک مونتاج


تتلیاں ناچتی ہیں
پھول سے پھول پہ یوں جاتی ہے
جیسے اک بات ہے جو
کان مں کہنی ہے، خاموشی سے
اور ہر پھول ہنسا پڑتا ہے سن کر یہ بات!
دھُوپ میں تیزی نہیں
ایسے آتا ہے ہر اِک جھونکا ہَوا کا جیسے
دست شفقت ہے بڑی عمر کی محبوبہ کا
اور مرے شانوں کو اس طرح ہلا جاتا ہے
جیسے میں نیند میں ہوں
عورتیں چرخے لئے بیٹھی ہیں
کچھ کپاس اوٹتی ہیں
کچھ سلائی کے کسی کام میں مصروف ہیں یوں
جیسے یہ کام ہے دراصل ہر اِک شے کی اساس
ایک سے ایک چہل کرتی ہے
کوئی کہتی ہے مری چوڑیاں کھنکیں تو کھنکاری مری ساس
کوئی کہتی ہے بھری چاندنی آتی نہیں راس
رات کی بات سناتی ہے کوئی ہنس ہنس کر
بات کی بات سناتی ہے کوئی ہنس ہنس کر
لذت وصل ہے آزار کوئی کہتی ہے
میں تو بن جاتی ہوں بیمار کوئی کہتی ہے
میں بھی گھس آتا ہوں اس شیش محل میں دیکھو
سب ہنسی روک کے کہتی ہیں نکالو اس کو

اِک پرندہ کسی اِک پیڑ کی ٹہنی پہ چہکتا ہے کہیں
ایک گاتا ہوا یوں جاتا ہے دھرتی سے فلک کی جانب
پوری قوت سے کوئی گیند اچھالے جیسے
اِک پھدکتا ہے سر شاخ پہ جس طرح کوئی
آمد فصل بہاری کی خوشی میں ناچے
گوندنی بوجھ سے اپنے ہی جھکی پڑتی ہے
نازنیں جیسے ہے کوئی یہ بھری محفل میں
اور کل ہاتھ ہوئے ہیں پلےا
کوئلیں کو کتی ہیں
جامنیں پکی ہیں آموں پہ بہار آئی ہے
ارغنوں بجتا ہے یکجائی کا
نیم کے پیڑوں میں، جھولے ہیں جدھر دیکھو ادھر
سانولی گاتی ہیں سب لڑکیاں آواز ملا کر ہر سو
اور اس آواز سے گونج اٹھی ہے بستی ساری

میں کبھی ایک کبھی دوسرے جھولے کے قریں جاتا ہوں
ایک ہی کم ہے وہی چہرہ نہیں
آخرش پوچھ ہی لیتا ہوں کسی سے بڑھ کر
کیوں حبیبہ نہیں آئی اب تک؟
کھکھلا پڑتی ہیں سب لڑکیاں سن کر یہ نام
لو یہ سپنے میں ہیں، اِک کہتی ہے
باؤلی سپنا نہیں شہر سے آئے ہیں ابھی
دوسری ٹوکتی ہے
بات سے بات نکل چلتی ہے
ٹھاٹھ کی آئی تھی بارات چمیلی نے کہا
بینڈ باجا بھی تھا، دیپا بولی
اور دُلہن پہ ہوا کتنا بکھیر
کچھ نہ کچھ کہتی رہیں سب ہی مگر میں نے صرف
اتنا پوچھا وہ ندی بہتی ہے اب بھی کہ نہیں
جس سے وابستہ ہیں ہم اور یہ بستی ساری؟
کیوں نہںس بہتی چمیلی نے کہا
اور وہ برگد کا گھنا پیڑ کنارے اس کے؟
وہ بھی قائم ہے ابھی تک یوں ہی
وعدہ کر کے جو حبیبہ نہیں آتی تھی کبھی
آنکھیں دھوتا تھا ندی میں جا کر
اور برگد کی گھنی چھاؤں میں سو جاتا تھا

ماہ و سال آ کے چلے جاتے ہیں
فصل پک جاتی ہے کٹ جاتی ہے
کوئی روتا نہیں اس موقع پر
حلقہ در حلقہ نہ آہن کو تپا کر ڈھالیں
کوئی زنجیر نہ ہو!
زیست در زیست کا یہ سلسلہ باقی نہ رہے!

