1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

ن م راشد حَسَن کوزہ گر (٣) ۔ ن م راشد

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 10, 2013

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,649
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold

    حَسَن کوزہ گر (٣)

    جہاں زاد،
    وہ حلب کی کارواں سرا کا حوض، رات وہ سکوت
    جس میں ایک دوسرے سے ہم کنار تیرتے رہے
    محیط جس طرح ہو دائرے کے گرد حلقہ زن
    تمام رات تیرتے رہے تھے ہم
    ہم ایک دوسرے کے جسم و جاں سے لگ کے
    تیرتے رہے تھے ایک شاد کام خوف سے
    کہ جیسے پانی آنسوؤں میں تیرتا رہے

    ہم ایک دوسرے سے مطمئن زوالِ عمر کے خلاف
    تیَرتے رہے
    تو کہہ اٹھی؛ “حَسَن یہاں بھی کھینچ لائی
    جاں کی تشنگی تجھے!“
    (لو اپنی جاں کی تشنگی کو یاد کر رہا تھا مَیں
    کہ میرا حلق آنسوؤں کی بے بہا سخاوتوں
    سے شاد کام ہو گیا!)
    مگر یہ وہم دل میں تَیرنے لگا کہ ہو نہ ہو
    مرا بدن کہیں حلب کے حوض ہی میں رہ گیا ___
    نہیں، مجھے دوئی کا واہمہ نہیں
    کہ اب بھی ربطِ جسم و جاں کا اعتبار ہے مجھے
    یہی وہ اعتبار تھا
    کہ جس نے مجھ کو آپ میں سمو دیا ___
    مَیں سب سے پہلے “آپ“ ہُوں
    اگر ہمیں ہوں ___ تُو ہو او مَیں ہوں ___ پھر بھی مَیں
    ہر ایک شے سے پہلے آپ ہوں!
    اگر مَیں زندہ ہوں تو کیسے “آپ“ سے دغا کروں؟
    کہ تیری جیسی عورتیں، جہاں زاد،
    ایسی الجھنیں ہیں
    جن کو آج تک کوئی نہیں “سلجھ“ سکا
    جو مَیں کہوں کہ مَیں “سلجھ“ سکا تو سر بسر
    فریب اپنے آپ سے!
    کہ عورتوں کی وہ ساخت ہے وہ طنز اپنے آپ پر
    جواب جس کا ہم نہیں ____

    (لبیب کون ہے؟ تمام رات جس کا ذکر
    تیرے لب پہ تھا ____
    وہ کون تیرے گیسوؤں کو کھینچتا رہا
    لبوں کو نوچتا رہا

    جو مَیں کبھی نہ کر سکا
    نہیں یہ سچ ہے ____میں ہوں یا لبیب ہو
    رقیب ہو تو کس لیے تری خود آگہی کی بے ریا نشاطِ ناب کا
    جو صدا نوا و یک نوا خرام ِ صبح کی طرح
    لبیب ہر نوائے سازگار کی نفی سہی!)
    مگر ہمارا رابطہ وصالِ آب و گِل نہیں، نہ تھا کبھی
    وجودِ آدمی سے آب و گِل سدا بروں رہے
    نہ ہر وصالِ آب و گِل سے کوئی جام یا سبو ہی نہ بن سکا
    جو اِن کا ایک واہمہ ہی بن سکے تو بن سکے!

    جہاں زاد،
    ایک تو اور ایک وہ اور ایک مَیں
    یہ تین زاویے کسی مثلثِ قدیم کے
    ہمیشہ گھومتے رہے
    کہ جیسے میرا چاک گھومتا رہا
    مگر نہ اپنے آپ کا کوئی سراغ پا سکے ____
    مثلثِ قدیم کو مَیں توڑ دوں، جو تو کہے، مگر نہیں
    جو سحر مجھ پہ چاک کا وہی ہے اِس مثلثِ قدیم کا
    نگاہیں میرے چاک کی جو مجھ کو دیکھتی ہیں
    گھومتے ہوئے
    سبو و جام پر ترا بدن، ترا ہی رنگ، تیری نازکی
    برس پڑی
    وہ کیمیا گری ترے جمال کی برس پڑی
    مَیں سَیل ِ نُور ِ اندروں سے دھُل گیا!
    مرے دروں کی خلق یوں گلی گلی نکل پڑی
    کہ جیسے صبح کی اذاں سنائی دی!
    تمام کوزے بنتے بنتے “تُو“ ہی بن کے رہ گئے
    نشاط اِس وصالِ رہ گزر کی ناگہاں مجھے نگل گئی ___
    یہی پیالہ و صراحی و سبو کا مرحلہ ہے وہ
    کہ جب خمیر ِ آب و گِل سے وہ جدا ہوئے
    تو اُن کو سمتِ راہِ نَو کی کامرانیاں ملیں ____
    (مَیں ایک غریب کوزہ گر
    یہ انتہائے معرفت
    یہ ہر پیالہ و صراحی و سبو کی انتہائے معرفت
    مجھے ہو اس کی کیا خبرِ؟)

