درد بن کب ہو اثر نالۂ شب گیر کے بیچ ۔ قائم چاند پوری

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 21, 2010

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,826
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    غزل

    درد بن کب ہو اثر نالۂ شب گیر کے بیچ
    کارگر کیا ہو وہ، پیکاں نہیں جس تیر کے بیچ

    بند اسباب میں ہرگز نہ رہیں وارستہ
    کب ٹھہرتی ہے صدا حلقۂ زنجیر کے بیچ

    تشنہ لب مر گئے کتنے ہی ترے کوچے میں
    ظاہرا آب نہ تھی تجھ دمِ شمشیر کے بیچ

    ناصحا! پوچھ نہ احوالِ خموشی مجھ سے
    ہے یہ وہ بات کہ آتی نہیں تقریر کے بیچ

    دیر آنا بھی ہے اک لطف، نہ یاں تک ظالم
    جی ہی جاتا رہے اک شخص کا تاخیر کے بیچ

    بس کر گریۂ روزانہ تری بار ہے اب
    کچھ ہوا آ کے اثر نالۂ شب گیر کے بیچ

    کر تردّد بھی توُ قائم جو ملے دولتِ فقر
    جس کو تو ڈھونڈے ہے، کیا خاک ہے اکسیر کے بیچ

    (قائم چاند پوری)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    شکریہ سخنور صاحب شریک محفل کرنے کے لیئے۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,826
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    پسند فرمانے کے لئے شکریہ کاشفی صاحب!
     
  4. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,025
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    شکریہ فرخ صاحب خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,826
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    پسندیدگی کا شکریہ وارث صاحب!
     
  6. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    قائم چاند پوری کی خوبصورت غزل انتخاب کی ہے آپ نے۔ اس انتخاب میں ہمیں شریک کرنے پر بہت شکریہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,826
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    حضور آپ کا بھی پسند فرمانے کے لئے بہت شکریہ! :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر