فارسی شاعری خَبَرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد - غزلِ امیر خسرو مع ترجمہ

محمد وارث نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 26, 2012

  1. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,924
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    خَبَرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد
    سرِ من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد

    مجھے خبر ملی ہے کہ اے میرے محبوب تو آج رات آئے گا، میرا سر اس راہ پر قربان جس راہ پر تو سوار ہو کر آئے گا۔

    ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ بر کف
    بہ اُمید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد

    جنگل کے تمام ہرنوں نے اپنے سر اتار کر اپنے ہاتھوں میں رکھ لیے ہیں اس امید پر کہ کسی روز تو شکار کیلیے آئے گا۔

    کششے کہ عشق دارد نہ گزاردت بدینساں
    بجنازہ گر نیائی بہ مزار خواہی آمد

    عشق میں جو کشش ہے وہ تجھے اسطرح زندگی بسر کرنے نہیں دے گی، تو اگر میرے جنازے پر نہیں آیا تو مزار پر ضرور آئے گا۔

    بہ لبم رسیدہ جانم تو بیا کہ زندہ مانم
    پس ازاں کہ من نمانم بہ چہ کار خواہی آمد

    میری جان ہونٹوں پر آ گئی ہے، تُو آجا کہ میں زندہ رہوں۔ اسکے بعد جبکہ میں زندہ نہ رہوں گا تو پھر تو کس کام کیلیے آئے گا۔

    بیک آمدن ربودی دل و دین و جانِ خسرو
    چہ شَوَد اگر بدینساں دو سہ بار خواہی آمد

    تیرے ایک بار آنے نے خسرو کے دل و دین و جان سب چھین لیے ہیں، کیا ہوگا اگر تو اسی طرح دو تین بار آئے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 11
    • زبردست زبردست × 7
  2. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    11,015
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    بہت عمدہ کلام جناب!
    ترجمہ پیش کرنے پر صد شکریہ قبول کیجیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  3. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,836
    جھنڈا:
    Pakistan
    سبحان اللہ ۔۔ فارسی ادب کے کیا کہنے ۔۔۔
    اقبال سے متاثر ہو کر ایک فارسی کامصرع اردو کے ساتھ ملا کر میں نے بھی لکھا تھا، آج تک معلوم نہیں یہ درست ہے یا غلط:
    در دو جہاں عزیز تر است آرزوئے دل
    کس سے کہیں کیسا ہے جو اس کا خیال ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,924
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    شکریہ خلیل صاحب اور شاہد صاحب۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,068
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    فارسی مصرعہ غلط ہے.
    ایسے درست ہو جائے گا
    از دو جہاں عزیز تر است آرزوئے دل
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,068
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    ویسے یہ غزل گنجور پر بالکل مختلف لکهی ہے.
     
  7. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,924
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    برصغیر میں جو کلام صدیوں سے رائج ہے وہ اس کلام سے کافی مختلف ہے جو گنجور پر ہے، سب سے بڑی مثال حافظ کی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,924
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    ویسے مجھے اتنی مختلف بھی نہیں لگی، کچھ اشعار تو بعینہ ایسے ہی ہیں۔ ایک آدھ میں ایک آدھ لفظ کا فرق ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,068
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    لیکن حافظ تو ایرانی ہے تهے. خسرو کا تو چلو ہو سکتا ہے اہل فارس نے خود بدل دیا ہو. کیونکہ وہ مستند نہیں مانتے اہل ہند کو. کیا اہل ہند بهی ایسا ہی کرتے تهے.
     
