خیالِ یار کے جب گھیرتے ہیں سائے مجھے

عاطف ملک

محفلین
مزید تک بندیوں کے ساتھ حاضر ہوں۔
محترم اساتذہ اور محفلین سے گزارش ہے کہ اس جسارت کو برداشت کریں اور ہو سکے تو اپنی قیمتی رائے سے نوازیں۔


خیالِ یار کے جب گھیرتے ہیں سائے مجھے
جہاں لگے ہے کوئی اجنبی سرائے مجھے

لباس اس کی محبت کا اوڑھے رہتا ہوں
کہ سرد و گرمِ زمانہ سے وہ بچائے مجھے

مکینِ دشت ہوں میں اور حجاز گھر میرا
عجم کی رونقِ گل مطلقاً نہ بھائے مجھے

سرِ نگہ بھی وہی ہوں، پسِ نگہ بھی وہی

منافقت کا لبادہ نہ راس آئے مجھے

ادھر سے نالہِ کشمیر بھی سنائی دے
اُدھر سے قبلہِ اول بھی ہے بلائے مجھے

لبوں پہ امتِ احمد کے اک ہی نعرہ ہو
مرا خدا کبھی ایسا بھی دن دکھائے مجھے

میں ارتقا کے نظریے کو کر ہی دوں بَیَّن
بجا کے ڈگڈگی شیطاں اگر نچائے مجھے

میں عینِ خام بدل دوں گا اپنا طرزِ سخن
جو آپ "کامل و اکمل" ہو وہ سکھائے مجھے
 
آخری تدوین:

عاطف ملک

محفلین
بہت شکریہ لاریب جی!
نوازش ہے آپ کی نور!
نہایت شکریہ عدنان بھیا!
انتہائی لاجواب
تعریف کیلئے الفاظ نہیں ہیں والله
جزاک اللہ بدر بھیا :)
دعاؤں میں یاد رکھا کریں :)
بہت شکریہ عمر بھائی!
ذرہ نوازی ہے آپ کی محترم!
بہت شکریہ:)
 
Top