خواہش ( ایک پرانی کوشش)

عین لام میم

محفلین
اے میرے ہم نش۔یں!
کبھی ایسا بھی ہو
کہ یہ جسم و جاں
تیرے اپنے ہی ہوں
مگر
جب تُو دیکھے کوئی آئینہ
تو چہرہ میرا
ہو ترے روبرو
تُو کرے گفتگو
گفتگو تُو کرے اور ایسے کرے
کہ سُننے والے کرنے لگیں یہ گماں
کہ تُو تجھ میں نہیں ہے
ب۔۔۔س!
میں ہوں وہاں۔ ۔ ۔
 

عین لام میم

محفلین
:sad2::brokenheart:
لگتا ہے میری شاعری کے بارے میں لا علمی کو گستاخی سمجھا گیا ہے اور اب کے کسی نے تبصرہ کرنے کے قابل بھی نہیں سمجھا۔ ۔ ۔
:worried:
 
نہیں عین لام میم۔ یہ شاعری میری نظر سے ابھی ہی گزری۔۔۔ اور بلاشبہ خوبصورت خیال ہے کہ
جب تُو دیکھے کوئی آئینہ
تو چہرہ میرا
ہو ترے روبرو
تُو کرے گفتگو

بہت اعلیٰ۔۔۔ زبردست۔
 

الف عین

لائبریرین
یہ میں نے دیکھی ہی نہیں تھی علم۔
اچھی نظم ہے۔ اکثر مصرعے اسے آزاد نظم بناتے ہیں، اگر دو ایک مصرعے جو مکمل نثری ہیں، ان کو بھی بحر میں کر دیا جائے تو اچھی آزاد نظم ہو سکتی ہے۔
آزاد نظم اور نثری نظم کا فرق پر کہیں گفتگو کو چکا ہوں۔
بشرطے فرصت اس کو بھی اصلاح کر دوں گا،
 

عین لام میم

محفلین
بہت شکریہ جناب۔ ۔
میں کوشش کروں گا کہ امتحانات سے فارغ ہو کر سارے فورم کی مکمل "فورم نوردی" کروں اور جہاں جہاں شاعری کی اصطلاحات بیان کی گئی ہیں ان سے استفادہ کروں۔ ۔، ۔ ۔
انشاءاللہ آپ کو زحمت دیتا رہوں گا۔ ۔ ۔

ولسلام
 

عین لام میم

محفلین
خواہ۔ش (آزاد یا نثری نظم!)

اے میرے ہم نش۔یں!
کبھی ایسا بھی ہو
کہ یہ جسم و جاں
تیرے اپنے ہی ہوں
مگر
جب تُو دیکھے کوئی آئینہ
تو چہرہ میرا
ہو ترے روبرو
تُو کرے گفتگو
گفتگو تُو کرے اور ایسے کرے
کہ سُننے والے کرنے لگیں یہ گماں
کہ تُو تجھ میں نہیں ہے
ب۔۔۔س!
میں ہوں وہاں۔ ۔ ۔
 
Top