حقہ سگریٹ سے زیادہ خطرناک

زیک

مسافر
ایک میٹا انالسس کے مطابق حقے کا ایک سیشن ایک سگریٹ کے مقابلے میں 125 گنا دھواں، 25 گنا ٹار، 2.5 گنا نکوٹین اور 10 گنا کاربن مونوکسائڈ ڈیلیور کرتا ہے۔

ایک سگریٹ اور ایک حقے کا سیشن بالکل برابر نہیں ہیں مگر پھر بھی حقہ صحت کے لئے کافی خطرناک لگ رہا ہے۔

پیپر کا لنک

سائنس ڈیلی
 

محمد وارث

لائبریرین
حقہ برصغیر کی ثقافت کا صدیوں سے حصہ رہا ہے۔ چوپالوں میں، دوستوں کی محفلوں میں یا گھروں میں جہاں کچھ بڑے افراد اکھٹے ہوتے تھے تو حقہ اس محفل کا لازمی حصہ ہوتا تھا۔ جب کہ جدید شیشہ حقہ ایک فیشنی حقہ ہے جس کے باقاعدہ ریسٹورنٹ ہیں اور یہ شاید مشرق وسطیٰ سے ہو کر پاکستان کی طرف آیا ہے اور دوسروں ملکوں میں بھی پھیلا ہے۔ روایتی حقے میں عام سا تمباکو ڈالا جاتا تھا جو کھلے لچھوں کی شکل میں ملتا تھا، بعض دفعہ اس کی کڑواہٹ کم کرنے کے لیے اس میں حقے کی ٹوپی میں تمباکو کے ساتھ گُڑ کی ایک ڈلی بھی رکھ لی جاتی تھی۔ جدید شیشہ حقے میں قسم قسم کے ذائقے دار تمباکو ملتے ہیں بلکہ یہ منشیات کے استعمال کے لیے بھی عام استعمال ہوتا ہے۔

روایتی حقہ اب ختم ہونے کے قریب ہے، شہروں میں تو شاید ہی کوئی پیتا ہو، دیہاتوں میں اب بھی بڑے بوڑھے پیتے ہوں گے۔ روایتی حقے کی مینجمنٹ بھی ایک مشکل کام ہے، تمباکو جلانے کے لیے اس کی ٹوپی میں جلتے ہوئے اپلے رکھنے پڑتے تھے جو کہ ایک دقت طلب کام ہے۔

یادش بخیر، چھوٹا تھا تو نانا مرحوم کا خالی حقہ گڑ گڑایا کرتا تھا۔ آخری دفعہ کوئی بیس برس پہلے ایک بزرگ کے جلتے ہوئے حقے کا کش فرمایش کر کے لگایا تھا اور اس کے بعد آدھ گھنٹہ کھانستا رہا تھا، گو میں اُس زمانے میں کوئی چالیس سگریٹ روزانہ کے پیتا تھا لیکن حقے کے ایک کش سے مجھے یوں لگا تھا جیسے سینکڑوں سگریٹوں کا کش لگا لیا ہو۔

اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے مجھے حقے شیشے سے محفوظ رکھا ہوا ہے، اپنا سگریٹ سب سے اچھا :)
 

محمد وارث

لائبریرین
ایک اور بات جو ایک بار مجھے والدہ نے بتائی تھی اور انہوں نے اپنے بچپن میں اُسے دیکھا بھی تھا کہ غیر مسلم لوگ مسلمانوں کے حقے سے کش نہیں لگا سکتے تھے اور غیر مسلموں کے حقے کے ساتھ ایک ہڈی بندھی ہوتی تھی جس کو دیکھ کر کوئی مسلم اُس کو نہیں پیتا تھا۔
 
ہم چھوٹے تھے تو گھر پر دادا جان کے حقے کے ٹکڑوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ تب دادا جان سروس سے ریٹائر ہو چکے تھے اور تمباکو نوشی بھی ترک کر چکے تھے۔ کھراد مشین کی مدد سے بنائی گئی اس کی ڈیزائنر نلی جو چلم اور پیندے کو جوڑنے کے کام آتی تھی، وہ ہمیں بہت اچھی لگتی تھی۔ البتہ اس میں تمباکو کی بو کچھ ایسی رچ گئی تھی کہ سالوں بعد بھی اس کے اثرات پوری طرح زائل نہیں ہوئے تھے، اس لیے ہمیں تھوڑی سی کراہیت بھی محسوس ہوتی تھی۔ :) :) :)
 

