خوابوں میں تیرے ، گر میری خواہش نہیں ‌ہوگی

ظفری

لائبریرین

خوابوں میں تیرے ، گر میری خواہش نہیں ‌ہوگی
مجھ سے تیری آنکھوں کی ، پرستش نہیں ہوگی

آواز میری بیٹھ تو سکتی ہے ، تھکن سے
لہجے میں میرے مگر ، گذارش نہیں ہوگی

ہو فکر جسے خود ، وہ میرا حال پرکھ لے
مجھ سے تو میرے غم کی ، نمائش نہیں ہوگی

مانے کے نہ مانے مجھے شہزاد ، زمانہ
یہ طے ہے کہ مجھ سے ، کوئی سازش نہیں ہوگی
 

گرو جی

محفلین
ہو فکر جسے خود ، وہ میرا حال پرکھ لے
مجھ سے تو میرے غم کی ، نمائش نہیں ہوگی

عمدہ جناب
بہت اعلی
 

عندلیب

محفلین
خوابوں میں تیرے ، گر میری خواہش نہیں ‌ہوگی
مجھ سے تیری آنکھوں کی ، پرستش نہیں ہوگی
بہت خوب !
 
Top