بھیڑ ہے بچوں کی چھوٹی سی گلی میں دیکھو
ایک نے گیند جو پھینکی تو لگی آ کے مجھے
میں نے جا پکڑا اسے، دیکھی ہوئی صورت تھی
کس کا ہے میں نے کسی سے پوچھا
یہ حبیبہ کا ہے، رمضانی قصائی بولا
بھولی صورت پہ ہنسی آ گئی اس کی مجھ کو
وہ بھی ہنسنے لگا، ہم دونوں یوں ہی ہنستے رہے
دیر تک ہنستے رہے

تتلیاں ناچتی ہیں
پھول سے پھول پہ یوں جاتی ہیں
جیسے اِک بات ہے جو
کان میں کہنی ہے خاموشی سے
اور ہر پھول ہنسا پڑتا ہے سن کر یہ بات!
***
 

الف عین

لائبریرین
کہاں تک​

ہر نئی راہ سے میں پوچھتا ہوں
اے مری صبح سفر شام حیات
تو مرا ساتھ کہاں تک دے گی؟

کیا ٹھہر جائے گی اِک موڑ پہ کچھ گام کے بعد
اور میں شام و سحر، جیسے ہیں گردش میں یوں ہی
سرگرانی بھی رہی چلتا رہوں گا پھر بھی
اے مری راہ نجات و ظلمات
تو مرا ساتھ کہاں تک دے گی؟

عظمت صبح اندھیروں نے نگل لی ہے مگر
قصر امید میں پھیلا ہے اُجالا پھر بھی
چاند گہنا گیا افکار کا، حالات زبوں، دہر ملول
گرد اس کے ہے مگر نور کا ہالہ پھر بھی
کون سے موڑ پہ چھوڑے گی مجھے کچھ تو بتا
اے مری گرمیِ جذبات کہاں تک جاؤں
میں ترے ساتھ کہاں تک جاؤں
تو مرا ساتھ کہاں تک دے گی؟
***
 

الف عین

لائبریرین
نشاۃ ثانیہ


موسموں کے بدلنے کا منظر تو پیچھے کہیں رہ گیا
کھیت کی مینڈ پر چھاؤں میں شیشموں کی
بھرے کنڈ میں!
جامنوں کے گھنے جھنڈ میں!
کوئلوں اور پپیہوں کی آواز کے شور میں
اُمڈے جذبات کے زور میں
وقت یوں بہہ گیا جیسے آنسو کا قطرہ تھا بے مایہ سا
قہقہہ تھا جو پھولوں کی خوشبو میں گھل مل گیا
کتنے کردار ہیں سامنے
ہنستے روتے ہوئے
زندگی کی کشاکش میں اُلجھے ہوئے
عشق کرتے ہوئے آہیں بھرتے ہوئے
جان راحت پہ ہر آن مرتے ہوئے
بے خبر ساری دنیا سے اِک دوسرے کو سنبھالے ہوئے
ہاتھوں کو چومتے بوسے آنکھوں کو دیتے ہوئے
بہتے جاتے ہیں موج رواں کی طرح
ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے
ایک دیکھی ہوئی فلم کا ایسا منظر ہے یہ
جس کے کردار اب گویا افسانہ ہیں
فلم بوسیدہ اتنی ہے چلتے ہوئے ٹوٹ جاتی ہے پھر جوڑتا ہوں اسے
جوڑ کر پھر چلاتا ہوں خوش ہوتا ہوں
گاہے روتا ہوں میں
اِک بہت خوب صورت سی رنگین تصویر ہے
کتنے لمحات میرے بھی اس فلم میں بند ہیں
وہ جو دھندلا سا چہرہ نظر آ رہا تھا تمھیں
پیڑ کی آڑ میں
وہ، جہاں سادہ کپڑوں میں
اِک مہ جبیں ہنس رہی ہے کھڑی
اس کے بائیں طرف میں ہوں وہ!
اتنی دلکش کہانی ہے جی چاہتا ہے کہ پھر سے بنا لوں
ہر وہ چہرے جو اس فلم کی جان ہیں
وہ کہاں ہیں؟
انھیں کس طرح؟
کیسے لاؤں گا میں؟
***
 