فاتح

لائبریرین
ایک اور بات جو ایک بار مجھے والدہ نے بتائی تھی اور انہوں نے اپنے بچپن میں اُسے دیکھا بھی تھا کہ غیر مسلم لوگ مسلمانوں کے حقے سے کش نہیں لگا سکتے تھے اور غیر مسلموں کے حقے کے ساتھ ایک ہڈی بندھی ہوتی تھی جس کو دیکھ کر کوئی مسلم اُس کو نہیں پیتا تھا۔
ہمارے ہاں سندھ میں اب بھی غیر مسلموں کے برتنوں میں مسلمان نہیں کھاتے اور نہ اپنے برتنوں میں غیر مسلموں کو کھانے دیتے ہیں بلکہ جونہی آپ حیدر آباد سے آگے نکلتے ہیں تو سڑک کے کنارے جا بجا چائے کے کھوکھوں اور ریستورانوں کے ناموں اور بورڈز پر یہ وضاحت لکھی ہوئی ملتی ہے تا کہ کہیں کوئی غلطی سے بھی گناہ گار نہ ہو جائے۔
ہمارے ہاں کولہی، بھیل، میگھواڑ اور مسیحی مزدوروں کے لیے عموماً لوگوں نے اپنے گھروں کے باہر بجلی کے میٹر کے ڈبوں پر ایک گندا سا یا ٹوٹا ہوا کپ اور گلاس رکھا ہوتا ہے تا کہ انجانے میں کسی گناہ سے بچا جا سکے۔
 
ادھر دبئی میں تو شیشہ بہت زیادہ عام ہے ۔۔۔ ہر فائواسٹار ہوٹل میں ایک ریسٹوراں ہوتا ہے جو شیشہ فراھم کرتا ہے لیکن ایک اسپیسیفک ایج کے افراد کے لیے از پر دبئی میونسیپلٹی 21ئیرز سے بلو ایج کو الوڈ نہیں ہے۔۔۔ موسٹلی لوکل افراد (یو اے ای نیشنال) میں زیادہ فیمس ہے۔۔


ایک اور بات جو ایک بار مجھے والدہ نے بتائی تھی اور انہوں نے اپنے بچپن میں اُسے دیکھا بھی تھا کہ غیر مسلم لوگ مسلمانوں کے حقے سے کش نہیں لگا سکتے تھے اور غیر مسلموں کے حقے کے ساتھ ایک ہڈی بندھی ہوتی تھی جس کو دیکھ کر کوئی مسلم اُس کو نہیں پیتا تھا۔

بلکل ایسا ہی ہے کیوں کہ میں حیدرآباد سے ہوں سو ، ایک مرتبہ بابا جانی کے ساتھ کسی گاؤں جانا ہوا کسی انکل کی شادی تھی وہاں پہ انہوں نے ناں مسلمز کے لیے الگ سے کھانے کا اھتمام کیا ہوا تھا ۔۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے !!
 
[QUOTE="محمد وارث, post: 1727517, member: 1121"
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے مجھے حقے شیشے سے محفوظ رکھا ہوا ہے، اپنا سگریٹ سب سے اچھا :)[/QUOTE]
سر،
سگریٹ اور اچھا ؟؟؟؟:rolleyes:
ہمارے بابا جانی کوئی تیس برس تک سگریٹ پیتے رہے ۔۔۔ ہم سب نے ہر چیز آزمالی لیکن سگریٹ چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔۔
مجھے یاد ہے 2003 میں عمرہ ادا کرنے گئےمدینے شریف مسجد نبوی میں اعتکاف رکھا اور وہیں سگریٹ کو خیراباد کردیا ۔۔ آج کوئی بارہ سال ہونے کو ہیں پھر کبھی سگریٹ کو ہاتھ تک نہیں لگایا ۔۔ اب صورتحال یہ ہے اگر کوئی ان کے سامنے سگریٹ نوشی فرمائے تو ان کو اچھا نہیں لگتا الرجی ہوتی ہے۔۔۔
میں نے آج تک سگریٹ کو ہاتھ تک نہیں لگایا حالانکہ یونیورسٹی میں سارے دوست سگریٹ نوشی کرتے رہے۔۔۔۔
بس شروع سے ہماری امی جاں نے سکھایا کہ سگریٹ بری بلا ہے اس کے قریب نھیں جانا، الحمد اللہ سگریٹ سے بچے ہوئے ہیں۔۔:cool:

آپ سے سر التماس ہے پلز جتنا جلدی ہو سکے سگریٹ ترک کریں کیوں کہ یہ سگریٹ صحت کے بہت زیادہ مضر ہے ۔۔
پتہ نہیں کیوں ایک عادت سی ہوگئی ہے جو سگریٹ پیتے ہیں سب سے یہئ التماس کرتا ہوں۔۔ اپنے باس کو کوئی سو بار کھ چکا ہوں ہر بار یہئ کھتے ہیں تراب تم اپنی کوشش جاری رکھو جلد ہی سگریٹ ترک کرونگا لیکن کرتے نہیں۔۔۔
شکریہ۔:):)
 

موجو

لائبریرین
حقہ چونکہ ہمارے اپنے معاشرے کا حصہ لگتا ہے اس لیے یہ اپنا اپنا لگتا ہے اور سگریٹ موئی فرنگن
میں نےپنجاب اور یہاں اسلام آباد میں عیسائیوں کے برتن علیحدہ دیکھے ہیں واللہ مجھے تو بڑا دکھ ہوتا ہےہاں مگر کسی ولایتی عیسائی کے ساتھ کھانا قابل فخر سمجھا جاتا ہے۔
 

اکمل زیدی

محفلین
حقہ کے نام سے ذہن میں کسی نقصاندہ چیز کا تصور نہیں آتا ذہن میں پتا نہیں کیوں ۔۔۔
images


اس لیے کے حقے کے ساتھ اس طرح کا کیرکٹر بھی ساتھ زہن میں آتا ہے :) ہے نا ؟
 
ہمارے ہاں سندھ میں اب بھی غیر مسلموں کے برتنوں میں مسلمان نہیں کھاتے اور نہ اپنے برتنوں میں غیر مسلموں کو کھانے دیتے ہیں بلکہ جونہی آپ حیدر آباد سے آگے نکلتے ہیں تو سڑک کے کنارے جا بجا چائے کے کھوکھوں اور ریستورانوں کے ناموں اور بورڈز پر یہ وضاحت لکھی ہوئی ملتی ہے تا کہ کہیں کوئی غلطی سے بھی گناہ گار نہ ہو جائے۔
ہمارے ہاں کولہی، بھیل، میگھواڑ اور مسیحی مزدوروں کے لیے عموماً لوگوں نے اپنے گھروں کے باہر بجلی کے میٹر کے ڈبوں پر ایک گندا سا یا ٹوٹا ہوا کپ اور گلاس رکھا ہوتا ہے تا کہ انجانے میں کسی گناہ سے بچا جا سکے۔
یہاں کویت میں عدنان کے کولیگ ڈاکٹر ہیں انڈیا سے متھیو نام ہے انکی پوری فیملی ہمارے گھر آتی رہتی ہے لیکن وہ لوگ جب بھی آتے ہیں کچھ نہ کچھ بنا کر لاتے ہیں کھیر وغیرہ تو اکثر لاتے رہتے ہیں ہم دونوں کو کھا لیتے ہیں انفکٹ ابھی بھی کھاتے ہیں
ہمارے گھر میں میں بھی کھانا بنا ہو متھیو بھائی کی فیملی ہمارے ساتھ ایک ہی ڈائٹنگ پر بیٹھ کر ہمارے ساتھ ہی کھانا کھاتے ہیں اور کویتی گھروں میں بھی تقریباً زیادہ تر باورچی خادمہ بھی ہندو ہے یا عیسائی ہیں یہاں تو کبھی کسی نے ایسا نہیں سوچا
 

اکمل زیدی

محفلین
یہاں کویت میں عدنان کے کولیگ ڈاکٹر ہیں انڈیا سے متھیو نام ہے انکی پوری فیملی ہمارے گھر آتی رہتی ہے لیکن وہ لوگ جب بھی آتے ہیں کچھ نہ کچھ بنا کر لاتے ہیں کھیر وغیرہ تو اکثر لاتے رہتے ہیں ہم دونوں کو کھا لیتے ہیں انفکٹ ابھی بھی کھاتے ہیں
ہمارے گھر میں میں بھی کھانا بنا ہو متھیو بھائی کی فیملی ہمارے ساتھ ایک ہی ڈائٹنگ پر بیٹھ کر ہمارے ساتھ ہی کھانا کھاتے ہیں اور کویتی گھروں میں بھی تقریباً زیادہ تر باورچی خادمہ بھی ہندو ہے یا عیسائی ہیں یہاں تو کبھی کسی نے ایسا نہیں سوچا

سوچنا چاہیے ...نہیں سوچا تو اب سوچیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :)
 
Top