خائف و تائب کی ذاتی تخلیق کردہ شاعری

یہ ایک شعر لکھا ہے جو محفل میں ابودجانہ المنصور کا تعارف میں بھی لکھ چکا ہے۔ یہاں اس لیے لکھا ہے کہ یہ متعلقہ صفحہ جو ہے۔ ان دوست کا شکریہ جنہوں نے اس طرف توجہ دلا کر راہنمائی میں بھی کوئی کسر نہ اٹھائی ۔ اللہ ان سب کو بہترین بدلہ عنایت فرمائے
 
پلا اب جام رحمت کا میں تیرے در پہ آیا ہوں
بھکاری بن کے ٹوٹے دل کے ٹکڑے ساتھ لایا ہوں
زخم خوردہ میں اپنے نفس و شیطان کے فریبوں کا
لہو دل کے سیاہ پارے دکھانے تجھ کو آیا ہوں
سوالی ہوں نہ منگتا ہوں کسی در کا مگر تیرا
ترے در پر تجھی سے میں فغاں کرنے کو آیا ہوں
مری جھولی میں موتی ہے نہ ٹکڑا کانچ کا کوئی
ندامت ہی ندامت ہے یہی میں ساتھ لایا ہوں
سنا ہے ساقی کے در کے نہیں مڑتے کبھی منگتے
میں منگتا بن کے جام عشق پینے خوب آیا ہوں
بہا کر زندگانی غفلت و عصیاں کی دلدل میں
میں جل بھن کر ترے در پر سہارا لینے آیا ہوں
اداب در سے بھی واقف نہیں منگتا مگر تائب
ترے عفو و کرم کی میں تمنالے کےآیا ہوں
 

متلاشی

محفلین
قافیہ غائب؟ ردیف کے بغیر تو غالباً نظم یا غزل ہو جاتی ہے مگر قافیہ کے بغیر میرے خیال سےممکن نہیں۔۔َ!

اس شعر میں املا کی غلطی بھی ہے اور میرے خیال سے زخم کا درست تلفظ زخْم ہے ۔۔۔ !
زخم خوردہ میں اپنے نفس و شیطان کے فریبوں کا​
لہو دل کے سیاہ پارے دکھانے تجھ کو آیا ہوں​
کی بجائے​
زخم خوردہ میں اپنے نفس و شیطاں کے فریبوں کا​
لہو دل کے سیہ پارے دکھانے تجھ کو آیا ہوں​

اور اس شعر میں​
اداب در سے بھی واقف نہیں منگتا مگر تائب​
ترے عفو و کرم کی میں تمنالے کےآیا ہوں​
میرے خیال سے آداب کی الف مدولہ کو الف سے نہیں بدلا جا سکتا۔۔۔!
باقی اساتذہ کا اتنظار کرتے ہیں ۔۔۔!
 
قافیہ غائب؟ ردیف کے بغیر تو غالباً نظم یا غزل ہو جاتی ہے مگر قافیہ کے بغیر میرے خیال سےممکن نہیں۔۔َ!

اس شعر میں املا کی غلطی بھی ہے اور میرے خیال سے زخم کا درست تلفظ زخْم ہے ۔۔۔ !
کی بجائے​
زخم خوردہ میں اپنے نفس و شیطاں کے فریبوں کا​
لہو دل کے سیہ پارے دکھانے تجھ کو آیا ہوں​

اور اس شعر میں​
میرے خیال سے آداب کی الف مدولہ کو الف سے نہیں بدلا جا سکتا۔۔۔ !
باقی اساتذہ کا اتنظار کرتے ہیں ۔۔۔ !
جزاک اللہ خیرا
جی مجھے بھی انتظار ہے
 
قافیہ غائب؟ ردیف کے بغیر تو غالباً نظم یا غزل ہو جاتی ہے مگر قافیہ کے بغیر میرے خیال سےممکن نہیں۔۔َ!