الف عین

لائبریرین
ڈاسنہ اسٹیشن کا مسافر

کون سا اسٹیشن ہے؟
’ڈاسنہ ہے صاحب جی
آپ کو اُترنا ہے؟‘
’جی نہیں، نہیں ‘ لیکن
ڈاسنہ تو تھا ہی وہ
میرے ساتھ قیصر تھی
یہ بڑی بڑی آنکھیں
اِک تلاش میں کھوئی
رات بھر نہیں سوئی
جب میں اس کو پہنچانے
اس اُجاڑ بستی میں
ساتھ لے کے آیا تھا
میں نے ان سے پھر پوچھا
آپ مستقل شاید
ڈاسنہ میں رہتے ہیں؟
’’جی، یہاں پہ کچھ میری
سوت کی دُکانیں ہیں
کچھ طعام خانے ہیں‘‘
میں سنا کیا بیٹھا
بولتا رہا وہ شخص
’’کچھ زمین داری ہے
میرے باپ دادا نے
کچھ مکان چھوڑے تھے
ان کو بیچ کر میں نے
کاروبار کھولا ہے
اس حقیر بستی میں
کون آ کے رہتا تھا
لیکن اب یہی بستی
بمبئی ہے دلّی ہے
قیمتیں زمینوں کی
اتنی بڑھ گئی صاحب
’’جیسے خواب کی باتیں‘‘
اِک زمین ہی کیا ہے
کھانے پینے کی چیزیں
عام جینے کی چزایں
بھاؤ دس گنے ہیں اب
بولتا رہا وہ شخص
’’اس قدر گرانی ہے
آگ لگ گئی جیسے
آسمان حد ہے بس‘‘
میں نے چونک کر پوچھا
آسماں محل تھا اِک
سیدوں کی بستی میں
’’آسماں ہی ہیں صاحب
اب محل کہاں ہو گا؟
ہنس پڑا یہ کہہ کر وہ
میرے ذہن میں اس کی
بات پے بہ پے گونجی
’’اب محل کہاں ہو گا‘‘
اس دیار میں شاید
قیصر اب نہیں رہتی
وہ بڑی بڑی آنکھیں
اب نہ دیکھ پاؤں گا
ملک کا یہ بٹوارا
لے گیا کہاں اس کو
ڈیوڑھی کا سنّاٹا
اور ہماری سرگوشی
مجھ سے کتنے چھوٹے ہو‘‘
میں نے کچھ کہا تھا پھر
اس نے کچھ کہا تھا پھر
ہے رقم کہاں وہ سب
درد کی گراں جانی
میری شعلہ افشانی
اس کی جلوہ سامانی
ہے رقم کہاں وہ اب
کرب زیست سب میرا
گفتگو کا ڈھب میرا
اس کا ہاتھ ہاتھوں میں
لے کے جب میں کہتا تھا
اب چھڑاؤ تو جانوں
رسم بے وفائی کو
آج معتبر مانوں
اس کو لے کے با ہوں میں
جھک کے اس کے چہرے پر
بھینچ کر کہا تھا یہ
بولو کیسے نکلو گی
میری دسترس سے تم
میرے اس قفس سے تم
بھورے بادلوں کا دل
دور اُڑتا جاتا ہے
پیڑ پر کہیں بیٹھا
اِک پرند گاتا ہے
’چل چل‘ اِک گلہری کی
کان میں کھٹکتی ہے
ریل چلنے لگتی ہے
راہ کے درختوں کی
چھاؤں ڈھلنے لگتی ہے
’مجھ سے کتنے چھوٹے ہو‘
اور مری گراں گوشی
ڈیوڑھی کا سنّاٹا
اور ہماری سرگوشی
ہے رقم کہاں وہ سب؟
دور اس پرندے نے
اپنا گیت دُہرایا
’آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا
گم کیا ہوا پایا‘‘
***
 

