ذوالقرنین

لائبریرین
گزرے وقتوں کی بات ہے، ایک غریب آدمی اپنی غربت سے تنگ آ کر سفر پر روانہ ہوا تاکہ کچھ کما کر اپنا گزارہ کر سکتے۔ سفر کرتے کرتے وہ ایک ملک میں پہنچ گیا۔ راستے میں اسے ایک حکیم مل گیا جو راستے کے قریب ڈیرہ جمائے بیٹھا تھا۔ اس نے سوچا یہی سے کام شروع کرتے ہیں۔ اللہ کا نام لے کر اس حکیم کے پاس پہنچ گیا۔ اور اس کے ساتھ کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ حکیم صاحب کو بھی دوائی وغیرہ پیسنے کے لیے کسی بندے کی ضرورت تھی۔ اس نے اسے کام پر رکھ لیا۔ اس آدمی نے دیکھا کہ حکیم صاحب کے پاس جڑی بوٹیوں کے نام پر صرف ہلیلہ تھا۔ جنہیں پیس کر، سفوف بنا کر، وہ پڑیوں کی شکل میں مریضوں کو دیتا تھا۔ جو بھی مریض آتا تو اسے تین دن کی خوراک دے کر کہتا کہ ایک پڑی رات کو گرم پانی کے ساتھ اور ایک صبح کو ٹھنڈے پانی کے ساتھ استعمال کرنا۔چند مہینے حکیم کے پاس کام کرنے کے بعد جب اس کے پاس کچھ پیسے جمع ہوئے تو حکیم صاحب سے اجازت چاہی۔ حکیم نے اجازت دے دی۔
اسے کوئی اور کام تو آتا نہ تھا، اس لیے ان پیسوں سے پیسنے کا سامان اور ڈھیر سارا ہلیلہ لے کر کسی اور جگہ ڈیرہ جمایا۔ اور حکیم صاحب کی طرح ہلیلہ پیس کر بیچنے لگا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ بادشاہ کی بیٹی بہت سخت بیمار ہوئی۔ شاہی حکیموں نے بہت کوشش کیے لیکن شہزادی کی طبیعت بحال نہ ہوئی اور دن بدن خراب ہوتی چلی گئی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہر وقت بے ہوشی کی حالت میں رہنے لگی۔ بادشاہ شاہی حکیموں کی ناکامی دیکھ کر ملک کے دوسرے نامی گرامی حکیموں کو علاج کرنے کے لیے بلایا لیکن کسی کا بھی علاج کارگر نہ ہوا۔ آخر کار بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو شہزادی کا علاج کرے گا تو اسے آدھی سلطنت کا وارث بنانے کے ساتھ ساتھ شہزادی سے اس کی شادی کرائی جائےگی۔ ملک بھر سے اور ملک سے باہر کے حکیموں نے بھی بہت کوشش کیے لیکن شہزادی کا علاج کرنے میں ناکام رہے۔
ایک دن سپاہی بازار میں گھوم رہے تھے کہ ان کی نظر اس نئے حکیم پر پڑیں۔ اسے پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے گئے۔ حکیم صاحب کے اوسان تو پہلے ہی خطا ہو چکے تھے جب پتا چلا کہ شہزادی کا علاج کرنا ہے تو رہے سہے اوسان بھی خطا ہو گئے۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق، جیب سے پڑیاں نکال کر تاکید کیا کہ تین دن تک ایک پڑی رات کو گرم پانی اور ایک دن کو ٹھنڈے پانی کے ساتھ پلوانا۔ اس نے جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن بادشاہ نے اسے اجازت نہیں دیا۔ اللہ کی قدرت ان پڑیوں سے شہزادی کی طبیعت بحال ہونے لگی اور دو دن میں ہی شہزادی ہوش میں آ گئی۔ بادشاہ اس نئے حکیم سے بہت خوش ہوا۔ ملک بھر میں منادی کرادی کہ ہفتے بعد شہزادی کی شادی اس نئے حکیم کے ساتھ ہوگی۔ حکیم صاحب شادی کے بعد بڑے ٹھاٹ باٹ کے ساتھ رہنے لگا۔
ایک دن بادشاہ کو اطلاع موصول ہوئی کہ پڑوسی ملک کا بادشاہ حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ چونکہ اس ملک کے بادشاہ کی فوج بڑی تھی اس لیے بادشاہ پریشان ہوگیا۔ ایک دن وہ بھی آیا کہ پڑوسی ملک کا بادشاہ اپنے فوج کے ساتھ پہنچ گیا اور بادشاہ کو جنگ کرنے یا ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا۔ بادشاہ کے مشیر وغیرہ بادشاہ کو صلح کرنے کا مشورہ دینے لگے اور کہنے لگے کہ سپاہی بھی جنگ کرنے سے کترا رہے ہیں۔ بادشاہ بڑا پریشان تھا۔ ایک دن اس نے حکیم کو بلایا اور اس سے مشورہ مانگا کہ کیا تمہارے پاس کوئی ایسی دوائی ہے جس سے سپاہیوں کا حوصلہ بلند ہو جائے۔ حکیم صاحب کے پاس سوائے ہلیلہ کے اور کیا تھا۔ سارے سپاہیوں کو پڑیاں دے کر رات کو گرم اور صبح کو ٹھنڈے پانی کے ساتھ پینے کا مشورہ دیا۔
پڑوسی ملک کے بادشاہ کو اس ملک کے فوج کی تعداد کا پتا نہیں تھا۔ اس نے جاسوس بھیجے تاکہ فوج کی تعداد کا صحیح اندازہ لگا سکے۔ رات کو ہلیلہ استعمال کرنے کے بعد بیچارے سپاہیوں کو دست لگ گئے۔ ہر سپاہی پانچ پانچ، چھ چھ بار حاجت کے لیے جانے لگے۔ جاسوس دور سے یہی سمجھتے رہے کہ بہت سارے سپاہی ہیں۔ بادشاہ کو جا کر اطلاع دئیے کہ اس ملک کے بادشاہ کی فوج ان کی فوج سے بھی بہت بڑا ہے۔ صبح تک سپاہی ہلکان ہو گئے۔ صبح پڑوسی ملک کے بادشاہ آئے اور بادشاہ کو جنگ بندی اور خیر سگالی کا پیغام دیا۔ بادشاہ بہت خوش ہوا اور سمجھنے لگے کہ حکیم صاحب کی دوا کام کر گئی۔ اب تو حکیم کے وارے نیارے ہو گئے۔
بادشاہ نے ایک بہت بڑے جشن کا اہتمام کیا، جس میں پڑوسی ملک کا بادشاہ بھی شامل تھا۔ بادشاہ نے دوسرے بادشاہ اور اپنے مصاحبوں کے سامنے حکیم صاحب کی تعریف کرنے لگا۔ سارے لوگ حکیم صاحب کے "کارنامے" سن کر اس کی تعریف کرنے لگے۔ حکیم صاحب شرمندگی محسوس کرنے لگا۔ برداشت نہ کر سکا اور ایک دم اٹھ کر بھاگنے لگا۔ دونوں بادشاہ اور دوسرے لوگ بھی کچھ نہ سمجھتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگے۔ جیسے ہی وہ لوگ اس کمرے سے باہر نکلے تو کمرہ دھڑام سے نیچے گر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بادشاہ نے اپنا تاج حکیم صاحب کے سر پر رکھا اور آگے سب کو پتا ہے کہ سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔
 

