خود اپنی گواہی کا بھروسہ بھی نہیں کچھ--نوید صادق

نوید صادق

محفلین
خود اپنی گواہی کا بھروسہ بھی نہیں کچھ
اور اپنے حریفوں سے تقاضا بھی نہیں کچھ

خود توڑ دئے اپنی انا کے در و دیوار
سایہ تو کجا سائے کا جھگڑا بھی نہیں کچھ

صحرا میں بھلی گزری، اکیلا تھا تو کیا تھا
لوگوں میں کسی بات کا چرچا بھی نہیں کچھ

اب آ کے کھلا، کوئی نہیں، کچھ بھی نہیں تھا
اور اس پہ کسی غم کا مداوا بھی نہیں کچھ

اب یوں بھی نہیں ہے کہ میں بیکار گیا ہوں
اب یوں بھی نہیں ہے کہ کمایا بھی نہیں کچھ

دیکھو تو کسی غم کی تلافی بھی نہیں کی
سوچو تو کسی زخم سے پایا بھی نہیں کچھ


وہ شکل مرے دھیان میں آئی بھی تھی سو بار
وہ رنگ مری روح میں اُترا بھی نہیں کچھ

ویسے مرے اطوار برے تھے کہ بھلے تھے
لوگوں سے کبھی میں نے چھپایا بھی نہیں کچھ

جس گھر کو مرے نام سے نسبت کی سند ہے
اس گھر میں مرے نام کا رکھا بھی نہیں کچھ

احباب مرے حق میں دعا کرتے ہیں، یعنی
دنیا میں ابھی آیا تھا، دیکھا بھی نہیں کچھ

(نوید صادق)

احباب کی آراء کا انتظار رہے گا۔
 

الف عین

لائبریرین
بہت خوب نوید، بطور خاص:
اب یوں بھی نہیں ہے کہ میں بیکار گیا ہوں
اب یوں بھی نہیں ہے کہ کمایا بھی نہیں کچھ

دیکھو تو کسی غم کی تلافی بھی نہیں کی
سوچو تو کسی زخم سے پایا بھی نہیں کچھ
۔۔۔
جس گھر کو مرے نام سے نسبت کی سند ہے
اس گھر میں مرے نام کا رکھا بھی نہیں کچھ
لیکن ایک ذرا تنقیدی نوعیت کی رائے۔
خود توڑ دئے اپنی انا کے در و دیوار
سایہ تو کجا سائے کا جھگڑا بھی نہیں کچھ
اس کا پہلا مصرع جیسا ہے، اس کی ٹکر کا دوسرا مصرع نہیں۔ بلکہ ’سائے کا جھگڑا‘ لگتا ہے کہ محض قافیے کی خانہ پری ہے۔ اس مصرع کو بدلنے کا سوچیں۔
 

مغزل

محفلین
خود اپنی گواہی کا بھروسہ بھی نہیں کچھ
اور اپنے حریفوں سے تقاضا بھی نہیں کچھ

صحرا میں بھلی گزری، اکیلا تھا تو کیا تھا
لوگوں میں کسی بات کا چرچا بھی نہیں کچھ

اب یوں بھی نہیں ہے کہ میں بیکار گیا ہوں
اب یوں بھی نہیں ہے کہ کمایا بھی نہیں کچھ

دیکھو تو کسی غم کی تلافی بھی نہیں کی
سوچو تو کسی زخم سے پایا بھی نہیں کچھ

وہ شکل مرے دھیان میں آئی بھی تھی سو بار
وہ رنگ مری روح میں اُترا بھی نہیں کچھ

ویسے مرے اطوار برے تھے کہ بھلے تھے
لوگوں سے کبھی میں نے چھپایا بھی نہیں کچھ

جس گھر کو مرے نام سے نسبت کی سند ہے
اس گھر میں مرے نام کا رکھا بھی نہیں کچھ

احباب مرے حق میں دعا کرتے ہیں، یعنی
دنیا میں ابھی آیا تھا، دیکھا بھی نہیں کچھ

(نوید صادق)

