رحمت نکند بر دلِ بی‌چاره‌یِ فرهاد
آن کس که سخن گفتنِ شیرین نشنیده‌ست
(سعدی شیرازی)
وہ آدمی فرہاد کے بےچارے دل پر رحم نہیں کرتا جس نے شیرین کی باتیں نہیں سُن رکھی۔
 
بزبان هر که جز من برود حدیث عشقت
چو معامله ندارد سخن آشنا نباشد
حسان صاحب حافظ کے اس شعر کیا معنی ہے؟
یہ شعر انٹرنیٹ پر سعدی شیرازی سے منسوب ہے، لیکن مجھے گنجور میں ان کی کلیات میں نہیں ملا۔ اس کا ترجمہ ہے:

میرے سِوا ہر وہ ، جس کی زبان پر عشق کی بات جاری ہوتی ہے، چونکہ وہ (عشق سے) سروکار نہیں رکھتا، وہ سخن‌آشنا نہیں ہے۔
 
آفتِ رنگِ حنا دست به‌هم سوده مباد!
خونِ عاشق‌ گنهی نیست، پشیمان نشوی
(بیدل دهلوی)

(تم اپنے) ہاتھوں کو مَل کر رنگِ حِنا پر آفت (کا باعث) نہ ہو! عاشق کا خون کوئی گناہ نہیں ہے، پشیمان مت ہو!
یعنی اے محبوب!اگر تم نے عاشق کے خون سے اپنے ہاتھ پر حنا سجا رکھا ہو اور ازاں‌پس تمہیں اس کام پر افسوس ہو تو پشیمان مت ہو، عاشق کا خون کرنا کوئی گناہ نہیں ہے، دستِ تاسف مَل کر رنگِ حنا کو اپنے ہاتھوں سے محو کرنے کی کوئی حاجت نہیں۔
 
آخری تدوین:
شاید یہ جامی کی بیت نہیں ہے، کیونکہ کلیاتِ جامی میں مجھے یہ بیت نظر نہیں آئی۔

ترجمے کی اصلاح کے لیے بہت بہت شکریہ۔
اور میں نے یہ غزل مولانا جامی کے نام سے آن لائن پڑھی تھی۔

از حسن ملیح خود شوری بجهان کردی
هر زخمیّ بسمل را مصروف خدا کردی
بی جرم و خطاه قتلم از ناز بتان کردی
خود تیغ زدی بر من، نام دیگران کردی
مدهوش به یک ساغر ای پیر مغان کردی
دل بُردی و جان بُردی بی تاب و توان کردی
این جامی بیچاره از عشق تو آواره
آوارهء غربت را در خاک نهان کردی

ترجمہ اردو میں درکار ہے رہنمائ فرمایئے ۔۔۔۔۔

از حسن ملیح خود شور بجہاں کردی
ہر زخمی و بسمل را مصروف فغال کردی
بے جرم خطا قتلم از نازِ بتاں کردی
خود تیغ، زدی برمن نام دگراں کردی
مدہوش بیک ساغر اے پیر مغاں کردی
دل بردی و جاں بردی بے تاب و تواں کردی
خود آئینہ روبودی خود آئینہ بے خود
ایں طرفہ تماشا بیں در بزمِ جہاں کردی
شُد جامیٔ بے چارا از عشق تو آوارہ
آوارۂ غربت را در خاک نہاں کردی

از حسن ملیح خود شورِ بجہان کردی
ہر زخمی و بسمل را مصروفِ فغاں کردی

بے جرم و خطا قتلم از نازِ بتان کردی
خود تیغ زدی بر من، نام دیگران کردی

مدہوش به یک ساغر ای پیرِ مغان کردی
دل بُردی و جان بُردی بے تاب و تواں کردی

شد جامئِ بیچاره از عشق تو آواره
آوارۂ غربت را در خاک نہان کردی

اس کلام کا ترجمہ اگر بتا دیں تو مہربانی ہوگی


یہ غزل کسی خواجہ اکبر وارثی کی ہے، جس کا مقطع یہ ہے:

شد اکبرِ بی‌چاره در عشقِ تو آواره
آواره‌یِ غربت را در خاک نهان کردی
 
یہ شعر انٹرنیٹ پر سعدی شیرازی سے منسوب ہے، لیکن مجھے گنجور میں ان کی کلیات میں نہیں ملا۔ اس کا ترجمہ ہے:

میرے سِوا ہر وہ ، جس کی زبان پر عشق کی بات جاری ہوتی ہے، چونکہ وہ (عشق سے) سروکار نہیں رکھتا، وہ سخن‌آشنا نہیں ہے۔
شاعران بسیار گفتند شعرهای با نمک
کس نگفته شعر به مثل سین و عین و دال و یا
اریب صاحب اس شعر کی کیا معنی ہے؟​
 