الف عین

لائبریرین
درد کی حد سے پرے
درد کی حد سے پرے کوئی نہیں جا سکتا
درد کی حد سے پرے سوچ لو تم کچھ بھی نہیں
ایک سنّاٹا ہے، احساس کی ادراک کی موت
یہ کرہ، گھومتی پھرتی یہ ستم کوش زمیں
خاک اور آب کا اِک گولا ہے بے رونق سا
آؤ چھپ جائیں، چلو موت کے ڈر سے بھاگیں
تم مری بانہوں میں، میں زلفوں میں چھپ جاؤں یہیں
اور اس درد کا اظہار کریں
زندگی جس سے عبارت ہے تمام
درد کی حد سے پرے سوچ لو تم کچھ بھی نہیں
گرمیِ عشق، یہ بوسوں کی حرارت، یہ سد مھ
جو پسینہ میں ہے یہ جھرجھری جو تم نے ابھی
سینہ کو چھونے سے لی، سب یہ سمو لےنم کی بھوک
جسم کے ٹوٹنے اِک نشہ میں گھل جانے کا رس
رنگ میں، نغموں میں اور لمس میں ڈھلنے کی ہوس
سال، صدیاں یہ قرن، ماہ، یہ لمحے، یہ نفس
کیف، بہجت، خوشی، تسکین، مسرت سب کچھ
سب یہ اس واسطے ہے درد ہے ساتھی ہر وقت
درد پیمانہ ہے ہر چیز کا اس دنیا میں
زیست اِک واہمہ ہے ذات کے ہونے کا گماں
درد کی حد سے پرے کچھ بھی نہیں جس کا نشاں
درد کی حد سے پرے سوچ لو تم کچھ بھی نہیں
ایک سنّاٹا ہے احساس کی ادراک کی موت
درد کی حد سے پرے کچھ بھی نہیں جان کہیں
درد کی حد سے پرے کوئی گیا بھی تو نہیں!
***
 

الف عین

لائبریرین
اتفاق
دیار غیر میں کوئی جہاں نہ اپنا ہو
شدید کرب کی گھڑیاں گزار چکنے پر
کچھ اتفاق ہو ایسا کہ ایک شام کہیں
کسی اِک ایسی جگہ سے ہو یوں ہی میرا گزر
جہاں ہجوم گریزاں میں تم نظر آ جاؤ
اور ایک ایک کو حیرت سے دیکھتا رہ جائے!
***
 

الف عین

لائبریرین
چیخو
اتنا چلاّؤ کہ اِک شور سے بھر جائے فضا
گونج الفاظ کی کانوں میں دھُواں سا بن جائے
ایک دھنی روئی سی بن جائیں عقائد سارے
فلسفے، مذہب و اخلاق، سیاست، سارے
ایسے گتھ جائیں ہر اِک اپنی حقیقت کھودے
ایسا اِک شور بپا کر دو کوئی بات بھی واضح نہ رہے
ذرہ جب ٹوٹا تھا تخلیق زمیں سے پہلے
ابتری پھیلی تھی، واضح نہ تھی کچھ بھی، ہر شے
اِک دھنی روئی کی مانند اُڑی پھرتی تھی
خود کو کم مایہ نہ سمجھو اٹھو توڑو یہ سکوت
پھر نئے دور کا آغاز ہو تاریکی سے!
***
 