احباب کی آراء کا انتظار رہے گا۔

محترم نوید صادق صاحب
آداب وسلامِ مسنون
غالباً مجھے آپ سے پہلی بار شرفِ کلام حاصل ہورہا ہے اور
وہ بھی ایک قادر الکلام شاعر کے حوالے سے، ماشا اللہ کمال مصرع بنتے ہیں ۔
بزم کی وساطت سے آپ کی خوبصورت غزل نظر نوازی ہوئی۔
مطلع پڑھ کر چونک سا گیا ۔۔ کہ اس قدر بھرپور ملطع کم ہی پڑھنے
سننے کو ملتے ہیں عمومی رجحان مطلع برائے مطلع کا ہے۔
جوں جوں غزل پڑھتا گیا آپ کی اس صنفِ سخن پر قدرت کا معترف ہوتا گیا۔
خارجی عوامل اور داخلی کیفیات پر مبنی اتنی بھرپور اور مرصع غزل پر مبارکباد
اور امید کے آئندہ بھی اپنے کلام سے کسبِ فیض کا موقع فراہم کیجئے گا۔

’’ خود توڑ دئے اپنی انا کے در و دیوار
سایہ تو کجا سائے کا جھگڑا بھی نہیں کچھ ‘‘

کے بارے میں مجھے الف عین صاحب کی رائے سے اتفاق ہے،
مصرع ثانی پہلے مصرعے کو گہنارہا ہے۔

طالبِ دعا
کوہساروں کی وادی ایبٹ آباد سے ہجرتی
اسرِ ظلمتِ شہر کراچی
م۔م۔مغل
 

محمد وارث

لائبریرین
واہ واہ لا جواب، بہت اچھی غزل ہے نوید صاحب، بہت داد قبول کیجیئے! کیا لا جواب اشعار ہیں:


خود اپنی گواہی کا بھروسہ بھی نہیں کچھ
اور اپنے حریفوں سے تقاضا بھی نہیں کچھ

صحرا میں بھلی گزری، اکیلا تھا تو کیا تھا
لوگوں میں کسی بات کا چرچا بھی نہیں کچھ

وہ شکل مرے دھیان میں آئی بھی تھی سو بار
وہ رنگ مری روح میں اُترا بھی نہیں کچھ

جس گھر کو مرے نام سے نسبت کی سند ہے
اس گھر میں مرے نام کا رکھا بھی نہیں کچھ


لا جواب!
 

محسن حجازی

محفلین
خود اپنی گواہی کا بھروسہ بھی نہیں کچھ
اور اپنے حریفوں سے تقاضا بھی نہیں کچھ


سبحان اللہ!

خود توڑ دئے اپنی انا کے در و دیوار
سایہ تو کجا سائے کا جھگڑا بھی نہیں کچھ

بہت ہی خوب! نہ رہے بانس نہ بجے بانسری

صحرا میں بھلی گزری، اکیلا تھا تو کیا تھا
لوگوں میں کسی بات کا چرچا بھی نہیں کچھ


یہ بھی خوب کہی کہ ہم خود بہت عرصہ صحرانشین رہے۔

وہ شکل مرے دھیان میں آئی بھی تھی سو بار
وہ رنگ مری روح میں اُترا بھی نہیں کچھ


ارے واہ! یہ بھی خوب تجربے کی بات ہے۔۔۔ کیا لطیف نکتہ ہے۔

ویسے مرے اطوار برے تھے کہ بھلے تھے
لوگوں سے کبھی میں نے چھپایا بھی نہیں کچھ


بہت خوب! یہ عادت بھی ہم میں بدرجہ اتم موجود ہے۔

جس گھر کو مرے نام سے نسبت کی سند ہے
اس گھر میں مرے نام کا رکھا بھی نہیں کچھ

ارے واہ۔۔۔ کیا کہنے حضرت!
اور یہ کہ

اب یوں بھی نہیں ہے کہ میں بیکار گیا ہوں
اب یوں بھی نہیں ہے کہ کمایا بھی نہیں کچھ


بہت ہی خوب! کیا کہنے!

