خطاط شفیق الزماں از انور انصاری

سیدہ شگفتہ

لائبریرین


خطاط شفیق الزماں

از

انور انصاری



السلام علیکم

اس ربط پر چند صفحات پر مشتمل ایک اچھا مضمون وارث بھائی نے پوسٹ کیا ہے یہ اسکین صفحات میں موجود ہے اس کا پہلا صفحہ میں نے ٹائپ کر لیا ہے آغاز کے طور پر ، اب آپ تمام اراکین کو دعوت ہے کہ اس کا ایک ایک صفحہ (یا جتنے صفحات دل چاہے) ٹائپ کرتے جائیں ۔ ٹائپ کرنے کے لیے لائبریری رکنیت ضروری نہیں ہے لہٰذا تمام اراکین دلچسپی رکھنے کی صورت میں شریک ہوسکتے ہیں ۔ کرنا یوں ہے کہ جو ایک رکن جب یہاں صفحہ ٹائپ کر کے یہاں پوسٹ کر دیں تو اپنے بعد کسی دوسرے رکن کا نام لکھ دیں یہاں اگلا صفحہ ٹائپ کرنے کے لیے :happy:

اس کی ٹائپنگ مکمل ہوجانے کے بعد پروف ریڈنگ اعجاز انکل کریں گے اور ای بک نایاب بھائی بنائیں گے ۔

ای بک کا ٹائٹل بھی بنانا ہو گا ، اس کے لیے کوئی ایک رکن اپنا نام دے سکتے ہیں ۔

شکریہ


نوٹ : ٹائپ کرنے کے لیے اسکین صفحات اس ربط پر موجود ہیں ۔ آپ جو صفحہ / صفحات ٹائپ کریں اس کا ربط بھی ساتھ دیتے جائیں ۔



 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین

پہلا اسکین صفحہ اس ربط پر موجود ہے ۔



متن



لگ بھگ دو سال قبل مسجد نبوی میں خطاطی کے لیے ایک بہت ہی اعلٰی پائے کے خطاط کی ضرورت کے پیش نظر حکومت سعودی عرب اور محکمہ اوقاف مدینہ منورہ نے دنیا بھر کے خطاط فنکاروں کے درمیان ایک مقابلہ کا اہتمام کیا ۔ ترکی ، عربی ، مصری ، فلسطینی ، سورین اور برصغیر پاک و ہند کے فنکاروں نے اس مقابلے میں حصہ لیا ۔ ترکی سے براہ راست بہت سے خطاطوں نے اپنے نمونے بھیج کر اس مقابلے میں خصوصی طور پر طبع آزمائی کی ۔ اس مقابلے کے سلسلے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ چونکہ مقابلہ میں شریک کسی بھی فنکار کے فن پارے پر فنکار کا نام درج نہیں تھا اس لیے کسی سفارش یا شخصی جانبداری کا خدشہ نہیں تھا ۔ سب کو اس بات پر مکمل یقین تھا کہ جس فنکار کا کام سب سے اچھا ہو گا اور اس بات کا اہل ہو گا کہ وہ مسجد نبوی میں اپنے جوہر دکھا سکے ، اسی کو منتخب کیا جائے گا لہٰذا تمام فنکار اس کے نتیجے کا انتظار کرنے لگے ۔

خوش قسمتی سے منصف اعلی ممتاز ترک استاذ احمد ضیاء الدین ابراہیم سمیت تمام منصفین اور محکمہ اوقاف کے فیصلے کے مطابق شفیق صاحب کے فن پارے کو کسی ترک استاذ کا فن پارہ سمجھ کر سب سے بہتر قرار دے دیا گیا ۔ بعد میں تمام ججوں اور محکمہ اوقاف کو یہ جان کر ازحد مسرت بھی ہوئی اور تعجب بھی ہوا کہ یہ کسی پاکستانی خطاط کا کام ہے ۔ اس کے بعد شفیق الزماں کو مسجد نبوی میں خطاطی کے لیے منتخب کر لیا گیا ۔ جب سے اب تک انھوں نے دس گنبدوں میں کام کے علاوہ "باب البقیع" اور "باب الرحمتہ" کے گنبدوں میں خط ثلث میں اپنی خطاطی کا کام مکمل کر لیا ہے اور اب ان دنوں محراب الرسول کے اوپر "ریاض الجنتہ" کے گنبدوں میں خطاطی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔

اب تک محکمہ اوقاف ، مسجد نبوی کے منتظمین اور ترکی کے متعدد اساتذہ شفیق صاحب کی خطاطی سے بے انتہاء متاثر اور خوش ہیں اور شفیق صاحب بھی اپنی خصوصی دلچسپی ، پوری ذمہ داری اور دیانتداری سے مسجد نبوی میں اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین



سکین صفحہ کا ربط


انور انصاری

خطاط شفیق الزماں

شفیق الزماں 1956 میں چکلالہ (راولپنڈ ی) میں پیدا ہوئے۔ اس زمانے میں ان کے والد محترم ولی محمد خاں (مرحوم) پاکستان ایئر فورس (گراؤنڈ مینٹیننس) میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ شفیق صاحب کی پیدائش کے ایک یا دو سال بعد ہی ان کے والد کا تبادلہ کراچی ہو گیا۔ اور وہ اپنے والدین کے ہمراہ کراچی منتقل ہو گئے اور تاحال کھوکھرا پار میں سکونت پذیر ہیں۔ شفیق صاحب اپنے سات بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ سب سے پہلے بڑے بھائی، پھر وہ، اس کے بعد تین بھائی چھوٹے ہیں۔ اس کے علاوہ شفیق صاحب کی دو چھوٹی بہنیں بھی ہیں۔ ملیر ہی میں انہوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ ابتداء ہی سے انہیں خوش خطی لکھنے کا بہت شوق تھا۔ یہی وجہ ہے کہ صاف اور خوشخط لکھ کر تمام امتحان اچھے نمبروں سے پاس کرتے رہے۔ اسکول کے زمانے میں وہ ایک ممتاز طالب علم کے طور پر سامنے آئے اور طالب علم دوستوں اور اساتذہ میں یکساں طور پر مقبول رہے۔ اسکول کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بھرپور طور پر حصہ لیتے تھے۔ تصویری اور خطاطی کے مقابلوں میں کئی بار انعامات حاصل کر کے اسکول کا نام روشن کیا۔ گھر میں دینی ماحول کی وجہ سے والدین نے ہمیشہ شفیق صاحب کی لکھی ہوئی خطاطی کی حوصلہ افزائی کی اور رفتہ رفتہ خود شفیق صاحب کو فنِ خطاطی سے اس قدر لگاؤ اور رغبت میں جنون کی سی کیفیت پیدا ہو گئی کہ وہ مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ اس کے بعد 1976ء میں شفیق صاحب کی شادی ہو گئی اور ماشاءاللہ اب وہ دو بچوں کے والد ہیں۔
اپنے فن کی پیاس بجھانے کے لئے سب سے پہلے انہوں نے پینٹر کا کام شروع کیا اور ہر طرح کے سائن بورڈ بنانے لگے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ وہ بندر روڈ پر کسی کمپنی کا سائن بورڈ عربی میں بنا رہے تھے کہ اتفاق سے وہاں ایک عرب کا گزر ہوا۔ وہ عرب ان کی خطاطی سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے شفیق صاحب کو سعودی عرب میں عربی لکھنے کے لئے ملازمت کی پیش کش کی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ اپنے شوق کی تکمیل کے لئے انہوں نے مدینہ منورہ میں اپنے کام کا آغاز کیا۔ اس طرح انہوں نے چودہ پندرہ سال سعودی عرب میں مختلف کمپنیوں کے لئے عربی خطاطی میں گزار دیئے۔ اس دوران شفیق صاحب نے دنیا بھر کے مستند خطاطوں کے لکھے ہوئے کتبات اور ترکی، مصری، سورین کتابوں کی مدد سے عربی خطاطی سیکھنے کا عمل جاری رکھا۔ اب وہ اس قابل ہو گئے ہیں کہ عربی کے تمام مروجہ خطوط بڑی آسانی سے لکھ لیتے ہیں۔ وہ رقعہ، دیوانی، کوفی، نستعلیق (ایرانی)، نسخ، اجازہ، اور طغراء کے علاوہ خطوں کے بادشاہ " خط ثلث" کو بڑی خوبصورتی اور چابکدستی سے لکھتے ہیں اور آج انہوں نے اس فن میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلامی دنیا میں وہ نام پیدا کر لیا ہے کہ جس کا لوگ صرف خواب دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے دنیائے خطاطی کے عظیم ترین استاد حامد الآمدی (مرحوم) کے اسلوب کو اپنایا ہے اور اپنے لکھے ہوئے طغروں میں اتنی مہارت اور جاذبیت پیدا کر لی کہ دونوں کے فن پاروں میں فیصلہ کرنا ناممکن ہو
 