    جہاں زاد،
    انتظار آج بھی مجھے ہی کیوں وہی مگر
    جو نو برس کے دور ِ نا سزا میں تھا؟

    اب انتظار آنسوؤں کے دجلہ کا
    نہ گمرہی کی رات کا
    (شبِ گُنہ کی لذّتوں کا اتنا ذکر کر چکا
    وہ خود گناہ بن گئیں!)
    حلب کی کارواں سرا کے حوض کا، نہ موت کا
    نہ اپنی اس شکست خوردہ ذات کا
    اِک انتظار ِ بے زماں کا تار ہے بندھا ہوا!
    کبھی جو چند ثانیے زمانِ بے زماں میں آکے رک گئے
    تو وقت کا یہ بار میرے سر سے بھی اُتر گیا
    تمام رفتہ و گزشتہ صورتوں، تمام حادثوں
    کے سست قافلے

    مِرے دروں میں جاگ اُٹھے
    مرے دروں میں اِک جہانِ بازیافتہ کی ریل پیل جاگ اُٹھی
    بہشت جیسے جاگ آُٹھے خدا کے لا شعور میں!
    مَیں جاگ اٹھا غنودگی کی ریت پر پڑا ہُوا
    غنودگی کی ریت پر پڑے ہوئے وہ کوزے جو
    ___مرے وجود سے بروں____
    تمام ریزہ ریزہ ہو کے رہ گئے تھے
    میرے اپنے آپ سے فراق میں،
    وہ پھر سے ایک کُل بنے (کسی نوائے ساز گار کی طرح)
    وہ پھر سے ایک رقص ِ بے زماں بنے
    وہ روئتِ ازل بنے!​
     
    • زبردست زبردست × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. سید زبیر

    سید زبیر محفلین

    مراسلے:
    4,362
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    بہت خوب !
    یہی پیالہ و صراحی و سبو کا مرحلہ ہے وہ
    کہ جب خمیر ِ آب و گِل سے وہ جدا ہوئے
    تو اُن کو سمتِ راہِ نَو کی کامرانیاں ملیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,649
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    شکریہ سید زبیر صاحب!
     
  4. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,422
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    بہت خوب شراکت
    ن م راشد کا کلام اک بار تو سوچ و خیال میں تند و تیزآندھی ابھارتا ہے ۔
    پھر وجدان میں رم جھم پھوار کی صورت برستا ہے ۔۔۔۔
    جہاں زاد،
    ایک تو اور ایک وہ اور ایک مَیں
    یہ تین زاویے کسی مثلثِ قدیم کے
    ہمیشہ گھومتے رہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,649
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    شکریہ جناب!
     
  6. چودھری مصطفی

    چودھری مصطفی محفلین

    مراسلے:
    406
    سبو و جام پر ترا بدن، ترا ہی رنگ، تری نازکی برس پڑی
    وہ کیمیا گری ترے جمال کی برس پڑی
    میں سیل نور اندروں سے دھل گیا
    مرے دروں کی خلق یوں گلی گلی نکل پڑی
    جیسے صبح کی اذاں سنائی دی
    تمام کوزے بنتے بنتے تو ہی بن کے رہ گئے
    نشاط اس وصال رہ گزر کی ناگہاں مجھے نکل گئی!
     
  7. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,649
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    سبو و جام پر ترا بدن، ترا ہی رنگ، تیری نازکی ​
    برس پڑی​
    وہ کیمیا گری ترے جمال کی برس پڑی​
    مَیں سَیل ِ نُور ِ اندروں سے دھُل گیا!​
    مرے دروں کی خلق یوں گلی گلی نکل پڑی​
    کہ جیسے صبح کی اذاں سنائی دی!​
    تمام کوزے بنتے بنتے “تُو“ ہی بن کے رہ گئے​
    نشاط اِس وصالِ رہ گزر کی ناگہاں مجھے نگل گئی ___​
     

اس صفحے کی تشہیر