طریقِ عشق پرآشوب و فتنه‌است ای دل!
بیفتد آنکه درین راه با شتاب رود
(حافظ شیرازی)
اے دل! عشق کا راستہ آشوب اور فتنہ سے پُر ہے۔ جو کوئی بھی تیزی سے اس راہ پر جائے، گِر جاتا ہے۔

حافظ از چشمه‌یِ حکمت به کف آور جامی
بو که از لوحِ دلت نقشِ جهالت برود
(حافظ شیرازی)
اے حافظ! حکمت کے چشمے سے ایک جام اپنے ہاتھ میں لے۔ شاید تیرے دل کے تختے سے نقشِ جہالت مِٹ جائے۔
 
هیچ یابم نه اثر جز به لبِ جان‌بخشت
هر قدر بهرِ شفا گِردِ مسیحا گشتم
(علامه عنایت الله مشرقی)
میں شفا کے لئے جس قدر بھی مسیحا کے گِرد پھرتا رہا، تیرے جان‌بخش لبوں کے بجُر کوئی اثر نہیں پا سکا۔
 
مثنوی معنوی میں مولوی رومی مسئلہء جبر و قدر کے حوالے سے شیر اور نخچیروں (شکاروں) کی حکایت بیان کرتے ہیں، جس میں شیر کوشش اور جدوجہد کی اہمیت واضح کرتا ہے جبکہ نخچیر توکل کی اہمیت بیان کرتے ہوئے جبرِ محض اور ترکِ جہد کی نصیحت کرتے ہیں۔کوشش اور جدوجہد کے حوالے سے اس حکایت سے چند اشعار درجِ ذیل ہیں:۔

گفت پیغامبر به آوازِ بلند
با توکل زانویِ اشتر ببند

پیغمبر نے بلند آواز سے کہا ہے: توکل کے ساتھ اونٹ کے گھٹنے باندھ دو (یعنی حفاظت کے جو اسباب ہیں، وہ بھی اختیار کر)

رمزِ الکاسب حبیب الله شنو
از توکل در سبب کاهل مشو

الکاسب حبیب اللہ (کسب کرنے والا اللہ کا دوست ہے) کا نکتہ سُنو۔ توکل کی وجہ سے سبب کے معاملہ میں سست نہ بنو (یعنی انسان کو اسباب اختیار کرنے میں سستی نہ کرنی چاہیے)

پایه پایه رفت باید سویِ بام
هست جبری بودن اینجا طمعِ خام

کوٹھے پر رفتہ رفتہ چڑھنا چاہیے۔اس مقام پر جبری ہونا خام‌خیالی ہے۔

پای داری، چون کنی خود را تو لنگ؟
دست داری، چون کنی پنهان تو چنگ

تو پیر رکھتا ہے، کیوں اپنے کو لنگڑا بناتا ہے؟تو ہاتھ رکھتا ہے، پنجہ کو کیوں چھپاتا ہے؟


سعی شکرِ نعمتِ قدرت بود
جبرِ تو انکارِ آن نعمت بود

کوشش قدرت کی نعمت کا شکر ادا کرنا ہے۔اور تیرا جبری ہونا اس نعمت کا انکار ہے

شکرِ نعمت نعمتت افزون کند
کفرِ نعمت از کفت بیرون کند

نعمت پر شکر ادا کرنا تیری نعمت کو بڑھائے گا۔اور نعمت کا کفر (اس کو) تیرے قبضے سے نکال دے گا۔

جبرِ تو خفتن بود، در ره مخسپ!
تا نبینی آن در و درگه، مخسپ!

اپنے آپ کو مجبور سمجھنا سوجانا ہے، راستہ میں نہ سو۔جب تک اس دَر اور درگاہ کو نہ دیکھ لے، نہ سو!

گر توکل می‌کنی در کار کن
کسب کن پس تکیه بر جبار کن

اگر تو توکل کرتا ہے، کاروبار میں کر۔ کما، اور پھر اللہ پر بھروسہ کر

جهد حق‌ست و دوا حق‌ست و درد
منکر اندر نفیِ جهدش جهد کرد

کوشش حق ہے، اور دوا کرنا حق ہے اور درد (حق) ہے۔منکر اپنی کوشش کی نفی میں کوشاں ہے (یعنی جدوجہد کا منکر اس انکار میں خود جدوجہد کرتا ہے)۔