  10. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,924
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بدلنے والی بات نہیں ہے، یہ کوئی شعوری کوشش کسی کی نہیں ہے۔ دراصل برصغیر میں فارسی کلام صدیوں سے قوال گاتے رہے ہیں، سو سوچا جا سکتا ہے کہ ان قوالیوں میں جو مشہور و معروف غزلیں ہیں ان میں تبدیلی واقع ہوئی ہوگی، پھر لوگ تضمینیں بھی کہتے تھے وہ بھی سب خلط ملط ہو جاتی تھیں ایسے موقعوں پر۔ ذاتی طور پر میں حافظ کے ایرانی نسخوں کو ترجیح دیتا ہوں انہوں نے واقعی ان پر بہت محنت کی ہے بہت تحقیق کی ہے۔ لیکن برصٖغیر کے شعرا یا سبک ہندی کے شعرا پر ایرانیوں نے اتنا کام نہیں کیا، اس طرح کی تحقیق نہیں کی، سو یہاں کے شعرا کا جو کلام یہاں رایج ہے وہی بہتر ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  11. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,924
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    پھر ایک اور وجہ بھی ہو سکتی ہے، جیسے کسی زمانے میں کہا جاتا تھا کہ ہر اچھا شعر میر کا ہوتا ہے، سو ایسے ہی ہر اچھا شعر ہو سکتا ہے یہاں حافظ کے نام لگا دیا گیا ہو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  12. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,836
    جھنڈا:
    Pakistan
    بہت شکریہ۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,101
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بہت خوب!

    سدا بہار کلام ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. فاخر

    فاخر محفلین

    مراسلے:
    1,036
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Brooding


    خبرم رسید امشب که نگار خواهی آمد

    سر من فدای راهی که سوار خواهی آمد

    به لبم رسیده جانم، تو بیا که زنده مانم

    پس از آن که من نمانم، به چه کار خواهی آمد

    غم و قصه فراقت بکشد چنان که دانم

    اگرم چو بخت روزی به کنار خواهی آمد

    منم و دلی و آهی ره تو درون این دل

    مرو ایمن اندر این ره که فگار خواهی آمد

    همه آهوان صحرا سر خود گرفته بر کف

    به امید آن که روزی به شکار خواهی آمد

    کششی که عشق دارد نگذاردت بدینسان

    به جنازه گر نیایی، به مزار خواهی آمد

    به یک آمدن ربودی، دل و دین و جان خسرو

    چه شود اگر بدین سان دو سه بار خواهی آم

    (بشکریہ گنجور فارسی ویب سائٹ )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    16,948
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے خبر ملی ہے کہ اے میرے محبوب تو آج رات آئے گا
    سرِ من فدائے راہی کہ سوار خواہی آمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا سر اُس راہ پہ قرباں،جس راہ پر تجھ سا سوار آئے گا


    ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ بر کف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنگل کے تمام ہرنوں نے اپنے سراُتار کر ہتھیلیوں پر رکھ لئے
    بہ امید آنکہ روزی بہ شکار خواہی آمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس امید پرکہ کسی روز تُو شکار کے لئے آئے گا

    بہ لبم رسیدہ جانم تو بیا کہ زندہ مانم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری جان لبوں تک آ پہنچی ہے، تُو آ کہ میں زندہ رہ سکوں
    پس ازاں کہ من نہ مانم،بہ چہ کار خواہی آمد ۔۔۔ ۔۔۔ بعد اس کے کہ میں زندہ نہ رہوں،تو پھر تُو کس لئے آئے گا

    کششِ کہ عشق دارد،نہ گزاردت بدینساں ۔۔۔۔۔ عشق کی کشش تجھے اس طرح زندہ رہنے نہ دے گی
    بہ جنازہ گر نیائی، بہ مزار خواہی آمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے جنازہ پر نہیں آیا تو مزار پر ضرور آئے گا

    بہ یک آمدن ربودی،دل و دین و جانِ خسرو ۔۔۔۔ تیرے ایک بار آنے نے خسرو کے دل،دین و جان سب چھین لئے ہیں
    چہ شود اگر بدینساں دو سہ بار خواہی آمد ۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہو گا اگر تُو دو تین بار اسی طرح آ گیا

    (امیر خسرو)
     

اس صفحے کی تشہیر