ذوالقرنین

لائبریرین
1507625.GIF
(یہ قصہ صبح بابا جان نے گفتگو کے دوران مجھے سنایا۔ بہت پسند آیا اور اب ہلیلہ لگا کر محفل میں شیئر کر رہا ہوں)
1507625.GIF
 

نایاب

لائبریرین
یہ ہلیلہ کیا ہے بھائی
سنا ہے کہ اسے " ہڑ " بھی کہتے ہیں ۔ بہت اونچا درخت ہوتا ہے اس کا اور اس پر لمبوتری شکل کے چھوٹے چھوٹے پھل لگتے ہیں ۔
زمانہ قدیم سے حکمت میں مستعمل ہے ۔ ہلیلہ بلیلہ اور آملہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی ان پر ہی گزارہ تھا ّعلاج کے لیئے حضرت انساں کا ۔۔۔۔۔۔۔
 
سنا ہے کہ اسے " ہڑ " بھی کہتے ہیں ۔ بہت اونچا درخت ہوتا ہے اس کا اور اس پر لمبوتری شکل کے چھوٹے چھوٹے پھل لگتے ہیں ۔
زمانہ قدیم سے حکمت میں مستعمل ہے ۔ ہلیلہ بلیلہ اور آملہ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ کبھی ان پر ہی گزارہ تھا ّعلاج کے لیئے حضرت انساں کا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
ہریڑ یا ہڑیڑ بھی کہتے ہیں شاید کڑوی سی، مربہ بھی اچھا ہوتا ہے اس کا۔
 
Top