بہت ہی خوب! تاہم آپ کے دوست آصف شفیع کی خاطر تبصرہ جات کو یک سطری رکھتے ہوئے ہم کسی قسم کی جرح سے باز رہتےہیں :grin:
 

زرقا مفتی

محفلین
اب یوں بھی نہیں ہے کہ میں بیکار گیا ہوں
اب یوں بھی نہیں ہے کہ کمایا بھی نہیں کچھ


جس گھر کو مرے نام سے نسبت کی سند ہے
اس گھر میں مرے نام کا رکھا بھی نہیں کچھ

بہت خوب
 

جیا راؤ

محفلین
بہت خوبصورت غزل ہے نوید صاحب

جس گھر کو مرے نام سے نسبت کی سند ہے
اس گھر میں مرے نام کا رکھا بھی نہیں کچھ

مطلع اور اس شعر کی تو کیا ہی بات ہے !
 

ابوشامل

محفلین
اب یوں بھی نہیں ہے کہ میں بیکار گیا ہوں
اب یوں بھی نہیں ہے کہ کمایا بھی نہیں کچھ

دیکھو تو کسی غم کی تلافی بھی نہیں کی
سوچو تو کسی زخم سے پایا بھی نہیں کچھ


ویسے مرے اطوار برے تھے کہ بھلے تھے
لوگوں سے کبھی میں نے چھپایا بھی نہیں کچھ

جس گھر کو مرے نام سے نسبت کی سند ہے
اس گھر میں مرے نام کا رکھا بھی نہیں کچھ

احباب مرے حق میں دعا کرتے ہیں، یعنی
دنیا میں ابھی آیا تھا، دیکھا بھی نہیں کچھ
بہت اعلٰی نوید صاحب، کمال شاعری ہے ۔
 

محمداحمد

لائبریرین
خود اپنی گواہی کا بھروسہ بھی نہیں کچھ
اور اپنے حریفوں سے تقاضا بھی نہیں کچھ

دیکھو تو کسی غم کی تلافی بھی نہیں کی
سوچو تو کسی زخم سے پایا بھی نہیں کچھ

وہ شکل مرے دھیان میں آئی بھی تھی سو بار
وہ رنگ مری روح میں اُترا بھی نہیں کچھ

ویسے مرے اطوار برے تھے کہ بھلے تھے
لوگوں سے کبھی میں نے چھپایا بھی نہیں کچھ

احباب مرے حق میں دعا کرتے ہیں، یعنی
دنیا میں ابھی آیا تھا، دیکھا بھی نہیں کچھ


(نوید صادق)

نوید صادق صاحب!

ماشاء اللہ بہت اچھی غزل ہے تمام اشعار ہی خوب ہیں۔ مجھے خاص طور پر درج بالا اشعار بہت اچھے لگے۔ ناچیز کی جانب سے نذرانہ ء تحسین پیشِ خدمت ہے قبول کیجے۔

مخلص
محمد احمد

 

ایم اے راجا

محفلین
خود اپنی گواہی کا بھروسہ بھی نہیں کچھ
اور اپنے حریفوں سے تقاضا بھی نہیں کچھ

صحرا میں بھلی گزری، اکیلا تھا تو کیا تھا
لوگوں میں کسی بات کا چرچا بھی نہیں کچھ

اب یوں بھی نہیں ہے کہ میں بیکار گیا ہوں
اب یوں بھی نہیں ہے کہ کمایا بھی نہیں کچھ

ویسے مرے اطوار برے تھے کہ بھلے تھے
لوگوں سے کبھی میں نے چھپایا بھی نہیں کچھ

وہ شکل مرے دھیان میں آئی بھی تھی سو بار
وہ رنگ مری روح میں اُترا بھی نہیں کچھ

جس گھر کو مرے نام سے نسبت کی سند ہے
اس گھر میں مرے نام کا رکھا بھی نہیں کچھ


نوید صاحب السلام علیکم،
یوں تو خرم شہزاد خرم کے توسط سے آپ سے غائبانہ تعارف موجود ہے مگر براہِ راست بات آج پہلی مرتبہ ہو رہی ہے امید ہیکہ کہ بات دور تک چلے گی،
بہت عمدہ غزل کہی ہے مندرجہ بالا مصرعہ جات نے تو گرویدہ کر کے رکھ چھوڑا ہے ، واہ واہ، بہر عمدہ۔
 