الف عین

لائبریرین
لغزش
جب حنائی انگلیوں کی جنبشیں آتی ہیں یاد
جذب کر لیتا ہوں آنکھوں میں لہو کی بوند سی
اب مگر ماضی کی ہر شئے پر اندھیرا چھا گیا
اور ہی را ہوں سے گزری جا رہی ہے زندگی
ذہن میں ابھرے ہوئے ہیں چند بیجاں سے نقوش
اور ان میں بھی نہیں ہے کوئی ربط باہمی
یہ بھیانک خواب کیوں مغلوب کرتے ہیں مجھے
دودھیا راتیں سحر کے جھٹپٹے میں کھو گئیں
اور تیری نرم بانہیں، مجھ سے اب ناآشنا
اور ہی گردن کے حلقے میں لپٹ کر سو گئیں
مسکرا اٹھتا ہوں اپنی سادگی پر میں کبھی
کس قدر تیزی سے یہ باتیں پرائی ہو گئیں!
***
 

الف عین

لائبریرین
پرانی فصیل

مری تنہائیاں مانوس ہیں تاریک راتوں سے
مرے رخنوں میں ہے اُلجھا ہوا اوقات کا دامن
مرے سائے میں حال و ماضی رُک کر سانس لیتے ہیں
زمانہ جب گزرتا ہے بدل لیتا ہے پیراہن
یہاں سرگوشیاں کرتی ہے ویرانی سے ویرانی
فسردہ شمع امید و تمنّا لو نہیں دیتی
یہاں کی تیرہ بختی پر کوئی رونے نہیں آتا
یہاں جو چیز ہے ساکن، کوئی کروٹ نہیں لیتی
یہاں اسرار ہیں، سرگوشیاں ہیں، بے نیازی ہے
یہاں مفلوج تر ہیں تیز تر بازو ہواؤں کے
یہاں بھٹکی ہوئی روحیں کبھی سر جوڑ لیتی ہیں
یہاں پر دفن ہیں گزری ہوئی تہذیب کے نقشے
***
 

الف عین

لائبریرین
پس منظر

کس کی یاد چمک اٹھی ہے، دھندلے خاکے ہوئے اُجاگر
یوں ہی چند پرانی قبریں کھود رہا ہوں تنہا بیٹھا
کہیں کسی کا ماس نہ ہڈی، کہیں کسی کا رُوپ نہ چھایا
کچھ کتبوں پر دھندلے دھندلے نام کھدے ہیں میں جیون بھر
ان کتبوں، ان قبروں ہی کو اپنے من کا بھید بنا کر
مستقبل اور حال کو چھوڑے، دُکھ سکھ سب میں لیے پھرا ہوں!
ماضی کی گھنگھور گھٹا میں چپکا بیٹھا سوچ رہا ہوں
کس کی یاد چمک اُٹھی ہے دھندلے خاکے ہوئے اُجاگر؟
بیٹھا قبریں کھود رہا ہوں، ہوک سی بن کر ایک اِک مورت
درد سا بن کر ایک اِک سایا، جاگ رہے ہیں، دور کہیں سے
آوازیں سی کچھ آتی ہیں، گزرے تھے اِک بار یہیں سے
***
 