اس شعر میں املا کی غلطی بھی ہے اور میرے خیال سے زخم کا درست تلفظ زخْم ہے ۔۔۔ !
کی بجائے​
زخم خوردہ میں اپنے نفس و شیطاں کے فریبوں کا​
لہو دل کے سیہ پارے دکھانے تجھ کو آیا ہوں​

اور اس شعر میں​
میرے خیال سے آداب کی الف مدولہ کو الف سے نہیں بدلا جا سکتا۔۔۔ !
باقی اساتذہ کا اتنظار کرتے ہیں ۔۔۔ !
جزاک اللہ خیرا
جی مجھے بھی انتظار ہے
 
قافیہ غائب؟ ردیف کے بغیر تو غالباً نظم یا غزل ہو جاتی ہے مگر قافیہ کے بغیر میرے خیال سےممکن نہیں۔۔َ!

اس شعر میں املا کی غلطی بھی ہے اور میرے خیال سے زخم کا درست تلفظ زخْم ہے ۔۔۔ !
کی بجائے​
زخم خوردہ میں اپنے نفس و شیطاں کے فریبوں کا​
لہو دل کے سیہ پارے دکھانے تجھ کو آیا ہوں​

اور اس شعر میں​
میرے خیال سے آداب کی الف مدولہ کو الف سے نہیں بدلا جا سکتا۔۔۔ !
باقی اساتذہ کا اتنظار کرتے ہیں ۔۔۔ !
جزاک اللہ خیرا
جی مجھے بھی انتظار ہے
 
قافیہ غائب؟ ردیف کے بغیر تو غالباً نظم یا غزل ہو جاتی ہے مگر قافیہ کے بغیر میرے خیال سےممکن نہیں۔۔َ!

اس شعر میں املا کی غلطی بھی ہے اور میرے خیال سے زخم کا درست تلفظ زخْم ہے ۔۔۔ !
کی بجائے​
زخم خوردہ میں اپنے نفس و شیطاں کے فریبوں کا​
لہو دل کے سیہ پارے دکھانے تجھ کو آیا ہوں​

اور اس شعر میں​
میرے خیال سے آداب کی الف مدولہ کو الف سے نہیں بدلا جا سکتا۔۔۔ !
باقی اساتذہ کا اتنظار کرتے ہیں ۔۔۔ !
جزاک اللہ خیرا
جی مجھے بھی انتظار ہے
 
جناب متلاشی ، بہت شکریہ آپ کے اعتماد پر۔

ایک بات جو قاری کی توجہ فوراً کھینچ لیتی ہے:
خائف و تائب کی ذاتی تخلیق کردہ شاعری
’’ذاتی تخلیق کردہ‘‘؟ تو کیا شاعری اپنی تخلیق کردہ نہیں ہوتی؟ یا اس میں کوئی خاص نکتہ پوشیدہ ہے؟ کچھ فرمائیے گا۔
’’خائف و تائب‘‘ سے مجھے یوں لگا کہ اس تاگے میں دو شاعروں کا کلام رہا ہو گا۔

اور
پگل جاتا ہے تائب دل مرا کیسا دیوانہ ہے
کبھی اس کی برات اس کا نکاح ہونا جو سن لے یہ
اس پر میں کیا عرض کروں؟

اس تاگے کو مزید دیکھتا ہوں، اگر کچھ کہہ سکا تو ضرور کہوں گا۔
 
جناب ابودجانہ المنصور ، سب سے پہلے تو یہ فرمائیے کہ ’’تائب‘‘ کیا آپ کا تخلص ہے؟

جواب نمبر 3 میں لکھے گئے اشعار پر بات کی جا سکتی ہے۔ شرط صرف ایک ہے کہ یہ کاوش یا تو آپ کی اپنی ہے یا اسے یہاں مباحث کے لئے پیش کرنے میں صاحبِ کلام کی رضامندی شامل ہے؟ ۔۔ تیسری صورت میں معذرت!
 