آصف شفیع

محفلین
بہت خوب نوید، بطور خاص:
اب یوں بھی نہیں ہے کہ میں بیکار گیا ہوں
اب یوں بھی نہیں ہے کہ کمایا بھی نہیں کچھ

دیکھو تو کسی غم کی تلافی بھی نہیں کی
سوچو تو کسی زخم سے پایا بھی نہیں کچھ
۔۔۔
جس گھر کو مرے نام سے نسبت کی سند ہے
اس گھر میں مرے نام کا رکھا بھی نہیں کچھ
لیکن ایک ذرا تنقیدی نوعیت کی رائے۔
خود توڑ دئے اپنی انا کے در و دیوار
سایہ تو کجا سائے کا جھگڑا بھی نہیں کچھ
اس کا پہلا مصرع جیسا ہے، اس کی ٹکر کا دوسرا مصرع نہیں۔ بلکہ ’سائے کا جھگڑا‘ لگتا ہے کہ محض قافیے کی خانہ پری ہے۔ اس مصرع کو بدلنے کا سوچیں۔

نوید صاحب! بھرپور غزل ہے ۔ جس میں آپ کے شاعرانہ جوہر پوری آب و تاب سے چمکتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اعجاز صاحب نے جو تینوں شعر کوٹ کیے ہیں بہت عمدہ ہیں۔ لفظ " جھگڑا" اتنا برا بھی نہیں لگ رہا۔ بس جون ایلیا کی طرف دھیان جاتا ہے۔ اور صوتی اعتبار سے باقی تمام غزل سے تھو ڑے سے کھردرے پن کا احساس دلاتا ہے۔ ویسے غزل کو زیرِ بحث رکھنے کی لیے شامل کیے رکھیں۔:)
 

ایوب ناطق

محفلین
بہت خوب ۔۔۔۔
غالب نے کہا تھا کہ
گھر میں کیا تھا کہ تیرا غم اسے غارت کرتا
وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرتِ تعمیر سو ہے
ایوب ناطق کہ اٹھے
غم کی غارت گری اسے کہیے
ایک حسرت تھی جس کو گھر نہ کیا
اور نوید صادق بول اٹھے
جس گھر کو مرے نام سے نسبت کی سند ہے
اس گھر میں مرے نام کا رکھا بھی نہیں کچھ
اب تابش دہلوی کو بھی سن لیتے ہیں
کیا قیامت ہے کہ اب اہلِ محلہ تابش
مجھ سے واقف نہیں لیکن مرا گھر جانتے ہیں
یہی روایت کا ارتقا ہے۔۔۔۔
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
خود اپنی گواہی کا بھروسہ بھی نہیں کچھ
اور اپنے حریفوں سے تقاضا بھی نہیں کچھ

خود توڑ دئے اپنی انا کے در و دیوار
سایہ تو کجا سائے کا جھگڑا بھی نہیں کچھ

اب یوں بھی نہیں ہے کہ میں بیکار گیا ہوں
اب یوں بھی نہیں ہے کہ کمایا بھی نہیں کچھ

دیکھو تو کسی غم کی تلافی بھی نہیں کی
سوچو تو کسی زخم سے پایا بھی نہیں کچھ

وہ شکل مرے دھیان میں آئی بھی تھی سو بار
وہ رنگ مری روح میں اُترا بھی نہیں کچھ

جس گھر کو مرے نام سے نسبت کی سند ہے
اس گھر میں مرے نام کا رکھا بھی نہیں کچھ

واہ واہ واہ
کیا کہنے
کیا ہی پیارے اشعار ہیں۔
 
Top