الف عین

لائبریرین
اعتراف

چند لمحے جو ترے ساتھ گزارے میں نے
ان کی یاد ان کا تصور ابھی رخشندہ نہیں
تو ابھی چھائی نہیں مجھ پر، مری دنیا پر
خود ترا حسن مرے ذہن میں تابندہ نہیں
کیا خبر کل مجھے یکسر ہی بدل ڈالے تو
یوں ترا حسن، مرا شوق بھی پایندہ نہیں
دیکھ میں ہوش میں ہوں اے غم گیتی کے شعور
تیرے ملنے کی تمنّا لیے آنکھوں میں کہاں
اپنے ظلمت کدے اے جان، سنوارے میں نے
غم چشیدہ مرے جذبات میں جذبہ پنہاں
اب کہاں پہلے گزاریں کئی راتیں میں نے
جن میں افسانے کہے چاند سے افسانے سنے
اب کہاں، پہلے برس گزرے، کسی مہوش کی
چاہ میں کتنے ہی ہنگام سحر گیت بنے
اب مگر تاب کہاں مجھ میں یہ انگور کی بیل
خون چاہے گی رگ و پے میں سما جائے گی
 

الف عین

لائبریرین
عمر گریزاں کے نام


عمر یوں مجھ سے گریزاں ہے کہ ہر گام پہ میں
اس کے دامن سے لپٹتا ہوں مناتا ہوں اسے
واسطہ دیتا ہوں محرومی و ناکامی کا
داستاں آبلہ پائی کی سناتا ہوں اسے
خواب ادھورے ہیں جو دُہراتا ہوں ان خوابوں کو
زخم پنہاں ہیں جو وہ زخم دکھاتا ہوں اسے
اس سے کہتا ہوں تمنّا کے لب و لہجے میں
اے مری جان مری لیلیِ تابندہ جبیں
سنتا ہوں تو ہے پری پیکر و فرخندہ جمال
سنتا ہوں تو ہے مہ و مہر سے بھی بڑھ کے حسیں
یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں کہ ابھی تک میں نے
جاننا تجھ کو کجا پاس سے دیکھا بھی نہیں
صبح اُٹھ جاتا ہوں جب مرغ اذاں دیتے ہیں
اور روٹی کے تعاقب میں نکل جاتا ہوں
شام کو ڈھور پلٹتے ہیں چراگاہوں سے جب
شب گزاری کے لیے میں بھی پلٹ آتا ہوں
یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں مرا سرمایہ ابھی
خواب ہی خواب ہیں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
ملتوی کرتا رہا کل پہ تری دید کو میں
اور کرتا رہا اپنے لیے ہموار زمیں
آج لیتا ہوں جواں سوختہ راتوں کا حساب
جن کو چھوڑ آیا ہوں ماضی کے دھندلکے میں کہیں
صرف نقصان نظر آتا ہے اس سودے میں
قطرہ قطرہ جو کریں جمع تو دریا بن جائے
ذرّہ ذرّہ جو بہم کرتا تو صحرا ہوتا
اپنی نادانی سے انجام سے غافل ہو کر
میں نے دن رات کیے جمع خسارہ بیٹھا
جاننا تجھ کو کجا پاس سے دیکھا بھی نہیں
اے مری جان مری لیلیِ تابندہ جبیں
یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں مرا سرمایہ ابھی
خواب ہی خواب ہیں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں!

***
 

الف عین

لائبریرین
یادیں
لو وہ چاہ شب سے نکلا، پچھلے پہر پیلا مہتاب
ذہن نے کھولی رُکتے ماضی کی پارینہ کتاب
یادوں کے بے معنی دفتر، خوابوں کے افسردہ شہاب
سب کے سب خاموش زباں سے کہتے ہیں اے خانہ خراب
گزری بات صدی یا پل ہو،گزری بات ہے نقش بر آب
یہ روداد ہے اپنے سفر کی اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
ساری ہے بے ربط کہانی دھُندلے دھُندلے ہیں اور اق
کہاں ہیں وہ سب جن سے جب تھی پل بھر کی دوری بھی شاق
کہیں کوئی ناسور نہیں، گو حائل ہے برسوں کا فراق
وہ بھی ہم کو رو بیٹھے ہیں، چلو ہوا قرضہ بے باق
کھلی تو آخر بات اثر کی اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
***
 
Top