مترجم: قاضی سجاد حسین
 
ز بازپرسِ قیامت چه غم که بس باشد
وسیله‌یِ سرِ زلفش سیاه‌کاران را
(میر تقی میر)
قیامت کی بازپُرس کا کیا غم کہ کافی ہوگا
اس کی زلف کا وسیلہ سیاہ‌کاروں کو ۔


مترجم: افضال احمد سید
 
یک نگاهِ پسِ مژگان و دو صد نومیدی
جانِ قربانیِ اندازِ تو دشوار رود
(میرتقی میر)
ایک پسِ مژگاں نگاہ اور دو سو ناامیدیاں
تجھ پر قربان ہونے والے کی جان مشکل سے نکلتی ہے۔


مترجم: افضال احمد سید
 
ای فلک طورِ ستم از دل‌برِ من یاد گیر
ریخت خونِ یک جهان از ناز و ابرو خم نه شد
(میر تقی میر)
اے فلک! میرے دل‌بر سے ستم کا طریقہ سیکھ
ناز سے ایک جہان کا خون بہا دیا اور ابرو (تک) خم نہیں ہوئے۔


مترجم: افضال احمد سید
 
از عصا و سبحه و سجاده و صوم و صلوة
ره‌نمایِ عالمی شد شیخ و خود آدم نه شد
(میر تقی میر)
عصا، تسبیح، سجادہ اور روزے نماز سے شیخ ایک دنیا کو ہدایت کرنے والا بن گیا لیکن خود آدمی نہیں بنا

مترجم: افضال احمد سید
 
میر تقی میر کی ایک فارسی غزل افضال احمد سید کے ترجمے کے ساتھ:

وا رفتگان ز کویِ تو هرگاه می‌روند
جان می‌دهند هر قدم و راه می‌روند

وا رفتگان تیرے کوچے سے جب گزرتے ہیں، ہر قدم پر جان دیتے ہیں اور راستہ چلتے ہیں۔

ناچار هر سحر ز درت بی‌کسانِ عشق
در دیده‌ها سرشک و به لب آه می‌روند

ناچار ہر صبح تیرے دروازے سے عشق کے بےکس آنکھوں میں آنسو اور لب پر آہ کے ساتھ چلے جاتے ہیں۔

ما خود فقط به زلف و زنخ مبتلا نه‌ایم
خوبان به ریسمانِ تو در چاه می‌روند

فقط ہم خود ہی زلف اور زنخ میں مبتلا نہیں ہیں۔خوباں بھی تیری رسی سے کنویں میں چلے جاتے ہیں۔

با رویِ ضوفشان چو به مهتاب می‌رسی
انجم به چشم‌ روشیِ ماه می‌روند

اپنے ضوفشاں چہرے کے ساتھ جب تو چاندنی میں پہنچتا ہے، ستارے چاند کو مبارک‌باد دینے کے لئے جاتے ہیں۔

مستانه پا منهِ که جهان شیشه‌خانه است
ره رو چنان که مردمِ آگاه می‌روند

پاؤں مستانہ نہ رکھ کہ دنیا شیشہ‌خانہ ہے۔اس طرح راستہ چل جیسے آگاہ لوگ چلتے ہیں۔

افتادگانِ عشق به تحریکِ اشتیاق
با کوهِ درد و غم چو پرِ کاه می‌روند

عشق کے ناتواں شوق کے اکسانے پر درد و غم کا پہاڑ اٹھائے تنکے کی طرح اڑے جاتے ہیں۔

ای میر! غفلت از سفرِ مرگ خوب نیست
یاران و دوستان همه ناگاه می‌روند
(میر تقی میر)
اے میؔر! موت کے سفر سے غفلت اچھی نہیں ہے۔یار دوست سبھی اچانک چلے جاتے ہیں۔


مترجم: افضال احمد سید
 
نی شور به سر مانده و نی زور به پا ماند
از عمر همین حسرتِ بسیار به‌جا ماند

نہ سر میں شور باقی رہا نہ پیروں میں طاقت باقی رہی۔زندگی میں یہی بےانتہا حسرت بچی رہ گئی ہے۔

زاهد که به تقوایِ تمامی ز جهان رفت
در رهنِ می‌اش خرقه و تسبیح و رِدا ماند

زاہد کہ تمام تقوے کے ساتھ جہان سے چلا گیا۔اس کا خرقہ اور تسبیح اور چادر شراب (کے عوض) رہن رہ گئے۔

پُرغافلی از وقتِ عزیز آه وگرنه
هر گام در این بادیه یوسف ز تو وا ماند
(میر تقی میر)
(تو) وقتِ عزیز سے آہ بہت غافل ہے وگرنہ اس بیابان میں ہر قدم پر یوسف تجھ سے چُھوٹا جا رہا ہے۔

مترجم: افضال احمد سید
 
Top