فرحت کیانی

لائبریرین
السلام علیکم
شگفتہ مضمون کی ٹائپنگ اپڈیٹس کا انتظام ہونا چاہئیے۔ میں دوسرا صفحہ ٹائپ کرتے ہوئے اسی ڈر میں رہی کہ کوئی اور رکن بھی یہی صفحہ ٹائپ نہ کر رہے ہوں۔
 

محمد وارث

لائبریرین
میں معذرت خواہ ہوں کہ آج کل زیادہ ٹائپنگ کرنے سے معذور ہوں، اسکین وغیرہ میں مشقت کم ہے :) لیکن آپ دونوں کا فوری طور پر اس مضمون کو ٹائپ کرنے سے میری ساری محنت بھی ٹھکانے لگ گئی ہے :)

نوازش!
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
السلام علیکم
شگفتہ مضمون کی ٹائپنگ اپڈیٹس کا انتظام ہونا چاہئیے۔ میں دوسرا صفحہ ٹائپ کرتے ہوئے اسی ڈر میں رہی کہ کوئی اور رکن بھی یہی صفحہ ٹائپ نہ کر رہے ہوں۔

ٹھیک ہے فرحت اس طرح ہو جائے پھر ،

ایک صفحہ شمشاد بھائی کا ، ایک نایاب بھائی کا ، ایک فہیم کا ، ایک طالوت بھائی ، ایک صفحہ شکاری بھائی ، ایک موجو بھائی ، یہ آٹھ صفحات ہو جائیں گے ، اب بچے گا ایک آخری صفحہ تو فہیم ایکسپریس کے دو صفحات ہونا چاہیں :happy:


شمشاد بھائی ، آپ تمام اراکین کو مطلع کر دیں گے ، شکریہ

 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 467 یعنی کہ آخر سے تیسرا صفحہ بھی لکھ کر پوسٹ ہو گیا ہے۔ یعنی کہ آخری تین صفحے لکھ کر پوسٹ کر دیئے ہیں۔
 

نایاب

لائبریرین

ٹھیک ہے فرحت اس طرح ہو جائے پھر ،

ایک صفحہ شمشاد بھائی کا ، ایک نایاب بھائی کا ، ایک فہیم کا ، ایک طالوت بھائی ، ایک صفحہ شکاری بھائی ، ایک موجو بھائی ، یہ آٹھ صفحات ہو جائیں گے ، اب بچے گا ایک آخری صفحہ تو فہیم ایکسپریس کے دو صفحات ہونا چاہیں :happy:


شمشاد بھائی ، آپ تمام اراکین کو مطلع کر دیں گے ، شکریہ

السلام علیکم
مجھے کونسے صفحات ٹائپ کرنا ہیں ۔ ؟
نایاب
 

شمشاد

لائبریرین
نہیں استانی جی میں نے کسی کو نشاندہی نہیں کی تھی لیکن میں نے آخر کے تین صفحے ٹائپ کر کے پوسٹ کر دیئے تھے۔
 
Top