جناب ابودجانہ المنصور ، سب سے پہلے تو یہ فرمائیے کہ ’’تائب‘‘ کیا آپ کا تخلص ہے؟

جواب نمبر 3 میں لکھے گئے اشعار پر بات کی جا سکتی ہے۔ شرط صرف ایک ہے کہ یہ کاوش یا تو آپ کی اپنی ہے یا اسے یہاں مباحث کے لئے پیش کرنے میں صاحبِ کلام کی رضامندی شامل ہے؟ ۔۔ تیسری صورت میں معذرت!
جی ہاں جناب من یہ اس دھاگے میں جو بھی اشعار کی قسم میں سے پیش کروں گا وہ میری اپنی کاوش ہو گی اور اب تک جو پیش کر چکا ہوں وہ بھی میری اپنی کاوشیں ہیں۔ یہاں پیش کرنے کا مقصد شاعری میں بہتری لانا ہے۔ برائے مہربانی مدد فرمائیں
 
جناب ابودجانہ المنصور ، سب سے پہلے تو یہ فرمائیے کہ ’’تائب‘‘ کیا آپ کا تخلص ہے؟

جواب نمبر 3 میں لکھے گئے اشعار پر بات کی جا سکتی ہے۔ شرط صرف ایک ہے کہ یہ کاوش یا تو آپ کی اپنی ہے یا اسے یہاں مباحث کے لئے پیش کرنے میں صاحبِ کلام کی رضامندی شامل ہے؟ ۔۔ تیسری صورت میں معذرت!
اور جی ہاں تائب میرا تخلص ہے پہلے میں خائف کے تخلص کے ساتھ لکھتا تھا بعض دوستوں نے اس پر اعتراض کیا تو میں نے بدل کر تائب کر دیا
 
جناب متلاشی ، بہت شکریہ آپ کے اعتماد پر۔

ایک بات جو قاری کی توجہ فوراً کھینچ لیتی ہے:

’’ذاتی تخلیق کردہ‘‘؟ تو کیا شاعری اپنی تخلیق کردہ نہیں ہوتی؟ یا اس میں کوئی خاص نکتہ پوشیدہ ہے؟ کچھ فرمائیے گا۔
’’خائف و تائب‘‘ سے مجھے یوں لگا کہ اس تاگے میں دو شاعروں کا کلام رہا ہو گا۔

اور

اس پر میں کیا عرض کروں؟

اس تاگے کو مزید دیکھتا ہوں، اگر کچھ کہہ سکا تو ضرور کہوں گا۔
اگر راہنمائی کرنے والا ہی مایوسی دکھائے گا تو سیکھنے والا کیسے آگے بڑھے گا ۔ برائے مہربانی آپ اپنے ما فی الضمیر کا اظہار کریں تا کہ مجھے کچھ سیکھنے کو ملے
 
انتظار ان کا مگر آرزو نہیں ہے دل میں رہتے بس وہی ہیں مگر جستجو نہیں ہے ہم یہ کس بستی میں آکر رکے ہیں ہمدمیہ مکاں ہے وہ مکاں ؟راہ رَو نہیں ہےاب میرے ابا سے کہہ دو: کہیں چلا جا سر زمینِ پاک میں برقی رو نہیں ہے کہاں ہے مجنوں؟میں ہوں مجنوں ادہر نہ جاؤتَو، لہو مانگے ہے لیلی، جی وہ نہیں ہے قافلے منزل کو کھو کر بھٹک رہے ہیںجھاڑیاں ہیں ہر طرف، پیش رو نہیں ہے یہ ہے الفت یہ محبت دھری ہوئی ہے تیرگی ہر سو ،کوئی خوبرو نہیں ہے ہر کوئی کہتا ہے تائبؔ وہ بے وفا تھا بے وفا ہو گا مگر آبرو نہیں ہے
 
Top